أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

قَالَتۡ يٰۤاَيُّهَا الۡمَلَؤُا اَفۡتُوۡنِىۡ فِىۡۤ اَمۡرِىۡ‌ۚ مَا كُنۡتُ قَاطِعَةً اَمۡرًا حَتّٰى تَشۡهَدُوۡنِ ۞

ترجمہ:

(ملکہ بلقیس نے) کہا اے سردارو ! میرے اس معاملہ میں مجھے مشورہ دو ، میں اس وقت تک کوئی قطعی فیصلہ نہیں کرسکتی جب تک کہ تم (مشورہ کے ساتھ) حاضر نہ ہو

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : (ملکہ بلقیس نے) کہا، اے سردارو ! میرے اس معاملہ میں مشورہ دو ، میں اس وقت تک کوئی قطعی فیصلہ نہیں کرسکتی جب تک کہ تم (مشورہ کے ساتھ) حاضر نہ ہو۔ انہوں نے کہا ہم بہت طاقت والے اور سخت جنگ جو ہیں اور فیصلہ کرنے کا آپ کو اختیار ہے، آپ سوچ کر بتایئے کہ آپ کیا حکم دیتی ہیں !۔ اس نے کہا بادشاہ جب کسی شہر میں دخل ہوتے ہیں تو اسے اجاڑ دیتے ہیں اور اس کے معززین کو روسا کردیتے ہیں اور وہ (بھی) ایسا ہی کریں گے۔ (النمل : ٣٤-٣٢)

مشورہ کی اہمیت 

ہد ہد حضرت سلیمان (علیہ السلام) کا مکتوب لے کر بلقیس کے پاس غیر معمولی طریقہ سے پہنچا تھا، اس کو پڑھ کر بلقیس بہت مرعوب اور سخت دہشت زدہ ہوگئی۔ حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے فرمایا تھا تم میرے مقابلہ میں سر نہ اٹھانا اور میرے اطاعت گزار ہو کر میرے پاس حاضرہو جانا، اب دو صورتیں تھیں یا تو بلقیس حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے خلاف مقابلہ کیلئے تیار ہوتی یا اللہ پر ایمان لا کر ان کی مطیع ہو کر ان کے پاس حاضر ہوجاتی، وہ دیکھ چکی تھی کہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی پرندوں پر بھی حکومت تھی سو ایسے غیر معمولی حکمران سے مقابلہ کرنے سے وہ خوفزدہ تھی اس لئے اس نے اپنے دربار کے سرداروں سے مشورہ لیا۔ اس میں یہ اشارہ بھی ہے کہ انسان کو چاہیے کہ وہ اپنی رائے کو حرف آخر نہ سمجھے اور کسی اہم پیش آمدہ معاملہ میں اپنے دوستوں اور خیر خواہوں سے مشورہ لے۔ اس آیت میں مشورہ کے جواز کی دلیل ہے قرآن مجید میں ہے :

وشادرھم فی الامر (آل عمران : ١٥٩) اور (اہم) معاملات میں ان سے مشورہ لیجیے۔

وامرھم شوریٰ بیننہم (الشوری : ٣٨) اور ان کے معاملات باہمی مشوروں سے ہوتے ہیں۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 27 النمل آیت نمبر 32