أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

قَالَتۡ يٰۤاَيُّهَا الۡمَلَؤُا اِنِّىۡۤ اُلۡقِىَ اِلَىَّ كِتٰبٌ كَرِيۡمٌ ۞

ترجمہ:

(ملکہ سبا نے) کہا اے میرے سردارو ! بیشک میرے پاس ایک معزز مکتوب پہنچایا گیا ہے

ہد ہد کا بلقیس پہنچانا 

علامہ سید محمود آلوسی حنفی متوفی ١٢٧٠ ھ لکھتے ہیں :

روایت ہے کہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے مکتوب لکھ کر اس پر مشک لگا کر اس کو بند کیا پھر اس پر مہرلگائی اور وہ خط ہد ہد کو دے دیا جب وہ خط لے کر اس کے محل میں پہنچا تو وہ سوئی ہوئی تھی، اس نے دروازے بند کر کے چابیاں اپنے سرہانے رکھی ہوئی تھیں، ہد ہد روشن دان سے کمرے میں داخل ہوا اور وہ مکتوب اس کے سینہ کے اوپر پھینک دیا۔ ایک قول یہ ہے کہ ہد ہد نے چونک مار کر اس کو جگایا تو وہ گھبرا کر اٹھ گئی، جب اس نے خط پر مہر لگی ہوئی دیکھی تو وہ کا نپنے لگی۔ بلقیس عربی پڑھی ہوئی تھی اس نے مہر توڑ کر خط نکال کر پڑھ لیا۔ (روح المعانی جز 19 ص 289-2901)

خط پڑھنے کے بعد بلقیس نے اپنے دربارویں سے اس خط کے متعلق مشورہ کیا، ملکہ سبا نے اے میرے سردارو ! بےتشک میرے پاس معزز مکتوب پہنچایا گیا ہے، بیشک وہ مکتوب سلیمان کی جانب سے ہے اور بیشک وہ اللہ ہی کے نام سے (شروع کیا گیا ہے) جو بہت مہربان نہایت رحم والا ہے۔ 

نبی کے ادب سے ایمان پانا اور نبی کی بےادبی سے ایمان سے محروم ہونا اور دنیا اور آخرت کی ذلت 

بقیس نے حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے مکتوب کو کریم اور معزز کہا اور ان کے مکتوب کی تکریم کی، اور نبی کی تکریم کرنے کی برکت سے اسلام اس کے دل میں داخل ہوا جیسے فرعون کے جادوگروں نے مقابلہ کے وقت حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی تکریم کی اور ان سے کہا اے موسیٰ ! آپ پہلے ڈلایں گے یا ہم پہلے ڈلایں تو بنی کے ادب اور احترام کرنے کی برکت سے ان کو ایمان لانا نصیب ہوا، اس کے برخلاف جب ہمارے نبی سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کسریٰ کی طرف مکتوب روانہ کیا تو اس نے اس مکتوب کی بےادبی کی سو وہ ایمان سے محروم ہوا اس کو قتل کردیا گیا اور اس کی سلطنت پارہ پارہ ہوگئی اور اس کو دنیا اور آخرت خسارہ ہوا، حدیث میں ہے، حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک شخص کو اپنا مکتوب دے کر بھیجا کہ وہ یہ مکتوب بحرین کے حاکم کو دے، حاکم بحرین نے وہ مکتوب کسریٰ کو دے دیا، جب اس نے اس مکتوب کو پڑھا تو اس کو پڑھ کر ٹکڑے ٹکڑے کردیا سو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کے خلاف دعا کی کہ ان کے بھی پورے پورے ٹکڑے کر یدئے جائیں۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ٦٤، ٢٩٣٩، ٤٤٤٤، ٧٢٦٤ )

علامہ بدر الدین محمود بن احمد عینی متوفی ٨٥٥ ھ لکھتے ہیں :

امام بخاری نے کتاب المغازی میں لکھا ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جس شخص کے ہاتھ مکتوب بھجیا تھا وہ حضرت عبداللہ بن حذافہ تھے، اور بحران کے جس حاکم کے نام خط بھیجا تھا اس کا نام منذر بن ساوی تھا اور بحرین بصرہ اور عمان دو شہر ہیں، ان کو بحرین اس لئے کہتے ہیں کہ اس کی بستیوں کی جانب ایک خلیج ہے (یعنی سمندر ایک ٹکڑا) اور ہجر کی بستیاں اس کے اور سمندر کے دس فرسخ کے فاصلہ پر ہیں گویا یہ شہر خلیج اور سمندر کے درمیان ہیں۔

(ڈاکٹر غلام جیلانی برق نے لکھا یہ : خلیج فارس کے مغربی ساحل پر ایک چھوٹی سی ریاست جس کا رقبہ انداز اً ڈھائی سو مربع میل ہے اور ١٩٧٢ ء میں اس کی آباید دو لاکھ کے قریب تھی۔ یہ بحرین ہے۔ (معجم البلدان اردو : ٦١ )

کسریٰ فارس کے بادشاہوں کا لقب ہے جیسے قصر روم کے بادشاہوں کا لقب ہے اور جس کسریٰ نے آپ کا مکتوب مبارک پھاڑا تھا اس کا نام پرویز بن ھرمزبن انوشروان تھا۔ اس کسریٰ پر اس کا بیٹا شرویہ مسلط ہوگیا اور اس نے اپنے باپ کو قتل کردیا اور اس کی سلطنت ٹکڑے ٹکڑے ہوگئی۔ امام ابن سعد نے ذکر کیا ہے کہ جب کسریٰ نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے مکتوب کو پھاڑ دیا اس نے یمن میں اپنے گورنر باز ان کو لکھا کہ وہ حجاز کے اس شخص کے پاس دو آدمیوں کو اس شخص کی تتیش کے لئے بھیجے اور وہ حالات معلوم کر کے میرے پاس آئیں۔ باز ان نیدو آدمی آپ کے پاس بھیجے۔ انہوں نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو بازان مکاک مکتوب دیا، آپ نے ان کو اسلام کی دعوت دی تو وہ خوف سے کپکپانے لگے۔ آپ نے فرمایا اپنے سردار کو بتادینا کہ میرے رب نے اس کے رب کسریٰ کو آج رات چند گھنٹے پہلے قتل کردیا ہے یہ دس جمال الاولیٰ سات ہجر کی رات تھی بازان نے بھی کہا تھا اگر یہ سچے نبی ہیں تو ان کی کہی ہوئی بات پوری ہوجائے گی۔(عمدۃ القاری جز ٢ 28-29 مطبوعہ ادارۃ الطباعتہ المنیر یہمصر، 1348 ھ)

پرویز کا شخص نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا گستاخ تھا اس لیے مسلمان اپنے بچوں کا نام پرویز نہیں رکھتے۔

القرآن – سورۃ نمبر 27 النمل آیت نمبر 29