أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

قَالَ سَنَـنۡظُرُ اَصَدَقۡتَ اَمۡ كُنۡتَ مِنَ الۡكٰذِبِيۡنَ ۞

ترجمہ:

سلیمان نے کہا ہم دیکھتے ہیں کہ تم نے سچ کہا ہے یا تم جھوٹوں میں سے ہو

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : (حضرت سلیمان نے) کہا ہم دیکھتے ہیں کہ تم نے سچ کہا ہے یا تم جھوٹوں میں سے ہو۔ میرا یہ مکتوب لے جائو اور اسے ان کے پاس ڈال دو ، پھر ان سے پشت پھیر لو اور دیکھو کہ وہ کیا جواب دیتے ہیں۔ ملکہ سبا نے کہا اے میرے سردارو ! بیشک میرے پاس ایک معزز مکتوب پہنچایا گیا ہے۔ بیشک وہ مکتوب سلیمان کی جانب سے ہے اور بیشک وہ اللہ ہی کے نام سے (شروع کیا گیا) ہے جو بہت مہربان نہایت رحم فرمانے والا ہے۔ یہ کہ تم میرے مقابلہ میں سر نہ اٹھائو اور مسلمن ہو کر میرے پاس آجائو۔ (النمل :27-31)

خبر واحد اور خبر متواتر وغیرہ کی تعریفیں اور ان کے احکام 

یہ آیات ایک سوال کے جواب میں ہیں، سوال یہ ہے کہ جب ہد ہد نے اپنی پوری بات سنا دی تو حضرت سلیمان نے فرمایا، اس کے جواب میں حضرت سلیمان نے فرمایا، ہم دیکھتے ہیں کہ تم نے سچ کہا ہے یا تم جھوٹوں میں سے ہو، حضرت سلیمان کے اس فرمان میں یہ دلیل ہے کہ خبر واحد صدق اور کذب دونوں کا احتمال رکھتی ہے، خبر واحد وہ ہے جو متواتر کے مقابلہ ہو اور خبر متواتر اسے کہتے ہیں کہ ابتداء سے آخر تک ہر دور میں اس کے بیان کرنے والے اتنے زیادہ ہوں کہ وہ عقل کے نزدیک جھوٹ پر متفق نہ ہو سکیں اور جو خبر اس درجہ تک نہ پہنچی ہو وہ خبر واحد ہے خواہ وہ خبر مشہور ہو خبر عزیز ہو یا خبر غریب ہو، خبر مشہور وہ ہے جس کے بیان کرنے والے پہلے دور میں تو اتنے زیادہ نہ ہوں کہ ان کا اتفاق جھوٹ پر نہ ہو سکے لیکن بعد میں اس کے بیان کرنے والے اتنے زیادہ ہوں اور خبر عزیز وہ ہے جس کے سلسلہ سند میں کسی جگہ صرف دور راوی ہوں اور خبر غریب وہ ہے جس کے سلسلہ میں سند میں کسی جگہ صرف ایک راوی ہو۔

حضرت سلیمان کے اس قول میں یہ دلیل بھی ہے کہ ہرچند کہ خبر واحد صدق اور کذب دونوں کا احتمال رکھتی ہے، تاہم خبر واحد سننے کے بعد اس کو بالکل نظر انداز نہیں کیا جاتا، بلکہ اس کی تفتیش کی جائے گی کہ دیگر دلائل اور قرآئن سے اس کا صدق متعین ہوتا ہے یا کذب، اگر اس کا صدق ثابت ہوجائے تو اس خبر کو صادق قرار دیا جائے گا اور اگر اس کا ذب ثابت ہوجائے تو اس کا ذب قرار دیا جائے گا۔ خبر متواتر مفید یقین ہوتی ہے اور خبر واحد مفید ظن ہوتی ہے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 27 النمل آیت نمبر 27