أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

قَالَ عِفۡرِيۡتٌ مِّنَ الۡجِنِّ اَنَا اٰتِيۡكَ بِهٖ قَبۡلَ اَنۡ تَقُوۡمَ مِنۡ مَّقَامِكَ‌ۚ وَاِنِّىۡ عَلَيۡهِ لَـقَوِىٌّ اَمِيۡنٌ‏ ۞

ترجمہ:

ایک بہت بڑے جن نے کہا میں آپ کے مجلس برخواست کرنے سے پہلے اس تخت کو آپ کے پاس حاضر کر دوں گا اور میں اس پر ضرور قادر اور امین ہوں

عفریت کا معنی 

اس آیت میں ہے عفریت من الجن نے کہا، عفریت کا معنی ہے بہت بڑا جن، قوی ہیکل دیو،

علامہ راغب اصفہانی نے کہا جنات میں سے عفریت اس کو کہتے ہیں جو موذی اور خبیث ہو، جیسے بہت بدکار اور سازشی انسان کو شیطان کہا جاتا ہے اسی طرح بہت خبیث جن کو عفریت کہا جاتا ہے (المفردات ج ٢ ص ٤٤١)

امام ابن جریر نے کہا عفریت کا معنی سرکش اور قوی ہے اور اس جن کا نام کو زن تھا۔ (جامع البیان جز 19 ص 197) علامہ آلوسی نے لکھا ہے حضرت ابن عباس سے مروی ہے اس کا نام صخر تھا۔

عفریت من الجن کی پیشکش کہ وہ دربار برخواست ہونے سے پہلے تخت کو حاضر کر دے گا۔

حافظ ابن کثیر متوفی ٧٧٤ ھ لکھتے ہیں :

حضرت ابن عباس (رض) نے بیان فرمایا اس عفریت من الجن نے کہا میں آپ کی مجلس برخواست کرنے سے پہلے اس تخت کو لا کر حاضر کر دوں گا۔ مجاہد، سدی اور دیگر مفسرین نے کہا کہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے درمیان مقدمات کا فیصلہ کرنے اور دیگر کارروائی کے لئے صبح کے اول وقت سے لے کر زوال تک بیٹھتے تھے۔ اس جن نے کہا میں اس تخت کے لانے پر قوی ہوں اور اس میں جو قیمتی ہیرے اور جواہرات جڑے ہوئے ہیں ان پر میں امین ہوں۔ حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے کہا میں اس سے بھی زیادہ جلدی چاہتا ہوں، اس سے معلوم ہوا کہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) اس تخت کو اس لئے منگوانا چاہتے تھے کہ اس سے یہ ظاہر ہو کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو کتنی عظیم سلطنت عطا کی ہے اور حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے لئے ان لشکروں کو مسخر کردیا جن کو ان سے پہلے کسی اور کے لئے مسخر نہیں کیا تھا اور نہ ان کے بعد کسی اور کے لئے ایسی سلطنت فرماں روائی ہوگی اور تاکہ آپ کی یہ سلطنت بلقیس کے سامنے آپ کی نبوت پر دلیل اور معجزہ ہو کیونکہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) شام میں تھے اور بلقیس یمن کے شہر صنعا میں تھی اور ان کے درمیان بہت فاصلہ تھا اور وہ تخت نوکو ٹھڑیوں میں سے نویں کٹھڑی میں تالوں میں بند تھا اور اس کے گرد محافظ اور چوکیدار مستعد بیٹھے تھے۔ (تفسیر کثیر ج ٣ ص ٤٠٠، مطبوعہ دارلافکر بیروت، ١٤١٧ ھ)

سید ابوالاعلیٰ مودودی متوفی ١٣٩٩ ھ لکھتے ہیں :

حضرت سلیمان کے دربار کی نشست زیادہ سے زیادہ تین چار گھنٹے کی ہوگی اور بیت المقدس سبا کے پایہ تخت تارب کا فاصلہ پرندہ کی اڑان سے بھی کم از کم ڈیڑھ ہزار میل کا تھا، اتنے فاصلہ سے ایک ملکہ کا عظیم الشان تخت اتنی کم مدت میں اٹھا لانا کسی انسان کا کام نہیں ہوسکتا تھا خواہ وہ عمالقہ میں سے کتنا ہی موٹا تازہ آدمی کیوں نہ ہو، یہ کام تو آج کل کا جٹ طیارہ بھی انجام دینے پر قادر نہیں ہے۔ مسئلہ اتنا ہی نہیں ہے کہ تخت کہیں جنگل میں رکھا ہو اور اسے اٹھا لایا جائے۔ مسئلہ یہ یہ کہ تخت ایک ملکہ کے محل میں تھا جس پر یقیناً پہرہ دار متعین ہوں گے اور وہ ملکہ کی غیر موجودگی میں ضرور محفوظ جگہ رکھا گیا ہوگا۔ انسان جا کر اٹھا لانا چاہتا تو اس کے ساتھ ایک چھاپہ مار دستہ ہونا چاہیے تھا کہ لڑ بھڑ کر اسے پہرہ داروں سے چھین لائے یہ سب کچھ آخر دربار برخاست ہونے سے پہلے کیسے ہوسکتا تھا اس چیز کا اگر تصور کیا جاسکتا ہے تو ایک حقیقی جن ہی کے بارے میں کیا جاسکتا ہے۔ (تفہیم القرآن ج ٣ ص ٥٧٦ مطبوعہ ادارہ ترجمان القرآن لاہور مارچ 1983 ئ)

القرآن – سورۃ نمبر 27 النمل آیت نمبر 39