أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

قَالَ نَكِّرُوۡا لَهَا عَرۡشَهَا نَـنۡظُرۡ اَتَهۡتَدِىۡۤ اَمۡ تَكُوۡنُ مِنَ الَّذِيۡنَ لَا يَهۡتَدُوۡنَ ۞

ترجمہ:

سلیمان نے حکم دیا کہ اس تخت میں کچھ تغیر کردو تاکہ ہم آزمائیں کہ آیا وہ اس کو پہچاننے کی راہ پاتی ہے یا ان لوگوں میں سے ہے جو راہ نہیں پاتے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : سلیمان نے حکم دیا کہ اس تخت میں کچھ تغیر کردو تاکہ ہم آزمائیں کہ آیا وہ اس کو پہچاننے کی راہ پاتی ہے یا ان لوگوں ہیں سے ہے جو اوہ نہیں پاتے۔ جب بلقیس آئی تو اس سے پوچھا گیا کیا اس کا تخت ایسا ہی ہے ؟ اس نے کہا گویا کہ یہ وہی ہے ‘ اور ہمیں اس سے پہلے ہی علم دیا گیا تھا اور ہم اطاعت گزار ہوچکے تھے۔ اور اس کو (اطاعت سے) اس چیز نے روکا تھا جس کی وہ اللہ کو چھوڑ کر عبادت کرتی تھی ‘ بیشک وہ کافروں میں سے تھی۔ اس سے کہا گیا اس محل میں داخل ہوجا سو جب اس نے اس (شیشے کے فرش) کو دیکھا تو اس نے اس کو گہرا پانی گمان کیا اور اپنی دونوں پنڈلیوں سے کپڑا اونچا کرلیا سلیمان نے کہا بیشک یہ شیشے سے بنا ہوا چکنا محل ہے ‘ بلقیس نے کہا : اے میرے رب ! میں نے اپنی جان پر ظلم کیا ‘ میں سلیمان کے ساتھ اللہ پر ایمان لے آئی جو رب العٰلمین ہے۔ (النمل ٤٤-٤١ )

بلقیس کے ایمان لانے کی تفصیل 

مفسرین نے لکھا ہے کہ جنات کو یہ معلوم تھا کہ بلقیس کی ماں جنیہ تھی اس لیے وہ جنات کے رازہاہئے دروں سے واقف ہے ان کو خدشہ تھا کہ حضرت سیلمان (علیہ السلام) نے اس کو پسند کرلیا اور اس کے ساتھ نکاح کرلیا تو وہ ان کے تمام راز حضرت سیلمان کو بتادے گی اس لیے انہوں نے حضرت سیلمان (علیہ السلام) کو بلقیس سے متنفر کرنے کے لیے کہا تھا اس کی عقل بہت کم ہے۔ سو حضرت سیلمان (علیہ السلام) نے بلقیس کی آزمائش کے لیے حکم دیا کہ اس تخت میں کچھ ردوبدل کردو تاکہ اس کی عقل کا امتحان ہو وہ اپنے تخت کو پہچان پاتی ہے یا نہیں۔

بلقیس نے اس تخت کود یکھ کر پہچان لیا اور کہا گویا کہ یہ وہی ہے ‘ اور گویا کہ اس لیے کہا کہ اس میں کچھ ردوبدل ہوچکا تھا اور وہ سمجھ گئی کہ حضرت سیلمان (علیہ السلام) نے اس کی عقل کا امتحان لینے کے لیے اور اپنی نبوت پر معجزہ پیش کرنے کے لئے میرے پہنچنے سے پہلے اس تخت کو یہاں منگوالیا ہے اور ہم تو یہاں پہنچنے سے پہلے ہی ان کی نبوت کا اعتراف کر کے اطاعت پذیر ہوچکے ہیں۔

اللہ تعالیٰ نے بتایا کہ اس کو اللہ تعالیٰ کی اطاعت سے اس کی سورج پرستی نے باز رکھا تھا ‘ کیونکہ انسان جب کسی کام میں مشغول ہوتا ہے تو وہ کام اس کو اپنی ضد سے بازرکھتا ہے جیسا کہ حدیث میں ہے :

حضرت ابوالدرداء (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کسی چیز کی محبت تم کو (اس کے ماسوا سے) اندھا اور بہرا کردیتی ہے۔ (سنن ابودائود رقم الحدیث : ٥١٣٠)

بلقیس جب اس محل کے قریب پہنچی تو اس سے کیا گیا کہ اس محل میں داخل ہو جائو (الصرح کا معنی ہے بلند عمارت اور خالص چیز) بلقیس نے دیکھا کہ اس محل میں سورج چمک رہا ہے اور اس میں مچھلیاں تیر رہی ہیں تو اس نے سمجھا کہ محل کے صحن میں پانی بھرا ہوا ہے تو اس نے اپنے پائینچے پنڈلیوں سے اوپر اٹھالیے تاکہ اس کا لباس بھیگ نہ جائے۔ حضرت سیلمان نے فرمایا بیشک یہ شیشے سے بنا ہوا چکنا محل ہے ‘ یعنی جس کو وہ پانی گمان کر رہی ہے وہ شیشے کا فرش ہے اس کے نیچے پانی بھرا ہوا ہے جو شیشے میں سے نظرآرہا ہے اس لیے تم کو اس سے بچنے کے لیے پائینچے اوپر اٹھانے کی ضرورت نہیں ہے۔ ممرد کا مدہ مرد ہے اس کا معنی ہے چکنا ‘ جس لڑکے کی داڑھی نہ آئی ہو اس کو امرد کہتے ہیں کیونکہ وہ بھی چکنا ہوتا ہے ‘ جس درخت کے پتے نہ ہوں تو اس کو شجرۃ مرداء کہتے ہیں اور من قواریرکا معنی ہے شیشوں سے اور صرح ممرد من قواریر کا معنی ہے یہ چکنا محل ہے جو شیشوں سے بنا ہوا ہے۔

حضرت سیلمان (علیہ السلام) کے متعدد معجزات دیکھ کر بلقیس ان کی نبوت پر ایمان لے آئی ‘ اور ان کا جو پیغام تھا کہ صرف اللہ کی عبادت کرو ‘ اس کو مان لیا اور اس کو اپنی سابقہ زندگی پر تاسف اور ملال ہوا کہ اس نے سورج کی پرستش کرنے میں اپنی عمر ضائع کی اس لیے اس نے کہا کہ بیشک میں نے سورج کی پرستش کر کے اپنی عمر ضائع کی اور اب میں حضرت سیلمان کے ساتھ اللہ پر ایمان لے آئی ہوں جو تمام جہانوں کا رب ہے ‘ گویا اب بلقیس پر یہ حقیقت منکشف ہوگئی تھی کہ اب تک وہ سورج کی پرستش کرتی رہی تھی اور سورج تو اللہ تعالیٰ کی مخلوقات میں سے ایک مخلوق ہے اور ہر چیز کا رب اللہ تعالیٰہے جو وحدہ لاشریک ہے۔

مفسرین کا اس میں اختلاف ہے کہ حضرت سیلمان (علیہ السلام) نے بلقیس سے خود نکاح کرلیا تھا ‘ یا اس کا نکاح کسی اور سے کردیا تھا۔

بلقیس کے نکاح کے بیان 

امام عبدالرحمن بن محمد بن ادریس ابن ابی حاتم متوفی ٣٢٧ ھ اپنی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں :

عون بن عبداللہ بن عتبہ نے اپنے والد سے سوال کیا ‘ آیا حضرت سیلمان (علیہ السلام) نے ملکہ سبا سے نکاح کرلیا تھا ؟ یا نہیں ‘ انہوں نے کہا مجھے تو صرف اتنا معلوم ہے کہ اس نے کہا میں سلیمان کے ساتھ اللہ رب العٰلمین پر ایمان لائی ہوں۔ (تفسیر امام ابن ابی حاتم رقم الحدیث : ١٦٤٤٩‘ ج ٩ ص ٢٨٩٨‘ مکتبہ نزار مصطفیٰ بیروت)

علامہ سید محمود آلوسی متوفی ١٢٧٠ ھ لکھتے ہیں :

وہب بن منبہ نے بیان کیا کہ جب بلقیس ایمان لے آئی تو حضرت سیلمان نے فرمایا تم اپنی قوم میں سے کسی مرد کو پسند کرلو میں اس کے ساتھ تمہارا نکاح کردوں۔ اس نے کہا میری قوم میں تو سب میرے ماتحت اور غلام ہیں میں ان کی ملکہ رہ چکی ہوں ‘ میں ان کے ساتھ کیسے شادی کرسکتی ہوں ! حضرت سیلمان نے فرمایا اسلام میں نکاح کرنا ضروری ہے تم اسلام کے حلال کو حرام نہیں کرسکتیں۔ اس نے کہا اگر یہ ضروری ہے تو ہمدانکے بادشاہ ذوتبع سے میرا نکاح کردیں۔ حضرت سیلمان نے اس کا ذوتبع سے نکاح کر کے اس کو یمن واپس بھیج دیا اور ذوتبع یمن پر مسلط ہوگیا ‘ جب تک حضرت سیلمان (علیہ السلام) اس دنیا میں زندہ رہے ذوتبع کے ملک کی جنات حفاظت کرتے رہے ‘ ان کے بعد بلقیس اور ذوتبع کع حکومت بھی ختم ہوگئی۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 27 النمل آیت نمبر 41