أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

قَالَ يٰقَوۡمِ لِمَ تَسۡتَعۡجِلُوۡنَ بِالسَّيِّئَةِ قَبۡلَ الۡحَسَنَةِ‌‌ۚ لَوۡلَا تَسۡتَغۡفِرُوۡنَ اللّٰهَ لَعَلَّكُمۡ تُرۡحَمُوۡنَ ۞

ترجمہ:

صالح نے کہا اے میری قوم کے لوگو ! تم بھلائی کی طلب سے پہلے برائی کی طلب میں کیوں جلدی کر رہے ہو ؟ تم اللہ سے گناہوں کی بخشش کیوں طلب نہیں کرتے تاکہ تم پر رحم کیا جائے

حضرت صالح (علیہ السلام) نے اپنی قوم سے کہا : تم بھلائی سے پہلے برائی کی طلب میں کیوں جلدی کر رہے ہو ! (النمل : ٤٦ )

یعنی رحمت سے پہلے عذاب کی طلب میں کیوں جلدی کر رہے ہو ! اللہ پر ایمان لانا باعث ثواب ہے تم اس کو چھوڑ کر اللہ تعالیٰ کا کفر اور انکار کر رہے ہو جو باعث عذاب ہے۔ اس کی یہ تفسیر بھی کی گئی ہے کہ متکبر کافروں نے ہٹ دھرمی اور عناد سے کہا تم ہمیں کفر پر جس عذاب سے ڈراتے ہو وہ عذاب لا کر دکھائو ‘ اس پر حضرت صالح نے ان سے کہا تم اللہ کی رحمت اور اس کے عفو کے بجائے اس کے عذاب کو کیوں جلد طلب کر رہے ہو !

القرآن – سورۃ نمبر 27 النمل آیت نمبر 46