أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

قَالُوۡا تَقَاسَمُوۡا بِاللّٰهِ لَـنُبَيِّتَـنَّهٗ وَ اَهۡلَهٗ ثُمَّ لَـنَقُوۡلَنَّ لِوَلِيِّهٖ مَا شَهِدۡنَا مَهۡلِكَ اَهۡلِهٖ وَاِنَّا لَصٰدِقُوۡنَ ۞

ترجمہ:

انہوں نے کہا سب آپس میں قسمیں کھا کر اللہ سے یہ عہد کرو کہ ہم ضروررات کو صالح اور ان کے گھر والوں پر شب خون ماریں گے ‘ پھر ان کے وارث سے ہم یہ کہیں گے کہ ہم ان کے گھر والوں کے قتل کے موقع پر حاضرہی نہ تھے ‘ اور بیشک ہم سچے ہیں

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : انہوں نے کہا سب آپس میں قسمیں کھا کر اللہ سے یہ عہد کرو کہ ہم ضرور رات کو صالح اور ان کے گھر والوں پا شب خون ماریں گے پھر ان کے وارث سے ہم یہ کہیں گے کہ ہم ان کے گھر والوں کے قتل کے موقع پر حاضرہی نہ تھے اور بیشک ہم سچے ہیں۔ اور انہوں نے خفیہ سازش کی اور ہم نے خفیہ تدبیر کی اور ان کو اس کا شعور بھی نہ ہوا۔ (النمل : ٥٠- ٤٩ )

حضرت صالح کے مخالفین کی سازش کو اللہ تعالیٰ کا ناکام بنانا 

اس اونٹنی کی کونچیں کاٹنے اور ان پر عذاب کی تفصیل امام ابن ابی حاتم نے اپنی سند کے ساتھ روایت کی ہے :

امام محمد بن اسحاق نے کہا کہ ان نو آدمیوں نے مل کر اس اونٹنی کی کونچیں کاٹ دیں پھر انہوں نے کہا چلو مل کر صالح کو قتل کردیں ‘ اگر وہ سچے ہیں تو ان کے عذاب آنے سے پہلے ہم ان کو ہلاک کرچکے ہوں گے اور اگر وہ جھوٹے ہیں تو ہم ان کو ان کی اونٹنی کی طرح ان کے انجام تک پہنچادیں گے۔ وہ شب خون مارنے کے لیے رات کو حضرت صالح کے گھر پہنچے ‘ فرشتوں نے پتھر مارمار کر ان کو ہلاک کردیا ‘ جب وہ وقت مقرر پر اپنے ساتھیوں کے پاس نہیں پہنچے تو ان کے ساتھی ان کو تلاش کرتے ہوئے حضرت صالح (علیہ السلام) کے گھر گئے ‘ وہاں دیکھا کہ وہ خون میں لت پت پڑے تھے اور پتھروں سے ان کو کچل دیا گیا تھا۔ انہوں نے حضرت صالح (علیہ السلام) سے پوچھا کیا آپ نے ان کو قتل کیا ہے اور انہوں نے حضرت صالح (علیہ السلام) پر حملہ کرنے کا ارادہ کیا ‘ تو حضرت صالح کے قبیلہ کے لوگ کھڑے ہوئے اور انہوں نے ہتھیارنکال لیے اور کہا تم ان کو قتل نہیں کرسکتے ‘ انہوں نے تم سے وعدہ کیا ہے کہ تم پر تین دن میں عذاب آئے گا ‘ اگر یہ سچے ہیں تو تم اپنے رب کو زیادہ غضب میں نہ لائو اور اگر یہ (بالفرض) جھوٹے ہیں تو پھر تم تین دن کے بعد جو چاہے کرلینا اور پھر ان نو آدمیوں کے حمایتی واپس چلے گئے۔ (تفسیر امام ابن ابی حاتم رقم الحدیث : ١٦٤٦٨‘ ج ٩ ص ٢٩٠٠)

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 27 النمل آیت نمبر 49