مژدۂ جانفزا

السَّلاَمُ عَلَیْکَ یَااَمِیْرَ المُوْمِنِیْنَ۔

السَّلاَمُ عَلَیْکَ یَا خَلِیْفَۃَ رَسُوْلِ اللّٰہِ۔

السَّلاَمُ عَلَیْکَ یَا صَاحِبَ رَسُوْلِ اللّٰہِ

فِیْ الغَارِ وَرَحْمَۃُ اللّٰہِ وَبَرَکَاتُہٗ۔

سفر مدینہ اور قیام مدینہ میں مصیبتوں اور پریشانیوں کا سامنا کرکے ان پر صبر کرنے والوں کو کیا مژدئہ جانفزا سنایا جارہا ہے اور جن خوش نصیبوں کو مکہ مکرمہ اور مدینہ طیبہ میں موت آگئی ان کو نوید اُخروی مرحمت ہورہی ہے ملاحظہ فرمایئے

جس نے میری قبر کی زیارت کی وہ قیامت کے روز میرے پڑوس میں ہوگا اور جس نے مدینہ میں سکونت اختیار کیا اس کی پریشانیوں پر صبر کیا میں اس کے لئے قیامت کے دن گواہی دوں گا اور شفاعت کروں گا اور جسے حرم مکہ یا حرم مدینہ میں موت آجائے تو قیامت کے دن امن والوں میں اٹھے گا۔ (مشکوٰۃ المصابیح ص؍۲۴۰ )

اذان کے بعد حضور ﷺ کے درجۂ رفیعہ اور وسیلہ کی دعا کرنے والے کیلئے اور زیارت سے مشرف ہونے والے کیلئے خوش خبری ہے : جس نے رسول اللہ  ﷺ کے لئے درجۂ رفیعہ اور وسیلہ کی دعا کی تو اسے حضور  ﷺ کی شفاعت نصیب ہو اور جس نے آپ کی قبر اطہر کی زیارت کی وہ روز قیامت حضور کے پڑوس میں ہو۔ (جذب القلوب ص؍۱۹۷)

ان تمام تر غیبی ارشادات اور فرامین کے پہونچنے کے بعد ہر ایمان و محبت والا اپنے درد عصیاں کی دوا کیلئے یقینا استطاعت ہونے پر مدینہ طیبہ کی جانب دوڑے گا اپنے آقا ومولیٰ کے دربار میں حاضر ہوکر غم کا مرہم، دکھ، درد کی دوا اور سامانِ آخرت فراہم کریگا اور اگر کسی نے وسائل ہوتے ہوئے مکہ شریف آکر ارکان ِ حج ادا کرلئے اور حضور کی زیارت کو ( معاذ اللہ ) غیر اہم سمجھ کر چھوڑ دیا اور زیارت رسول سے فیضیاب ہوئے بغیر واپس چلاگیا تو نہ صرف یہ کہ وہ محروم رہا بلکہ اس نے سرکار دوعالم رحمۃللعلمین ا پر ظلم کیا حضور کی حق تلفی کی اور جس امتی کا حال یہ ہو کہ اس کی سرکشی سے نبی اور رسول پرظلم ہورہا ہو اسے اپنا انجام جان لینا چاہیئے۔ فرمان سرکار ا دل سے سنئے۔

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس نے حج کیا اور میری زیارت نہیں کی یقینا اس نے مجھ پر ظلم کیا۔ (وفاء الوفا جلد ؍۲ ص؍۳۹۸)

حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں جب رسول اللہ  ﷺ نے مکہ مکرمہ سے ہجرت کرلی تو وہاں کی ہرچیز پر اندھیرا چھا گیا۔ اور جب مدینہ منورہ میں نزول اجلال فرمایا تو وہاں کا ذرہ، ذرہ روشن اور منور ہوگیا حضور  ﷺ نے فرمایا : مدینہ منورہ میں میرا گھر ہے اور اسی میں میری قبربھی ہوگی لہذا ہر مسلمان پر حق ہے اس کی زیارت کرے۔( مشکوٰۃ المصابیح ص؍۵۴۷)

رسول اکرم  ﷺ کی زیارت کی اہمیت، فضیلت و افادیت پر۔ الشیخ الامام الفقیہ المحدث تقی الدین السبکی الشافعی علیہ الرحمہ کی عظیم الشان تصنیف ’’شِفَائُ السِّقَامِ فِیْ زِیَارَۃِ خَیْرِ الاَناَمِ‘‘عربی زبان میں موجود ہے جو منکرین زیار ۃالنبی کے جملہ اعتراضات کے کافی شافی جواب فراہم کرتی ہے اس کے علاوہ اردو زبان میں امام احمد رضا محدث بریلوی علیہ الرحمہ اور دیگر فقہاء حنفیہ نے بھی مضامین اور کتا بیں تصنیف کی ہیں۔ بندہ راقم الحروف ان اکابر کی تحریرو ں سے استفادہ کرتے ہوئے زیارۃ رسول  ﷺ سے متعلق کچھ باتیں سپردِ قلم کرتا ہے۔