أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَاَنۡجَيۡنَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا وَكَانُوۡا يَتَّقُوۡنَ‏ ۞

ترجمہ:

اور ہم نے ایمان والوں اور متقی لوگوں کو نجات دے دی

حضرت صالح اور ان کے متبعین کا الحجر سے نکل جانا 

النمل : ٥٣ میں فرمایا ‘ اور ہم نے ایمان والوں کو اور متقی لوگوں کو نجات دے دی۔

ایک قول یہ ہے کہ حضرت صالح (علیہ السلام) پر چاز ہزار آدمی ایمان لائے تھے ‘ اور باقی لوگ عذاب سے ہلاک ہوگئے تھے۔ حضرت صالح (علیہ السلام) نے فرمایا تھا تم پر تین دن بعد عذاب آئے گا ‘ پہلے دن ان کے بدنوں پر چنے کے برابر سرخ دانے نکل آئے۔ دوسرے دن ان کا رنگ پیلا ہوگیا اور تیسرے دن ان کا رنگ سیاہ ہوگیا۔ انہوں نے بدھ کے دن اونٹنی کو ذبح کیا تھا اور تین دن بعد اتوار کو حضرت جبریل (علیہ السلام) کی چیخ سے وہ ہلاک ہوگئے۔

حضرت صالح (علیہ السلام) اپنے متبعین کے ساتھ حضرموت کی طرف نکل گئے تھے۔ حضرت صالح (علیہ السلام) جیسے اس شہر میں داخل ہوئے اسی وقت ان پر موت آگئی اس لیے اس شہر کا نام حضرموت پڑگیا۔ حضرموت کا معنی ہے حاضر ہوا اور مرگیا۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ حضرموت قحطان کے ایک بیٹے کا نام ہے جو اس علاقہ میں آباد ہوگیا تھا۔ یہ یمن سے مشرق کی طرف ایک وسیع علاقہ ہے جس میں بیسیوں بستیاں اور شہر ہیں ‘ شہروں میں مشہور تریم اور شام ہیں۔ حضرت ہودعلیہ السلام اسی علاقہ میں مدفون ہیں۔ (الجامع لا حکام القرآن و معجم البلدان)

القرآن – سورۃ نمبر 27 النمل آیت نمبر 53