أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَجَدْتُّهَا وَقَوۡمَهَا يَسۡجُدُوۡنَ لِلشَّمۡسِ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ وَزَيَّنَ لَهُمُ الشَّيۡطٰنُ اَعۡمَالَهُمۡ فَصَدَّهُمۡ عَنِ السَّبِيۡلِ فَهُمۡ لَا يَهۡتَدُوۡنَۙ ۞

ترجمہ:

میں نے اس کو اور اس کی قوم کو دیکھا کہ وہ اللہ کہ چھوڑ کر سورج کو سجدہ کرتے ہیں اور شیطان نے ان کے لیے ان کے (ان) کاموں کو خوش نما بنادیا ہے ‘ سو ان کو اللہ کے راستے سے روک دیا ہے پس وہ ہدایت نہیں پا رہے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : (ہد ہد نے کہا) میں نے اس کو اور اس کی قوم کو دیکھا کہ وہ اللہ کو چھوڑ کر سورج کو سجدہ کرتے ہیں، اور شیطان نے ان کے لئے (ان) کاموں کو خوشنما بنادیا ہے، سو ان کو اللہ کے راستے سے روک دیا ہے پس وہ ہدایت نہیں پائیں گے۔ یہ لوگ اللہ کو سجدہ کیوں نہیں کرتے جو آسمانوں اور زمینوں کی چیزوں کو باہر لاتا ہے اور وہ ان تمام چیزوں کو جانتا ہے جس کو تم چھپاتے ہو اور جن کو تم ظاہر کرتے ہو۔ اللہ کے سوا کوئی عبادت کا مستحق نہیں ہے اور وہی عرش عظیم کا مالک ہے۔ (النمل :24-26)

ہد ہد کے اس قول کا معنی یہ ہے کہ بلقیس کی قوم اللہ کی عبادت کرنے کے بجائے سورج کی پرستش کرتی ہے اور شیاطن نے ان کے برے کاموں کو ان کی نظر میں اچھا بنادیا ہے یعنی سورج کی پرستش اور ان کے دیگر کفر یہ کاموں اور معاصی کو اور ان کو صحیح طریقہ سے روک دیا ہے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 27 النمل آیت نمبر 24