أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَكَانَ فِى الۡمَدِيۡنَةِ تِسۡعَةُ رَهۡطٍ يُّفۡسِدُوۡنَ فِى الۡاَرۡضِ وَلَا يُصۡلِحُوۡنَ ۞

ترجمہ:

اور (ثمود کے) شہر میں نو شخص تھے جو زمین میں فساد پھیلا رہے تھے ‘ اور اصلاح نہیں کرتے تھے

اونٹنی کو قتل کرنے والے نو آدمیوں کے نام 

اس کے بعد فرمایا : اور (ثمود کے) شہر میں نو شخص تھے جو فساد پھیلا رہے تھے اور اصلاح نہیں کرتے تھے۔ (النمل : ٤٨ )

حضرت صالح (علیہ السلام) کے شہر سے مراد حجر ہے۔ مدینہ اور شام کے درمیان جو بستیاں اور قصبات ہیں ان کو حجر کہتے ہیں یہ جگہ قوم ثمود کا وطن تھی ‘ یہ لوگ پہاڑوں کو اندر سے کھودکھود کر اپنے گھر بناتے تھے ان کو اثالث کہا جاتا ہے ‘ ان ہی پہاڑوں میں پانی کا وہ چشمہ بھی تھا جس سے حضرت صالح (علیہ السلام) کی اونٹنی پانی پیتی تھی ‘ نیز حطیم کو بھی حجر کہا جاتا ہے۔ حطیم اس جگہ کو کہتے ہیں جس کو حضرت ابراہیم نے کعبہ میں شامل کیا تھا لیکن قریش نے چھوڑدیا۔ 

یہ نو شخص وہ تھے جنہوں نے حضرت صالح (علیہ السلام) کی اونٹنی کی کونچیں کاٹ دی تھیں۔ ایڑی کے اوپر جو پائوں کے پٹھے ہوتے ہیں ان کو کونچیں کہتے ہیں ان نو شخصوں کے ناموں کا ذکر اس روایت میں ہے :

حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں ان کے نام یہ تھے رعمی ‘ رعیم ‘ ہریم ‘ ودار ‘ صواب ‘ ریاب ‘ مسطع ‘ مصداع اور ان کا سردار قدار بن سالف تھا اس نے اس اونٹنی کی کونچیں کاٹی تھیں۔ (تفسیرامام ابن ابی حاتم رقم الحدیث : ١٦٤٦٦‘ ج ٩ ص ٢٩٠٠)

القرآن – سورۃ نمبر 27 النمل آیت نمبر 48