أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَلَقَدۡ اَرۡسَلۡنَاۤ اِلٰى ثَمُوۡدَ اَخَاهُمۡ صٰلِحًا اَنِ اعۡبُدُوۡا اللّٰهَ فَاِذَا هُمۡ فَرِيۡقٰنِ يَخۡتَصِمُوۡنَ ۞

ترجمہ:

اور بیشک ہم نے ثمود کی طرف ان کے ہم قبیلہ صالح کو یہ پیغام دے کر بھیجا کہ اللہ کی عبادت کرو تو وہ دو فریق بن کر جھگڑنے لگے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور بیشک ہم نے ثمود کی طرف ان کے ہم قوم صالح کو یہ پیغام دے کر بھیجا کہ اللہ کی عبادت کرو تو وہ فریق بن کر جھگڑنے لگے۔ صالح نے کہا اے میری قوم کے لوگو ! تم بھلائی سے پہلے برائی کی طلب میں کیوں جلدی کر رہے ہو ! تم اللہ سے گناہوں کی بخشش کیوں طلب نہیں کرتے ! تاکہ تم پر رحم کیا جائے۔ انہوں نے کہا ہم آپ کو اور آپ کے اصحاب کو بدشگون (منحوس) خیال کرتے ہیں ‘ صالح نے کہا تمہاری بدشگونی (نحوست) اللہ کے ہاں ہے ‘ بلکہ تم فتنہ میں مبتلاہو۔ اور ( ثمود کے) شہر میں نو شخص تھے جو فساد پھیلا رہے تھے اور اصلاح نہیں کرتے تھے۔ (النمل : ٤٨-٤٥ )

اس سورت میں حضرت صالح (علیہ السلام) کا تیسرا قصہ 

الاعراف : ٨٣٨٠‘ اور ھود : ٦٨٦١ میں حضرت صالح (علیہ السلام) کا قصہ بیان کیا گیا ہے ‘ تبیان القرآن ج ٤ ص ٤٣ میں ہم نے اس قصہ پر ان عنوانات کے تحت روشنی ڈالی ہے ‘ قوم ثمود کی اجمالی تاریخ ‘ حضرت صالح (علیہ السلام) کا نسب اور قوم ثمود کی طرف ان کی بعثت ‘ قوم ثمود کا حضرت صالح (علیہ السلام) سے معجزہ طلب کرنا اور معجزہ دیکھنے کے باوجود ایمان نہ لانا ‘ اور ان پر عذاب کا نازل ہونا ‘ قوم ثمود کی سرکشی اور ان پر عذاب نازل کرنے کے متعلق قرآن مجید کی آیات ‘ اونٹنی کا قاتل ایک شخص تھا یہ پوری قوم ثمود ‘ اونٹنی کے معجزہ ہونے کی وجوہات ‘ قوم ثمود کے عذاب کی مختلف تعبیریں اور ان میں وجہ تطبیق ‘ قوم ثمود کے متعلق احادیث اور آثار۔

حضرت صالح (علیہ السلام) اور قوم ثمود کا تعارف 

حضرت صالح (علیہ السلام) جس قوم میں پیدا ہوئے اس کا نام ثمود ہے۔ قوم عاد کی ہلاکت کے وقت جو ایمان والے حضرت ہود (علیہ السلام) کے ساتھ عذاب سے بچ گئے تھے یہ قوم ان ہی کی نسل سے ہے اس کو عادثانیہ بھی کہا جاتا ہے۔

یہ قوم مقام الحجر میں رہتی تھی حجاز اور شام کے درمیان وادی القریٰ تک جو میدان نظر آتا ہے وہ سب الحجر ہے ‘ آج کل یہ جگہ فج الناقتہ کے نام سے مشہور ہے۔

النمل : ٤٥ میں فرمایا ہے دو فریق جھگڑنے لگے ‘ مجاہد نے کہا ان میں سے ایک فریق مومن تھا اور دوسرا فریق کافر تھا۔

ان کے جھگڑے کا ذکر اس آیت میں ہے :

قال الملا الذین استکبروا من قومہ للذین استضعفوا لمن امن منھم اتعلمون ان صٰلحا مرسل من ربہ قالوا انابما ارسل بہ مومنون۔ قال الذین استکبروا انابالذی امنتم بہ کفرون۔ (الاعراف : ٧٦- ٧٥) ان کی قوم کے متکبر سرداروں نے ان کمزور لوگوں سے کہا جو ان میں سے ایمان لا چکے تھے ‘ کیا تمہیں اس پر یقین ہے کہ صالح اپنے رب کی طرف سے مبعوث کیے گئے ہیں ‘ انہوں نے کہا وہ جس پیغام کے ساتھ بھیجے گئے ہیں اس پر ایمان لانے والے ہیں۔ متکبرین نے کہا تم جس پر ایمان لائے ہو ہم اس کا کفر کرنے والے ہیں۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 27 النمل آیت نمبر 45