أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَلُوۡطًا اِذۡ قَالَ لِقَوۡمِهٖۤ اَتَاۡتُوۡنَ الۡـفَاحِشَةَ وَاَنۡـتُمۡ تُبۡصِرُوۡنَ ۞

ترجمہ:

اور لوط (کویاد کیجئے جب انہوں) نے اپنی قوم سے کہا کیا تم دیکھنے کے باوجود بےحیائی کرتے ہو

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد : اور لوط (کو یاد کیجیے جب انہوں) نے اپنی قوم سے کہا کیا تم دیکھنے کے باوجود بےحیائی کرتے ہو !۔ کیا تم نفسانی خواہش پوری کرنے کے لیے ضرور عورتوں کو چھوڑکر مردوں کے پاس جاتے ہو بلکہ تم جاہل لوگ ہو !۔ سو ان کی قوم کو صرف یہ جواب تھا : انہوں نے کہا آل لوط کو شہر بدر کردو ‘ یہ لوگ بہت پاک باز بن رہے ہیں۔ سو ہم نے لوط کی بیوی کے سوا ان کو اور ان کے گھر والوں کو نجات دے دی ‘ ہم نے اس کو ان (لوگوں) میں مقدر کردیا تھا جو عذاب میں رہ جانے والے تھے۔ اور ہم نے ان پر پتھروں کی بارش کی تو جن لوگوں کو ڈرایا گیا تھا ان پر وہ کیسی بری بارش تھی۔ (النمل : ٥٨- ٥٤ )

اس سورت میں حضرت لوط (علیہ السلام) کا چوتھا قصہ 

الاعراف : ٨٤٨٠‘ اور ہود : ٨٢٧٧ میں حضرت لوط (علیہ السلام) کا قصہ تفصیل سے گزر چکا ہے ‘ ہم نے تبیان القرآن ج ٤ ص ٢١٩- ٢١٤‘ میں ان عنوانات کے تحت روشنی ڈالی ہے۔ حضرت لوط (علیہ السلام) کا شجرہ نسب ‘ حضرت لوط (علیہ السلام) کا مقام بعثت ‘ حضرت لوط (علیہ السلام) کے ہاں فرشتوں کا حسین اور نو خیز لڑکوں کی شکل میں مہمان ہونا ‘ قوم لوط میں ہم جنس پرستی کی ابتدائ ‘ حضرت لوط کی بیوی کی خیانت اور قوم لوط کی بری عادتیں ‘ عمل قوم لوط کی عقلی قباحتیں ‘ قرآن مجید میں عمل قوم لوط کی مذمت ‘ احادیث میں عمل قوم لوط کی مذمت اور سزا کا بیان ‘ عمل قوم لوط کی سزا میں مذاہب فقہائ ‘ قوم لوط پر عذاب کی کیفیت۔

قوم لوط کو بےحیائی کے کاموں پر بصیرت رکھنے والا بھی فرمایا اور جاہل بھی اس کی توجیہ 

النمل : ٥٤ میں فرمایا : اور لوط (کو یاد کیجیے جب انہوں) نے اپنی قوم سے کہا کیا تم دیکھنے کے باوجود بےحیائی کرتے ہو ! 

اس آیت میں دیکھنے کے حسب ذیل محامل ہیں ایک یہ کہ تم ایک دوسرے کو دیکھتے ہوئے یہ بےحیائی کے کام کرتے ہو جیسا کہ اس آیت میں فرمایا ہے : 

ابنکم لتاتون الرجال وتقطعون السبیل و تاتون فی نادیکم المنکر (العنکبوت : ٢٩) کیا تم فروں سے شہوت پوری کرتے ہو اور (افزائش نسل کے) راستے بند کرتے ہو اپنی عام مجلسوں میں بےحیائی اور بدفعلی کرتے ہو ؟

وہ اس شرمناک کام کو لوگوں سے چھپ کر نہیں کرتے تھے ‘ بلکہ برسر مجلس اس بےحیائی کے کام کو کرتے تھے۔

اس کا دوسرا محمل یہ ہے کہ تم کو یہ بصیرت ہے اور تم کو اس کا علم ہے کہ یہ ایسی بےحیائی کا کام ہے کہ تم سے پہلے اس کو کسی نے نہیں کیا ‘ اور اللہ تعالیٰ نے مردوں کو مردوں سے لذت کے حصول کے لیے نہیں پیدا کیا بلکہ مردوں کی شہوت برآری کے لیے عورتوں کو پیدا کیا ہے۔ اس کا تیسرا محمل یہ ہے کہ تم سے پہلے جن لوگوں نے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کی تھی تم ان کے عذاب کے آثاردیکھ چکے ہو جیسے قوم ثمود اور قوم عاد پر عذاب کے آثار ہیں۔

اس کے بعد فرمایا بلکہ جاہل لوگ ہو ‘ اس پر یہ اعتراض ہے کہ اس آیت کے پہلے حصہ میں یہ فرمایا ہے کہ تم دیکھتے ہو یعنی تم کو بصیرت ہے اور اس کا معنی ہے تم علم والے ہو اور دوسرے حصہ میں فرمایا تم جاہل ہو ‘ تو وہ عالم بھی ہوں اور جاہل بھی ہوں ‘ یہ کیسے ہوسکتا ہے ! اس کا جواب یہ ہے کہ ان کو یہ علم تھا کہ یہ بےحیائی کا کام ہے اس کے باوجود وہ علم کے تقاضے پر عمل نہیں کرتے تھے اور جاہلوں کی طرح بےحیائی کے کام کرتے تھے ! دوسرا جواب یہ ہے کہ تم اس برے کام کی سزا اور آخرت میں اس پر مرتب ہونے والے عذاب سے جاہل ہو اگرچہ تم کو اس کام کی برائی کا علم ہے۔ تیسرا جواب یہ ہے کہ جہالت سے مراد یہ ہے کہ تم جاہلوں کی سی ضد اور ہٹ دھرمی کر رہے ہو ‘ خلاصہ یہ ہے کہ ہرچند کہ تم کو اس کام کی برائی کا علم ہے لیکن علم کے تقاضے پر عمل نہیں کرتے یا تو اس کام کے انجام سے جاہل ہو ‘ یا علم کے باوجود جاہلوں کی طرح ہٹ دھرمی سے کام لے رہے ہو۔ 

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 27 النمل آیت نمبر 54