قَدْ مَكَرَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ فَاَتَى اللّٰهُ بُنْیَانَهُمْ مِّنَ الْقَوَاعِدِ فَخَرَّ عَلَیْهِمُ السَّقْفُ مِنْ فَوْقِهِمْ وَ اَتٰىهُمُ الْعَذَابُ مِنْ حَیْثُ لَا یَشْعُرُوْنَ(۲۶)

بےشک ان سے اگلوں نے (ف۴۴) فریب کیا تھا تو اللہ نے ان کی چنائی کو نِیو(بنیاد) سے لیا تو اوپر سے ان پر چھت گر پڑی اور عذاب ان پر وہاں سے آیا جہاں کی انہیں خبر نہ تھی (ف۴۵)

(ف44)

یعنی پہلی اُمّتوں نے اپنے انبیاء کے ساتھ ۔

(ف45)

یہ ایک تمثیل ہے کہ پچھلی اُمّتوں نے اپنے رسولوں کے ساتھ مکر کرنے کے لئے کچھ منصوبے بنائے تھے اللہ تعالٰی نے انہیں خود انہیں کے منصوبوں میں ہلاک کیا اور ان کا حال ایسا ہوا جیسے کسی قوم نے کوئی بلند عمارت بنائی پھر وہ عمارت ان پر گر پڑی اور وہ ہلاک ہو گئے ، اسی طرح کُفّار اپنی مکاریوں سے خود برباد ہوئے ۔ مفسِّرین نے یہ بھی ذکر کیا ہے کہ اس آیت میں اگلے مکر کرنے والوں سے نمرود بن کنعان مراد ہے جو زمانۂ ابراہیم علیہ السلام میں روئے زمین کا سب سے بڑا بادشاہ تھا ، اس نے بابل میں بہت اونچی ایک عمارت بنائی تھی جس کی بلندی پانچ ہزار گز تھی اور اس کا مکریہ تھا کہ اس نے یہ بلند عمارت اپنے خیال میں آسما ن پر پہنچنے اور آسمان والوں سے لڑنے کے لئے بنائی تھی ، اللہ تعالٰی نے ہوا چلائی اور وہ عمارت ان پر گر پڑی اور وہ لوگ ہلاک ہو گئے ۔

ثُمَّ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ یُخْزِیْهِمْ وَ یَقُوْلُ اَیْنَ شُرَكَآءِیَ الَّذِیْنَ كُنْتُمْ تُشَآقُّوْنَ فِیْهِمْؕ-قَالَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ اِنَّ الْخِزْیَ الْیَوْمَ وَ السُّوْٓءَ عَلَى الْكٰفِرِیْنَۙ(۲۷)

پھر قیامت کے دن انہیں رسوا کرے گا اور فرمائے گا کہاں ہیں میرے وہ شریک (ف۴۶) جن میں تم جھگڑتے تھے (ف۴۷) علم والے (ف۴۸) کہیں گے آج ساری رسوائی اور برائی (ف۴۹) کافروں پر ہے .

(ف46)

جو تم نے گھڑ لئے تھے اور ۔

(ف47)

مسلمانوں سے ۔

(ف48)

یعنی ان اُمّتوں کے انبیاء و عُلَماء جو انہیں دنیا میں ایمان کی دعوت دیتے اور نصیحت کرتے تھے اور یہ لوگ ان کی بات نہ مانتے تھے ۔

(ف49)

یعنی عذاب ۔

الَّذِیْنَ تَتَوَفّٰىهُمُ الْمَلٰٓىٕكَةُ ظَالِمِیْۤ اَنْفُسِهِمْ۪-فَاَلْقَوُا السَّلَمَ مَا كُنَّا نَعْمَلُ مِنْ سُوْٓءٍؕ-بَلٰۤى اِنَّ اللّٰهَ عَلِیْمٌۢ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ(۲۸)

وہ کہ فرشتے ان کی جان نکالتے ہیں اس حال پر کہ وہ اپنا برا کررہے تھے (ف۵۰) اب صلح ڈالیں گے (ف۵۱) کہ ہم تو کچھ بُرائی نہ کرتے تھے (ف۵۲) ہاں کیوں نہیں بیشک اللہ خوب جانتا ہے جو تمہارے کوتک(کرتوت) تھے(ف۵۳)

(ف50)

یعنی کُفر میں مبتلا تھے ۔

(ف51)

اور وقتِ موت اپنے کُفر سے مُکر جائیں گے اور کہیں گے ۔

(ف52)

اس پر فرشتے کہیں گے ۔

(ف53)

لہذا یہ انکار تمہیں مفید نہیں ۔

فَادْخُلُوْۤا اَبْوَابَ جَهَنَّمَ خٰلِدِیْنَ فِیْهَاؕ-فَلَبِئْسَ مَثْوَى الْمُتَكَبِّرِیْنَ(۲۹)

اب جہنم کے دروازوں میں جاؤ کہ ہمیشہ اس میں رہو تو کیا ہی بُرا ٹھکانا مغروروں کا

وَ قِیْلَ لِلَّذِیْنَ اتَّقَوْا مَا ذَاۤ اَنْزَلَ رَبُّكُمْؕ-قَالُوْا خَیْرًاؕ-لِلَّذِیْنَ اَحْسَنُوْا فِیْ هٰذِهِ الدُّنْیَا حَسَنَةٌؕ-وَ لَدَارُ الْاٰخِرَةِ خَیْرٌؕ-وَ لَنِعْمَ دَارُ الْمُتَّقِیْنَۙ(۳۰)

اور ڈر والوں (ف۵۴)سے کہا گیا تمہارے رب نے کیا اتارا بولے خوبی (ف۵۵) جنہوں نے اس دنیا میں بھلائی کی (ف۵۶) ان کے لیے بھلائی ہے (ف۵۷) اور بےشک پچھلا گھر سب سے بہتر اور ضرور (ف۵۸) کیا ہی اچھا گھر پرہیزگاروں کا

(ف54)

یعنی ایمانداروں ۔

(ف55)

یعنی قرآن شریف جو تمام خوبیوں کا جامع اور حسنات و برکات کا منبع اور دینی و دنیوی اور ظاہری وباطنی کمالات کا سر چشمہ ہے ۔

شانِ نُزول : قبائلِ عرب ایّامِ حج میں حضرت نبیٔ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے تحقیقِ حال کے لئے مکّۂ مکرّمہ کو قاصد بھیجتے تھے یہ قاصد جب مکّۂ مکرّمہ پہنچتے اور شہر کے کنارے راستوں پر انہیں کُفّار کے کارندے ملتے (جیسا کہ سابق میں ذکر ہو چکا ہے) ان سے یہ قاصد نبیٔ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا حال دریافت کرتے تو وہ بہکانے پر مامور ہی ہوتے تھے ، ان میں سے کوئی حضرت کو ساحر کہتا ، کوئی کاہن ، کوئی شاعر ، کوئی کذّاب ، کوئی مجنون اور اس کے ساتھ یہ بھی کہہ دیتے کہ تم ان سے نہ ملنا یہی تمہارے حق میں بہتر ہے ، اس پر قاصد کہتے کہ اگر ہم مکّۂ مکرّمہ پہنچ کر بغیر ان سے ملے اپنی قوم کی طرف واپس ہوں تو ہم برے قاصد ہوں گے اور ایسا کرنا قاصد کے منصبی فرائض کا ترک اور قوم کی خیانت ہوگی ، ہمیں تحقیق کے لئے بھیجا گیا ہے ، ہمارا فرض ہے کہ ہم ان کے اپنے اور بیگانوں سب سے ان کے حال کی تحقیق کریں اور جو کچھ معلوم ہو اس سے بے کم و کاست قوم کو مطّلع کریں ۔ اس خیال سے وہ لوگ مکّۂ مکرّمہ میں داخل ہو کر اصحابِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بھی ملتے تھے اور ان سے آپ کے حال کی تحقیق کرتے تھے ، اصحابِ کرام انہیں تمام حال بتاتے تھے اور نبیٔ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حالات و کمالات اور قرآنِ کریم کے مضامین سے مطّلع کرتے تھے ، ان کا ذکر اس آیت میں فرمایا گیا ۔

(ف56)

یعنی ایمان لائے اور نیک عمل کئے ۔

(ف57)

یعنی حیات طیبہ ہے اور فتح و ظَفر و رزقِ وسیع وغیرہ نعمتیں ۔

(ف58)

دارِ آخرت ۔

جَنّٰتُ عَدْنٍ یَّدْخُلُوْنَهَا تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ لَهُمْ فِیْهَا مَا یَشَآءُوْنَؕ-كَذٰلِكَ یَجْزِی اللّٰهُ الْمُتَّقِیْنَۙ(۳۱)

بسنے کے باغ جن میں جائیں گے ان کے نیچے نہریں رواں انہیں وہاں ملے گا جو چاہیں (ف۵۹) اللہ ایسا ہی صلہ دیتا ہے پرہیزگاروں کو

(ف59)

اوریہ بات جنّت کے سوا کسی کو کہیں بھی حاصل نہیں ۔

الَّذِیْنَ تَتَوَفّٰىهُمُ الْمَلٰٓىٕكَةُ طَیِّبِیْنَۙ-یَقُوْلُوْنَ سَلٰمٌ عَلَیْكُمُۙ-ادْخُلُوا الْجَنَّةَ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ(۳۲)

وہ جن کی جان نکالتے ہیں فرشتے ستھرے پن میں (ف۶۰) یہ کہتے ہوئے کہ سلامتی ہو تم پر (ف۶۱) جنّت میں جاؤ بدلہ اپنے کیے کا

(ف60)

کہ وہ شرک و کُفر سے پاک ہوتے ہیں اور ان کے اقوال و افعال اور اخلاق و خصال پاکیزہ ہوتے ہیں ، طاعتیں ساتھ ہوتی ہیں ، محرمات و ممنوعات کے داغوں سے ان کادامنِ عمل میلا نہیں ہوتا ، قبضِ روح کے وقت ان کو جنّت و رضوان و رحمت و کرامت کی بشارتیں دی جاتی ہیں ، اس حالت میں موت انہیں خوشگوار معلوم ہوتی ہے اور جان فرحت و سرور کے ساتھ جسم سے نکلتی ہے اور ملائکہ عزت کے ساتھ اس کو قبض کرتے ہیں ۔ (خازن)

(ف61)

مروی ہے کہ قریبِ موت بندۂ مومن کے پاس فرشتہ آ کر کہتا ہے اے اللہ کے دوست تجھ پر سلام اور اللہ تعالٰی تجھے سلام فرماتا ہے اور آخرت میں ان سے کہا جائے گا ۔

هَلْ یَنْظُرُوْنَ اِلَّاۤ اَنْ تَاْتِیَهُمُ الْمَلٰٓىٕكَةُ اَوْ یَاْتِیَ اَمْرُ رَبِّكَؕ-كَذٰلِكَ فَعَلَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْؕ-وَ مَا ظَلَمَهُمُ اللّٰهُ وَ لٰكِنْ كَانُوْۤا اَنْفُسَهُمْ یَظْلِمُوْنَ(۳۳)

کاہے کے انتظار میں ہیں (ف۶۲) مگر اس کے کہ فرشتے ان پر آئیں (ف۶۳) یا تمہارے رب کا عذاب آئے (ف۶۴) ان سے اگلوں نے بھی ایسا ہی کیا (ف۶۵) اور اللہ نے ان پر کچھ ظلم نہ کیا ہاں وہ خود ہی(ف۶۶) اپنی جانوں پر ظلم کرتے تھے

(ف62)

کُفّار کیوں ایمان نہیں لاتے کس چیز کے انتظار میں ہیں ۔

(ف63)

ان کی ارواح قبض کرنے ۔

(ف64)

دنیا میں یا روزِ قیامت ۔

(ف65)

یعنی پہلی اُمّتوں کے کُفّار نے بھی کہ کُفر و تکذیب پر قائم رہے ۔

(ف66)

کُفر اختیار کر کے ۔

فَاَصَابَهُمْ سَیِّاٰتُ مَا عَمِلُوْا وَ حَاقَ بِهِمْ مَّا كَانُوْا بِهٖ یَسْتَهْزِءُوْنَ۠(۳۴)

تو ان کی بُری کمائیاں ان پر پڑیں (ف۶۷) اور انہیں گھیرلیا اس (ف۶۸) نے جس پر ہنستے تھے

(ف67)

اور انہوں نے اپنے اعمالِ خبیثہ کی سزا پائی ۔

(ف68)

عذاب ۔