اِنَّ الَّذِیۡنَ یَکْتُمُوۡنَ مَاۤ اَنۡزَلَ اللہُ مِنَ الْکِتٰبِ وَیَشْتَرُوۡنَ بِہٖ ثَمَنًا قَلِیۡلًاۙ اُولٰٓئِکَ مَا یَاۡکُلُوۡنَ فِیۡ بُطُوۡنِہِمْ اِلَّا النَّارَ وَلَا یُکَلِّمُہُمُ اللہُ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ وَلَا یُزَکِّیۡہِمْۚۖ وَلَہُمْ عَذَابٌ اَلِیۡمٌ﴿۱۷۴﴾

 ترجمۂ  کنزالایمان: وہ جو چھپاتے ہیں اللہ کی اتاری کتاب اور اس کے بدلے ذلیل قیمت لے لیتے ہیں وہ اپنے پیٹ میں آگ ہی بھرتے ہیں اور اللہ قیامت کے دن ان سے بات نہ کرے گا اور نہ انہیں ستھرا کرے، اور ان کے لئے درد ناک عذاب ہے۔

ترجمۂ  کنزالعرفان: بیشک وہ لوگ جو اللہ  کی نازل کی ہوئی کتاب کو چھپاتے ہیں اور اس کے بدلے ذلیل قیمت لیتے ہیں وہ اپنے پیٹ میں آگ ہی بھرتے ہیں اور اللہ قیامت کے دن ان سے نہ کلام فرمائے گا اور نہ انہیں پاک کرے گا اور ان کے لئے دردناک عذاب ہے۔

{اِنَّ الَّذِیْنَ یَكْتُمُوْنَ مَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ مِنَ الْكِتٰبِ: بیشک وہ لوگ جو اللہ کی نازل کی ہوئی کتاب کو چھپاتے ہیں۔} کافروں کے ایک گروہ مشرکین کے اعمال کا ذکر کرنے کے بعد اب دوسرے گروہ یعنی یہودیوں کا تذکرہ کیا جارہا ہے۔ پہلا گروہ اللہ تعالٰی کے حق میں کوتاہی کرنے والا تھا اور دوسرا گروہ مصطفٰی کریمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے حق میں کوتاہی کرنے والا ہے۔ شانِ نزول: یہودیوں کے سردار اورعلماء یہ امید رکھتے تھے کہ نبی آخر الزماں  صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ ان میں سے مبعوث ہوں گے، لیکن جب انہوں نے دیکھا کہ سرکارِ دو عالم، محمد مصطفٰی  صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ دوسری قوم میں سے مبعوث فرمائے گئے تو انہیں یہ اندیشہ ہوا کہ لوگ توریت و انجیل میں حضور پر نور  صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کے اوصاف دیکھ کر آپ کی فرمانبرداری کی طرف جھک پڑیں گے اور اِن یہودی سرداروں اور علماء کے نذرانے، ہدیئے ،تحفے تحائف سب بند ہوجائیں گے، حکومت جاتی رہے گی تو اس خیال سے انہیں حسد پیدا ہوا اور توریت و انجیل میں جو حضور اقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی نعت و صفت اور آپ کے وقت ِنبوت کا بیان تھا انہوں نے اس کو چھپا دیا۔ اس پر یہ آیت ِمبارکہ نازل ہوئی۔(خازن، البقرۃ، تحت الآیۃ: ۱۷۳، ۱ / ۱۱۳)

  یہودیوں کے اس طرح کے طرزِ عمل پر فرمادیا گیا کہ ذاتی مفادات، مالِ دنیا اور عیش و آرام کی خاطر اللہ  تعالٰی کی کتاب اور اس کے احکام، عظمت و شانِ مُصطَفَوی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَسَلَّمَ چھپانے والے مال  و دولت سے اپنے خزانے نہیں بھر رہے بلکہ حقیقت میں اپنے پیٹ میں جہنم کی آگ بھر رہے ہیں کہ یہ حرکات انہیں جہنم میں لے جانے کاسبب ہوں گی، قیامت کے دن یہ لوگ اللہ تعالٰی سے ہم کلامی کے شرف سے محروم ہوں گے، رحمت ِالہٰی ان سے دور ہوگی، کفر و معصیت کی گندگی میں ڈوبے ہوئے ہوں گے اور انہیں کسی بھی طرح گناہوں سے پاک نہیں کیا جائے گا بلکہ جہنم میں پھینکا جائے گا۔ یاد رہے کہ چھپانا یہ بھی ہے کہ کتاب کے مضمون پر کسی کو مطلع نہ ہونے دیا جائے، نہ وہ کسی کو پڑھ کر سنایا جائے اورنہ دکھایا جائے اور یہ بھی چھپانا ہے کہ غلط تاویلیں کرکے معنی بدلنے کی کوشش کی جائے اور کتاب کے اصل معنی پر پردہ ڈالا جائے۔ یہودی ہرطرح کی تاویلیں کرتے تھے اور ابھی تک بہت سے لوگوں میں اس طرح کا طرزِ عمل جاری ہے قرآن پڑھ کر توحید ِ الہٰی کی غلط تشریح کرنا، عظمت ِ مصطفٰی صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکی آیات کو چھپانا، ان کے معانی بدلنا،پردے اور سود وغیرہ کے متعلق آیات کے معانی میں تحریف کرناسب اسی فعلِ حرام میں داخل ہیں۔