أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اَلَمۡ يَرَوۡا اَنَّا جَعَلۡنَا الَّيۡلَ لِيَسۡكُنُوۡا فِيۡهِ وَالنَّهَارَ مُبۡصِرًا ‌ؕ اِنَّ فِىۡ ذٰ لِكَ لَاٰيٰتٍ لِّـقَوۡمٍ يُّؤۡمِنُوۡنَ ۞

ترجمہ:

کیا انہوں نے یہ نہیں دیکھا کہ ہم نے رات ان کو آرام کرنے کے لیے بنائی اور دن کو ہم نے (کام کرنے کے لیے) روشن بنایا ‘ بیشک اس میں ایمان لانے والوں کے لے نشانیاں ہیں

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : کیا انہوں نے یہ نہیں دیکھا کہ ہم نے رات ان کو آرام کرنے کے لیے بنائی اور دن کو ہم نے (کام کرنے کے لیے) روشن بنایا ‘ بیشک اس میں ایمان لانے والوں کے لے نشانیاں ہیں۔ اور جس دن صور میں پھونکا جائے گا تو تمام آسمانوں والے اور زمینوں والے گھبرا جائیں گے ‘ ماسوا ان کے جن کو اللہ چاہے اور سب اس کے سامنے عاجزی سے حاضر ہوں گے۔ (النمل : ٧٨۔ ٦٨ )

دن اور رات کے تعاقب میں توحید ‘ رسالت اور حشر کی دلیل 

کیا انہوں نے یہ نہیں دیکھا کہ ہم نے کیسی حکمت بالغہ سے رات اور دن کو بنایا ‘ رات کو اس لیے بنایا کہ وہ کام کاج کی مشقت کی وجہ سے اپنے تھکے ہوئے اعصب کو آرام پہنچائیں ‘ اور دن کو بنایا تاکہ وہ رات کو آرام کرنے کے بعد پھر تازہ دم ہو کر دن کی روشنی میں حصول رزق کے لیے جدوجہد کریں ‘ جو لوگ اللہ پر ایمان لانے والے ہیں وہ اس میں اللہ کی قدرت کی نشانیوں کو دیکھ کر اللہ پر ایمان لاتے ہیں۔ یہ آیت اللہ تعالیٰ کی الوہیت اور اس کی توحید پرر دلالت کرتی ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ رات کو دن سے ‘ اور دن کو رات سے بدل دیتا ہے اور نور کی ظلمت میں اور ظلمت کو نور میں ڈھال دیتا ہے ‘ اور یہ کام وہی کرسکتا ہے جس کا علم اور قدرت پر چیز کو محیط ہو اور جس کا علم ہر چیز کو شامل ہو اور جس کی قدرت پر چیز پر حاوی ہو ہی اس کائنات کو پیدا کرنے والا ہے اور وہ واحد ہے اس کے شریک اور معاون نہیں ہیں کیونکہ اگر وہ واحد نہ ہوتا تو دن اور رات کے تواتر اور تسلسل میں یہ یکسانیت اور نظم و ضبط نہ ہوتا کہ ہمیشہ گرمیوں میں دن بڑے اور راتیں چھوٹی ہوتی ہیں اور سردیوں میں ہمیشہ دن چھوٹھے اور راتیں بڑی ہوتی ہیں۔

اور یہ آیت لوگوں کو مارنے کے بعد زندہ کرنے اور حشر و نشر پر بھی دلالت کرتی ہے کیونکہ جو ذات اس پر قادر ہے کہ دن کے نور کو ظلمت اور رات کی ظلمت کو نور سے بدل دے وہ حیات کو موت سے اور موت کو حیات سے بدلنے پر بھی قادر ہے۔

اور آیت نبوت پر بھی دلالت کرتی ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ مخلوق کے منافع کے لیے دن کے بعد رات کو اور رات کے بعد دن کو لات ہے اور نبیوں اور رسولوں کو احکام شرعیہ کی تبلیغ کے لیے مخلوق کی طرف بھیجنے میں بھی مخلوق کے منافع ہیں ‘ دن اور رات کے توارد میں مخلوق کا صرف دنیا میں نفع ہے اور انبیاء (علیہم السلام) کی تعلیمات پر عمل کرنے میں دنیا میں بھی نفع ہوتا ہے اور آخرت میں بھی نفع ہوتا ہے ‘ سو یہ آیت توحید ‘ آخرت اور رسالت تینوں اصولی مباحث کے اثبات کے لیے کافی ہے۔

اس آیت کے آخر میں فرمایا ہے اس میں ایمان لانے والوں کے لیے نشانیاں ہیں ‘ حالانکہ اس میں تو تمام مخلوق کے لیے نشانیاں ہیں اس کا جواب یہ ہے کہ فی نفسہ اس آیت میں تمام مخلوق کے لیے نشانیاں ہیں لیکن ان نشانیوں سے فائدہ صرف ایمان لانے والے حاصل کرتے ہیں اس لیے فرمایا اس میں ایمان لانے والوں کے لیے نشانیاں ہیں۔

القرآن – سورۃ نمبر 27 النمل آیت نمبر 86