أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اَمَّنۡ جَعَلَ الۡاَرۡضَ قَرَارًا وَّجَعَلَ خِلٰلَهَاۤ اَنۡهٰرًا وَّجَعَلَ لَهَا رَوَاسِىَ وَجَعَلَ بَيۡنَ الۡبَحۡرَيۡنِ حَاجِزًا‌ ؕ ءَاِلٰـهٌ مَّعَ اللّٰهِ‌ ؕ بَلۡ اَكۡثَرُهُمۡ لَا يَعۡلَمُوۡنَ ۞

ترجمہ:

(بتائو ! ) کس نے زمین کو جائے قرار بنایا اور اس میں دریا رواں ‘ دواں کردیئے اور زمین کو برقرار رکھنے کے لیے مضبوط   پہاڑ بنا دیئے اور دو سمندروں کے درمیان آڑ پیدا کردی ‘ کیا اللہ کے ساتھ کوئی اور معبود ہے ؟ (نہیں) بلکہ ان میں سے اکثر لوگ نہیں جانتے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : (بتائو ! ) کس نے زمین کو جائے قرار بنایا اور اس میں دریا رواں کردیئے اور زمین کو برقرار رکھنے کے لیے مضبوط پہاڑ بنا دیئے اور دو سمندروں کے درمیان آڑ پیدا کردی۔ کیا اللہ کے ساتھ کوئی اور معبود ہے ؟ بلکہ ان میں سے اکثر لوگ نہیں جانتے !۔ (النمل : ٦١ )

زمین کی خصوصیات سے اللہ تعالیٰ کی توحید پر استدلال 

زمین کے جائے قرار ہونے کی وجوہ یہ ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے زمین کو پھیلا کر ہموار کردیا اور اس میں لوگوں کی سکونت سہل اور آسان بنادی اور زمین کو سختی اور نرمی کے درمیان متوسط اور معتدل بنایا اگر وہ پتھر کی طرح سخت ہوتی تو اس پر انسان کا لیٹنا مشکل ہوتا اور اگر وہ پانی کی طرح نرم ہوتی تو انسان اس میں گھس کر نیچے چلا جاتا اور ڈوب جاتا ‘ اور اس میں سورج کی شعائوں کو جذب کی صلاحیت رکھی ورنہ ٹھنڈک کی زیادتی سے اس پر جانداروں کا رہنا مشکل ہوجاتا ‘ سورج کے گرد زمین کی گردش کو اس کیفیت سے رکھا کہ عام لوگوں کو اس کی گردش محسوس نہیں ہوتی۔ 

اور فرمایا زمین کے گرد دریا رواں دواں کردیئے زمین سے پانی کئی صورتوں میں نکلتا ہے ‘ بعض سیال جاری چشمے ہیں ‘ زمین کے اندر جو بخارات چلتے رہتے ہیں کسی جگہ وہ بخارات جمع ہوجاتے ہیں اور اپنی قوت سے زمین کو پھاڑ کر نکل آتے ہیں ‘ اور بعض چشمے جاری نہیں ہوتے کیونکہ جن بخارات کی وجہ سے وہ چشمے وجود میں آتے ہیں وہ اتنے قوی نہیں ہوتے اور ندیوں اور نالوں اور دریائوں کے پانی ہیں اور کنوئوں کے پانی ہیں۔

رواسی راسیتہ کی جمع ہے ‘ اس کا استعمال پہاڑوں کے لیے ہوتا ہے۔

اور فرمایا : اور دو سمندروں کے درمیان آڑ پیدا کردی ‘ اس سے مقصود یہ ہے تاکہ میٹھا پانی کھارے پانی سے مختلط نہ ہو۔ کہتے ہیں کہ انسان کے دل میں بھی دو سمندر ہیں ایک حکمت اور ایمان کا سمندر اور دوسرا سرکشی اور شہوت کا سمندر ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان دو سمندروں کے درمیان بھی ایک رکاوٹ قائم کردی اور ایک سمندر دوسرے سمندر سے فاسد نہیں ہوتا ‘ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا :

مرج البحرین یلتوین۔ بینھما برزخ لا یبغیٰن۔ (الرحمن : ٢٠-١٩) اس نے دو سمندر جاری کردیئے جو ایک دوسرے سے کل جاتے ہیں ‘ ان کے درمیان ایک آڑ ہے جس سے وہ تجاوز نہیں کرتے۔

دو سمندروں سے فراد ایک کھارے پانی کا سمندر ہے اور ایک میٹھے پانی کا دریا ہے ‘ یا اس سے مراد یہ ہے کہ سمندر میں دو قسم کی لہریں ہیں ‘ ایک میٹھے پانی کی اور ایک کھارے پانی کی ‘ اور ہر ایک لہر سے ممتاز اور ممیز رہتی ہے ‘ تیسری صورت یہ ہے کہ سمندر میں بعض جگہوں پر اوپر کھارا پانی ہوتا ہے اور اس کی تہ میں نیچے میٹھا پانی ہوتا ہے ‘ چوتھی صورت یہ ہے کہ بعض مقامات پر دریا کا میٹھا پانی سمندر میں جا گرتا ہے اور میلوں تک یہ دونوں پانی ساتھ ساتھ چلتے رہتے ہیں اور ایک دوسرے سے مختلط نہیں ہوتے۔ 

یہ نعمتیں اور زمین میں یہ خصوصیات کس نے پیدا کی ہیں ‘ تم حضرت عیسیٰ اور حضرت عزیر کی پرستش کرتے ہو ‘ ان کے پیدا ہونے سے پہلے بھی زمین میں اور سمندروں میں یہ خصوصیات تھیں۔ درختوں میں پتھروں میں آگ میں ان میں سے کسی میں یہ طاقت نہیں کہ زمین کو اور سمندروں کو یہ خصوصیات دے سکے ‘ نہ سورج اور چاند میں یہ طاقت ہے کیونکہ سورج اور چاند زمین کے جس حصہ سے غروب ہوجاتے ہیں اس غروب سے زمین کے اس حصہ کی خصوصیات میں کوئی فرق نہیں آتا۔ پھر بتائو کہ زمین میں یہ خصوصیات کس نے پیدا کی ہئن ‘ اور ان کے پیدا کرنے کا کون دعویدار ہے ؟ پھر کیوں نہیں مان لیتے کہ اللہ ہی ان کا پیدا کرنے والا ہے اور وہی ان کو قائم رکھنے والا ہے اور وہی سب کی عبادتوں کا مستحق ہے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 27 النمل آیت نمبر 61