أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اِنَّمَاۤ اُمِرۡتُ اَنۡ اَعۡبُدَ رَبَّ هٰذِهِ الۡبَلۡدَةِ الَّذِىۡ حَرَّمَهَا وَلَهٗ كُلُّ شَىۡءٍ‌ ۖ وَّاُمِرۡتُ اَنۡ اَكُوۡنَ مِنَ الۡمُسۡلِمِيۡنَۙ ۞

ترجمہ:

مجھے صرف یہی حکم دیا گیا ہے کہ میں اس شہر (مکہ) کے رب کی عبادت کروں جس نے اس کو حرم بنادیا ہے اور اسی کی ملکیت میں ہر چیز ہے اور مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں فرمانبرداروں میں سے رہوں

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : مجھے صرف یہی حکم دیا گیا ہے کہ میں اس شہر (مکہ) کے رب کی عبادت کروں جس نے اس کو حرم بنادیا ہے اور اسی کی ملکیت میں ہر چیز ہے اور مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں فرمانبرداروں میں سے رہوں۔ اور یہ کہ میں قرآن کی تلاوت کروں ‘ سو جس نے ہدایت قبول کی تو اس نے اپنے ہی فائدہ کے لیے ہدایت قبول کی ‘ اور جو گمراہی پر ڈٹا رہا ہے تو آپ کہہ دیں کہ میں تو صرف عذاب سے ڈرانے والوں میں سے ہوں۔ اور آپ کہیے کہ تمام تعریفیں اللہ ہی کے لیے ہیں ‘ عنقریب تمہیں وہ اپنی نشانیاں دکھائے گا تو تم ان کو پہنچان لو گے ‘ اور آپ کا رب ان کاموں سے غافل نہیں ہے جو تم کر رہے ہو۔ 

Surah An Namal Last Ayaat

سورۃ النمل کا خاتمہ 

سورة النمل کی تفسیر ٣١ ذوالحج ‘ ٢٢٤١ ھ/٨٢ فروری ٢٠٠٢ ء بہ روز جمعرات کو شروع کی گئی تھی اور الحمد للہ رب العلمین یہ ٥ ربیع الاوّل ٣٢٤١ ھ/٨١ مئی ٢٠٠٢ ء بہ ہفتہ کو بعد نماز فجر یہ تفسیر مکمل ہوگئی۔ اپریل کے مہینہ میں ‘ میں کافی بیمار رہا اور شدید کمر کے درد کا عارضہ رہا ‘ اس وجہ سے یہ کام اپنے معمول کی رفتار سے نہیں ہوسکا ‘ میں عموماََ ایک ماہ میں نوے سے لے کر سو صفات تک لکھ لیتا ہوں ‘ لیکن اپریل کے ماہ میں صرف ٢٤ صفحات لکھ سکا ‘ کمر کا درد ‘ کلسٹر ول کی زیادتی کی وجہ سے ہوتا ہے ‘ میں نے وہ تمام چیزیں ترک کردی ہیں جن سے کلسٹرول بنتا ہے حتیٰ کہ سالن سے کھانا بھی چھوڑ دیا ہے ‘ تینوں وقت ڈبل روٹی کے تین سلائس پھیکی چائے کے ساتھ لیتا ہوں۔ قارئین کرام سے دعا کا خواست گار ہوں کہ اللہ تعالیٰ مجھے ان بیماریوں سے نجات عطا فرمائے اور ذہنی اور جسمانی توانائی عطا فرمائے کہ میں بتیان القرآن کی بقیہ جلدیں مکمل کرلوں اور جب تک زندہ رہوں ‘ صحت بر قرار رہے اور دین کا تبلیغ اور اشاعتی کام کرتا رہوں۔

اخیر میں اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا ہوں کہ وہ تفسیر بتیان القرآن کو مکمل کرادے اس کی تصنیف میں مجھے نسیان ‘ خطا اور لغزش سے محفوظ اور سلامت رکھے اور اس کو اپنی بارگاہ میں شرف قبول عطا فرمائے۔

واخر دعوانا انالحمد للہ رب العالمین والصلوۃ والسلام علی سید نا محمد خاتم النبیین سیدالمرسلین شفیع المذنبین و علی آلہ الطیبین الطاھرین و اصحابہ الھادین المھدیین و ازواجہ الطاھرات امھات المو منین و علی سائرالمسلمین اجمعین۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 27 النمل آیت نمبر 91