أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اِنَّ فِرۡعَوۡنَ عَلَا فِى الۡاَرۡضِ وَجَعَلَ اَهۡلَهَا شِيَـعًا يَّسۡتَضۡعِفُ طَآئِفَةً مِّنۡهُمۡ يُذَبِّحُ اَبۡنَآءَهُمۡ وَيَسۡتَحۡىٖ نِسَآءَهُمۡ‌ ؕ اِنَّهٗ كَانَ مِنَ الۡمُفۡسِدِيۡنَ ۞

ترجمہ:

بیشک فرعون ( اپنے) ملک میں سرکش تھا اور اس نے وہاں کے لوگوں کو گروہوں میں بانٹ رکھا تھا ‘ وہ ان میں سے ایک گروہ کو کمزور قرار دے کر ان کے بیٹوں کو ذبح کردیتا تھا اور ان کی عورتوں کو زندہ چھوڑ دیتا تھا ‘ بیشک وہ فساد کرنے والوں میں سے تھا

شیعاً کا معنی 

بے شک فرعون ( اپنے) ملک میں سرکش تھا۔ الآیۃ (القصص : ٤) یعنی فرعون اپنے ملک میں اپنے آپ کو سب سے بڑا قرار دیتا تھا اور اس نے وہاں کے لوگوں کو گروہوں میں بانٹ رکھا تھا گروہوں کے لیے اس آیت میں شیعاً کا لفظ ہے۔ شیعاً شیعۃ کی جمع ہے ‘ شیعہ کا معنی تقویت ہے جس سے انسان کو تقویت پہنچے اور کسی شخص کے گروہ سے بھی اس شخص کو تقویت پہنچتی ہے اس لیے گروہ کو شیعہ کہتے ہیں اور شیعہ کا معنی انتشار ہے جو چیز کسی چیز سے نکلے اور پھیلے اور چونکہ کسی شخص کا گروہ بھی اس سے نکلتا اور پھیلتا ہے اس لیے کسی شخص کے گروہ اور اس کے فرقہ کو شیعہ کہتے ہیں۔ آیت کے اس حصہ کا معنی یہ ہے کہ فرعوں نے متعدد فرقے بنائے ہوئے تھے جو اس کی اطاعت کرتے تھے اور ان میں سے کسی کو اس کے حکم کے خلاف کرنے کی طاقت نہ تھی یا اس نے متعدد فرقے بنادیئے تھے وہ سب اس کی خدمت کرتے تھے اور اس کو قوت پہنچاتے تھے یا اس نے ایسے متعدد گروہ بنا دیئے تھے جن میں سے بعض کو اس نے قوی قرار دیا تھا اور وہ قبطی تھے جو مصر کے قدیم باشندے تھے اور بعض کو اس نے ضعیف قرار دیا تھا اور یہ بنی اسرائیل تھے جو حضرت یوسف (علیہ السلام) کے زمانہ حکومت میں مصر میں آ کر آباد ہوگئے تھے ‘ فرعون بنی اسرائیل کے بیٹوں کو قتل کرنے کا حکم دیتا تھا اور ان کی عورتوں کو زندہ چھوڑ دیتا تھا۔ علامہ مقولی نے اس حکم کی حسب ذیل وجوہ بیان کی ہیں :

بنی اسرائیل کے بیٹوں کو قتل کرنے کی وجوہ 

(١) ایک کاہن نے فرعون سے کہا کہ بنی اسرائیل کے ہاں آج رات کو ایسا بچہ پیدا ہوگا جس کی وجہ سے تمہارا ملک جاتا رہے گا ‘ اس رات بارہ لڑکے پیدا ہوئے ‘ فرعون نے ان سب کو قتل کرا دیا ‘ اور اکثر مفسرین کے نزدیک بنی اسرائیل اس عذاب میں کئی سال تک مبتلا رہے۔ وہب بن منبہ نے کہا قبطیوں نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی تلاش میں نوے ہزار بنی اسرائیل کو قتل کردیا۔ بعض علماء نے کہا کہ فرعون کا یہ حکم اس کی حماقت کی دلیل تھا ‘ کیونکہ اگر اس کاہن کی یہ پیش گوئی سچی تھی تو بنی اسرائیل کو قتل کرنے سے فرعون کے ملک کا زوال دور نہیں ہوسکتا تھا اور فرعون بچ نہیں سکتا تھا ‘ اور اگر اس کاہن کی پیش گوئی جھوٹی تھی تو بنو اسرائیل کو قتل کرنے کا کیا فائدہ تھا ؟ ہمارے نزدیک کاہنوں اور نجومیوں کی پیش گوئیاں باطل ہوتی ہیں اور ان پر یقین کرنا جائز نہیں ہے ‘ اور ان کی پیش گوئیاں کو برحق ماننے کا یہ مطلب ہے کہ وہ غیب کی خبر دینے میں سچے ہیں حالانکہ اللہ تعالیٰ کے بتائے بغیر کوئی شخص غیب کو نہیں جان سکتا۔ کاہن نبی ہوتے ہیں نہ ولی اس لیے ان کے غیب پر مطلع کوئی سبیل نہیں ہے۔ سو میں سے کوئی ایک آدھ بات ان کی اتفاقاً سچی نکلتی ہے اور اس سے ان کا غیب دان ہونالازم نہیں آتا۔ فرعون کی حماقت واضع کرنے کے لیے جس اعتراض کا ذکر کیا گیا ہے اس قسم کا اعتراض تقدیر پر بھی کیا جاتا ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے کسی شخص کی تقدیر میں دوزخی ہونا لکھ دیا ہے تو پھر اس کے لیے نیکی کرنے کی کوششوں کا کیا فائدہ ہے ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اسی کے متعلق دوزخی لکھا ہے جس کے متعلق اس کو ازل میں علم تھا کہ یہ شخص اپنے اختیار سے ایسے کام کرے گا جو اس کے دوزخی ہونے کا سبب ہونگے۔

(٢) سدی نے کہا کہ فرعون نے ایک رات خواب میں دیکھا کہ بیت المقدس سے ایک آگ نکلی اور مصر پر پھیل گئی اور اس آگ نے قبطیوں کو جلا ڈالاجو مصر کے اصل باشندے تھے اور بنی اسرائیل کو نہیں جلایا ‘ اس نے اپنے درباریوں سے اس خواب کی تعبیر پوچھی تو اس کو بتایا گیا کہ جس شہر سے بنی اسرائیل آئے ہیں ‘ اس شہر والوں کی نسل سے ایک شخص پیدا ہوگا جس کے ہاتھوں سے تمہاری مصر سے حکومت زائل ہوجائے گی اور تم بھی قتل کردئیے جاؤ گے۔

(٣) حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے پہلے جو انبیاء تھے انہوں نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے معبوث ہونے اور ان کے ہاتھوں فرعون کے ہلاک ہونے کی خبر دی تھی اور یہ خبر کسی واسطے سے فرعون تک پہنچ گئی تھی ‘ اس لیے اس نے حکم دیا کہ بنی اسرائیل کے بیٹوں کو ذبح کردیا جائے تاکہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) مے پیدا ہونے کی نبوت ہی نہ آنے پائے۔ واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب (تفسیرکبیرج ٨ ص ٨٧٥۔ ٧٧٥‘ مطبوعہ داراحیاء التراث العربی بیروت ‘ ٥١٤١ ھ)

نیز فرعون کے متعلق فرمایا : بیشک وہ فساد کرنے والوں میں سے تھا ‘ یعنی وہ جو بنی اسرائیل کے بیٹوں کو قتل کرا رہا تھا وہ محض شر اور فساد تھا ‘ اس میں خیر اور اصلاح کا کوئی پہلو نہ تھا ‘ اور اللہ تعالیٰ کی قضاء قدر کو مسترد کرنے کی اس میں کوئی تاثیر نہ تھی۔

القرآن – سورۃ نمبر 28 القصص آیت نمبر 4