حدیث نمبر 510

روایت ہے حضرت ابی ابن کعب سے فرماتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم جب وتر کا سلام پھیرتے تو فرماتے “سُبْحَانَ الْمَلِكِ الْقُدُّوْس”(ابوداؤد)اور نسائی نے زیادہ کیا کہ تین بار دراز کرکے ۱؎

شرح

۱؎ اس طرح کہ قدوس کی دال کو خوب کھینچتے مگر آخری بار میں جیسا کہ آئندہ کلام سے معلوم ہورہا ہے۔بعض روایات میں ہے کہ اس کے بعد یہ بھی فرماتے”رَبُّنَا وَرَبُّ الْمَلَاْئِکَۃِ وَالرُّوْح”اور روح کی ر کو بھی کھینچتے جیسا کہ دار قطنی اور ابن شیبہ کی احادیث میں ہے اور مسلمانوں کا اس پر عمل ہے۔

حدیث نمبر 511

اور نسائی کی عبدالرحمن ابن ابزی کی روایت میں ہے جو انہوں نے اپنے والد سے کی فرمایا کہ جب سلام پھیرتے تو تین بار فرماتے”سبحان الملك القدوس”تیسری بار میں آواز کھینچتے ۱؎

شرح

۱؎ یعنی بلند آواز سے کہتے اور دراز کرتے۔اس حدیث کے ماتحت لمعات و مرقاۃ وغیرہ میں ہے کہ ذکر بالجہر بہت اعلیٰ چیز ہے بشرطیکہ ریاء سے خالی ہو کہ اس میں غافلوں کو ہوشیار کرنا ہے،سوتوں کو جگانا ہے،شیطان کو بھگانا ہے اور جہاں تک آواز پہنچے وہاں تک کے جانوروں درختوں اینٹ پتھروں کو اپنے ایمان پر گواہ بنانا ہے۔جن احادیث میں ذکر بالجہر سے ممانعت آئی ہے اس سے وہ جہر مراد ہے جس سے دوسروں کو تکلیف ہو یا ذاکر میں ریا ہو۔خیال رہے کہ بعض ذکروں میں جہر شرط ہے جیسا اذان تلبیہ اور بقرعید کے زمانہ میں نمازوں کے بعد تکبیر تشریق وغیرہ۔