أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

حَتّٰٓى اِذَا جَآءُوۡ قَالَ اَكَذَّبۡتُمۡ بِاٰيٰتِىۡ وَلَمۡ تُحِيۡطُوۡا بِهَا عِلۡمًا اَمَّاذَا كُنۡتُمۡ تَعۡمَلُوۡنَ ۞

ترجمہ:

حتیٰ کہ جب وہ آجائے گے تو ( اللہ) فرمائے گا کیا تم نے میری آیتون کو جھٹلایا تھا حالانکہ تم نے اپنے علم سے ان کو احاطہ نہیں کیا تھا اگر یہ بات نہیں تو پھر تم کیا کرتے رہے تھے ؟

حتیٰ کی جب وہ آجائیں گے تو اللہ تعالیٰ ان سے فرمائے گا کیا تم نے میری آیتوں کو جھٹلایا تھا ؟ یعنی میں نے اپنے رسولوں پر جو آیتیں نازل کی تھیں تم نے ان کی تکذیب کی تھی یا میں نے اپنی توحید پر جو دلائل قائم کئے تھے تم نے ان کا انکار کیا تھا ‘ حالانکہ تم نے دلائل کے ساتھ ان آیات کے باطل ہونے کو نہیں جانا تھا بلکہ تم نے بغیر دلائل کے جہالت سے ان آیتوں کا انکار کیا تھا ‘ پھر اللہ تعالیٰ زجرو توبیخ کرتے ہوئے فرمائے گا جب تم نے ان آیتوں پر بحث و تمحیص نہیں کی اور ان پر غور و فکر نہیں کیا تو تم کیا کرتے رہے تھے ؟

اور جب ان کے ظلم کرنے کی وجہ سے یعنی ان کے شرک کرنے کی وجہ سے ان پر عذاب واقع ہوجائے گا تو وہ کوئی بات نہیں کرسکیں گے ‘ کیونکہ ان کے پاس اپنے شرک اور دیگر برے اعمال پر کوئی عذر ہوگا نہ کوئی دلیل ہوگی ‘ اور اکثر مفسرین نے یہ کہا ہے کہ ان کے مونہوں پر مہر لگادی جائے گی اس لیے وہ کوئی بات نہیں کرسکیں گے۔

القرآن – سورۃ نمبر 27 النمل آیت نمبر 84