الفصل الثانی

دوسری فصل

حدیث نمبر 501

روایت ہے حضرت غضیف ابن حارث سے ۱؎ فرماتے ہیں میں نے حضرت عائشہ سے عرض کیا کہ فرمایئے تو رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم غسل جنابت اول شب میں کرتے تھے یا آخر میں فرمایا اکثر اول شب میں غسل کرتے تھے اور اکثر آخر میں ۲؎ میں نے کہا اﷲ اکبر خدا کا شکر ہے اس کام میں گنجائش رکھی میں نے عرض کیا کہ اول رات میں وتر پڑھتے تھے یا آخر میں فرمایا بارہا اول رات میں وتر پڑھتے تھے بار ہا آخر میں ۳؎ میں نے کہا اﷲ اکبر خدا کا شکر ہے جس نے اس معاملہ میں گنجائش دی میں نے عرض کیا کہ بلند قرأت کرتے تھے یا آہستہ فرمایا بارہا بلند کرتے تھے بارہا آہستہ ۴؎ میں نے کہا اﷲ اکبر خدا کا شکر ہے جس نے اس میں گنجائش دی۔(ابوداؤد)اور ابن ماجہ نے آخری بات روایت کی۔

شرح

۱؎ آپ نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا زمانہ شریف پایا مگر صحبت پاک پانے میں اختلاف ہے،اسی لیئے بعض محدثین نے آپ کو صحابی کہا ہے اور بعض نے تابعی۔

۲؎ یہ اکثریت اضافی نہیں بلکہ حقیقی ہے یعنی اول شب میں غسل کرلینا بھی بارہا تھا اور آخر میں بھی یعنی یہ بھی جائز ہے کہ جنبی ہوتے ہی غسل کرے اور یہ بھی کہ رات بھر جنابت میں گزارے تہجد یا صبح کے وقت غسل کرلے مگر ایسی صورت میں مستحب یہ ہے کہ وضو کرکے سوئے۔

۳؎ حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کا اول شب میں وتر پڑھنا بیان جواز کے لیئے تھا اور آخر شب میں وتر پڑھنا بھی بیان جواز کے لیئے،اول شب میں وتر پڑھنے کی وجہ یہ نہ تھی کہ آپ کو اپنے جاگنے پر بھروسہ نہ تھا بلکہ امت کی آسانی کے لیئے۔

۴؎ یعنی تہجد میں۔علماء فرماتے ہیں کہ جہاں لوگوں کو تہجد کے لیئے اٹھانا ہو وہاں قدرے بلند قرأت کرے اور جہاں سونے والوں کو تکلیف سے بچانا مقصود ہو وہاں آہستہ کرے۔اس حدیث سے معلوم ہوا کہ خوشی کے موقع پر نعرہ تکبیر لگانا اور سبحان اﷲ وغیرہ کہنا سنت صحابہ ہے۔