حدیث نمبر 509

روایت ہے حضرت حسن ابن علی سے فرماتے ہیں ۱؎ مجھے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے چند کلمات سکھائے جنہیں میں وتر کے قنوت میں پڑھا کروں الٰہی مجھے ان میں ہدایت دے جنہیں تو نے ہدایت دی اور عافیت والوں میں عافیت دے جن کا تو والی بنا ان میں میرا والی ہو ۲؎ اپنے دیئے میں مجھے برکت دے اور قضاء قدر کی برائی سے مجھے بچا ۳؎ کہ تو فیصلہ کرتا ہے تجھ پر فیصلہ نہیں کیا جاتا جس کا تو والی ہو و ہ ذلیل نہیں ہوتا اے رب تو برکت و بلندی والا ہے۴؎(ترمذی و ابوداؤد،نسائی ابن ماجہ ، دارمی)

شرح

۱؎ ہمیشہ سارا سال نہ کہ صرف نصف آخر رمضان میں لہذا یہ حدیث امام اعظم کی قوی دلیل ہے کہ دعائے قنوت وتر میں ہمیشہ پڑھی جائے۔خیال رہے کہ امام حسن کی پیدائش رمضان ۳ھ ؁میں ہے لہذا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے وقت آ پ سات برس کے تھے اس عمر میں کی ہوئی روایت معترن ہے۔

۲؎ یعنی مجھے اس جماعت میں والی بنا جنہیں تو نے ہدایت عافیت اور ولایت بخشی۔بعض علماء فرماتے ہیں کہ ہدایت سے مراد ہے نیک اعمال کی رہبری اور عافیت سے مراد ہے بری بیماریوں،برے اخلاق اور بری خواہشات سے حفاظت۔ولایت سے مراد ہے اپنی امن میں لینا اور ہمیں نفس و شیطان کے حوالے نہ کردینا۔

۳؎ یعنی میرے متعلق برے فیصلے نہ فرما اچھے فیصلے کر۔

۴؎ سبحان اﷲ! نہایت جامع دعا ہے اگر وتروں میں یہ پڑھی جائے تب بھی جائز و بہتر ہے۔