روحیں…شب جمعہ…ایصال ثواب

۔

امام بخاری کے استاد ابن ابی شیبہ صحابی سیدنا عبداللہ ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ:

فَإِذَا مَاتَ الْمُؤْمِنُ يُخْلَى بِهِ يَسْرَحُ حَيْثُ شَاءَ

مومن جب وفات پاتا ہے تو اسے آزاد کردیا جاتا ہے وہ جہاں چاہے آتا جاتا رہتا ہے

[مصنف ابن أبي شيبة ,7/129 روایت34722]۔

اہلسنت اور دیوبند کے معتبر ترین عالم دین شیخ الحدیث صوفی محقق شیخ عبدالحق محدث دہلوی رحمۃ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں:

ودربعض روایات آمدہ است کہ روح میّت می آید خانہ خود راشب جمعہ، پس نظر می کند کہ تصدق می کنند ازوے یا نہ۔” اور

بعض روایات میں آیا ہے کہ رُوح شب جمعہ کو اپنے گھر آتی ہے اور انتظار کرتی ہے کہ اس کی طرف سے صدقہ کرتے ہیں یا نہیں(اشعۃ اللمعات باب زیارۃ القبور مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۱ /۷۱۶ و ۷۱۷ فتاوی رضویہ9/650).

لہذا وقتا فوقتا اور بالخصوص جمعہ ، شب جمعہ ، عیدین ،یوم عاشورہ، شب برات ، شب معراج ، شب قدر وغیرہ بابرکت ایام و راتوں میں صدقہ ایصال ثواب وفات شدگان کو ضرور کرنا چاہیے۔۔۔۔طعام وغیرہ بھی صدقہ ایصال ثواب کیا جا سکتا ہے۔۔۔درود پڑھ کر ،سورتیں پڑھ کر،ذکر اذکار کر کے ،نوافل پڑھ کر، نفلی روزہ رکھ کر ، علم کا کوئی باب پڑھ کر سمجھ کر اور دیگر نیک کام و قول کرکے بھی ان سب کا ثواب روحوں کو، فوت شدگان کو ایصال ثواب کیا جا سکتا ہے۔۔۔یہ سب اچھے قول و فعل صدقہ ہیں…انکا ثواب ایصال ثواب کیا جا سکتا ہے…حدیث پاک میں ہے کہ ہر بھلائی والا کام ، بھلائی والا قول صدقہ ہے

الحدیث

كل معروف صدقة

ہر بھلائی(والا قول و فعل)صدقہ ہے (بخاری حدیث6021) .

زندہ لوگوں کا ایصال کردہ ثواب مُردوں کو پہنچتا ہے،انہیں اس ایصال ثواب سے نفع پہنچتا ہے…اس پر علماء اہلسنت نے باقاعدہ کتابیں لکھیں…یہاں مختصرا قرآن حدیث عقائد فقہ سے ایک ایک دلیل ملاحظہ فرمائیے:۔

قرآن پاک سے دلیل:

وَالَّذِينَ جَاءُوا مِنْ بَعْدِهِمْ يَقُولُونَ رَبَّنَا اغْفِرْ لَنَا وَلِإِخْوَانِنَا الَّذِينَ سَبَقُونَا بِالْإِيمَانِ

اور وہ جو ان کے بعد آئے عرض کرتے ہیں اے ہمارے رب ہمیں بخش دے اور ہمارے بھائیوں کو جو ہم سے پہلے ایمان لائ انہیں بخش دے [سورہ الْحَشْرِ: آیت 10]

جب استغفار اپنے فوت شدہ مسلمان بھائیوں کے لئے فائدہ مند ہو سکتا ہے تو پھر دیگر صدقات و ایصال ثواب بھی فائدہ مند ہو سکتے ہیں بلکہ ہوتے ہیں جیسے کہ اس آیت اور دیگر احادیث سے بھی ثابت ہے.

حدیث پاک سے دلیل:

ایک صحابی رضی اللہ تعالی عنہ کی والدہ وفات پا گئیں صحابی نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں سوال کیا

فَهَلْ لَهَا أَجْرٌ إِنْ تَصَدَّقْتُ عَنْهَا؟ قَالَ: «نَعَمْ»

اگر میں اپنی وفات شدہ والدہ کی طرف سے صدقہ( ایصال ثواب )کروں تو کیا اس کو اجر.و.ثواب ملے گا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جی ہاں (بخاري حدیث1388).

عقیدہ کی کتاب سے دلیل و حوالہ:

وَفِي دُعَاءِ الْأَحْيَاءِ وَصَدَقَاتِهِمْ مَنْفَعَةٌ لِلْأَمْوَاتِ

زندہ لوگ جب دعا کریں اور صدقات کریں ایصال ثواب کریں تو اس کا فائدہ مُردوں کو ہوتا ہے [عقيدة الطحاوية مع الشرح ,2/663].

فقہ سے دلیل و حوالہ:

الْأَفْضَلُ لِمَنْ يَتَصَدَّقُ نَفْلًا أَنْ يَنْوِيَ لِجَمِيعِ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ لِأَنَّهَا تَصِلُ إلَيْهِمْ وَلَا يَنْقُصُ مِنْ أَجْرِهِ شَيْءٌ اهـ هُوَ مَذْهَبُ أَهْلِ السُّنَّةِ وَالْجَمَاعَةِ

افضل ہیں کہ جب صدقہ ایصال ثواب کرے تو تمام مومنین و مومنات کو ایصال ثواب کرے ان سب کو ثواب پہنچے گا اور ایصال ثواب کرنے والے کے ثواب میں بھی کوئی کمی نہ ہوگی یہی اہل سنت والجماعت کا مذہب ہے [الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) ,2/243].

.

✍تحریر:العاجز الحقیر علامہ عنایت اللہ حصیر

03468392475