صحابۂ کرام کا جذ بۂ زیارت النبی ﷺ

صحابۂ رسولﷺ و رضوان اللہ تعالیٰ علیہم سرکار کے مزارپُرانوار کی زیارت کو بہت اہمیت دیتے تھے اور کیوں نہ ہو کہ انہیں معلوم تھا کہ حضور کی قبر شریف کی زیارت بھی حضور ہی کی زیارت ہے جیسا کہاوپر حدیثسے ثابت ہوا۔

’’فتوح الشام‘‘ وغیرہ میں ہے کہ عہد فاروقی میں جب ملک ِشام فتح ہوا اور بیت المقدس پربغیر جہاد کے اسلامی پرچم لہرایا، اسی دوران حضرت کعب احباررضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اسلام قبول کیا اس واقعہ سے سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کو بہت شادمانی ہوئی، مدینہ طیبہ واپس لوٹتے ہوئے خلیفۃ المسلمین نے کعب احبار کو زیارت النبی ا کی دعوت دی۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ان سے فرمایا آپ ہمارے ساتھ مدینہ تشریف لے چلیں گے؟ اور نبی کریم ﷺ کی قبر شریف کی زیارت سے مستفیض ہونگے ؟تو انہوں نے حضرت عمر سے کہا : ہاں میں ایسا کروں گا۔

چنانچہ امیر المومنین اورحضرت کعب احبار رضی اللہ عنہما یہ طویل سفر کرکے مدینہ طیبہ حاضر ہوئے اور سب سے پہلے سرکارﷺ کے مواجہ مقدسہ میں جاکر زیارت سے شاد کام ہوئے (فتوح الشام۔ وفاء الوفاج ۲ ص؍۴۰۹)

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کا معمول تھا کہ جب کسی سفر سے واپس تشریف لاتے تھے تو سب سے پہلا ان کا کام یہ ہوتا تھا کہ حضور سیدالمرسلین ا کی بارگاہ میں حاضری دیتے تھے، اور اس طرح سلام کہتے :

اَلسَّلاَمُ عَلَیْکَ یَارَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ

سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کے غلام حضرت نافع سے لوگوں نے دریافت کیا کہ آپ نے کبھی اپنے آقا ( ابن عمر)کو حضورﷺ کی بارگاہ میں حاضر ہوکر سلام عرض کرتے ہوئے دیکھا ہے ؟ تو انہوں نے جواب دیا کہ میں نے ایک بار نہیں بلکہ سیکڑوں بار انہیں حضور ﷺ کی بارگاہ میں آپ کی قبر اطہر کے سامنے کھڑے ہوکر سلام کہتے ہوئے سناہے۔ آپ اس طرح سلام پیش فرمایا کرتے تھے’’السَّلاَ مُ عَلیَ النَّبِیِّ ٭ السَّلاَ مُ عَلیٰ اَبِیْ بَکَرٍ٭ السَّلاَ مُ عَلیٰ اَبِیْ‘‘ ( موطا امام مالک جلد ؍۱ ص۳۸۲)

سیدنا ابو عبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ نے اپنا قاصد بنا کر میسرہ بن مسروق کو بیت المقدس سے مدینہ منورہ امیر المومنین حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی خدمت میں بھیجا حضرت میسرہ مدینہ طیبہ پہونچے، تو رات ہوچکی تھی۔ آپ سب سے پہلے حضور اقدس ﷺ کی زیارت کیلئے حاضر ہوئے۔ صلوٰۃ وسلام کا ہدیہ پیش کیا۔حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کو سلام پیش کیا پھر اپنے کاموں میں مصروف ہوئے

حضرت عمر بن عبد العزیز رضی اللہ عنہ کا معمول تھا کہ ملک شام سے مدینہ طیبہ حضور اقدس ﷺ کی خدمت عالی میں سلام پیش کرنے کیلئے قاصد بھیجا کرتے تھے۔