أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

طٰسٓمٓ ۞

ترجمہ:

طاسین میم

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : طاشین میم۔ یہ روشن کتاب کی آیتیں ہیں۔ ہم آپ کے سامنے موسیٰ کی فرعون کی برحق خبریں اس لوگوں کے لیے تلاوت کرتے ہیں جو ایمان لانے والے ہیں۔ بیشک فرعون ( اپنے ملک میں) سرکش تھا ‘ اور اس نے وہاں کے لوگوں کو گروہوں میں بانٹ رکھا تھا ‘ وہ ان میں سے ایک گروہ کو کمزور قرار دے کر ان کے بیٹوں کو ذبح کرتا تھا ‘ اور ان کی عورتوں کو زندہ چھوڑ دیتا تھا بیشک وہ فساد کرنے والوں میں سے تھا۔ اور ہم ان لوگوں پر احسان فرمانا چاہتے تھے جن کو ( اس کے) ملک میں کمزور قرار دیا گیا تھا ‘ اور ہم ان کو امام بنانا چاہتے تھے اور (ان کے ملک کا) وارث بنانا چاہتے تھے۔ اور ہم ان کو ان کے ملک کا اقتدار عطا کرنا چاہتے تھے ‘ اور ہم فرعون اور ھامان اور ان کے لشکروں کو (بنی اسرئیل کے ہاتھوں) وہ انجام دکھانا چاہتے تھے جس سے وہ خوف زدہ تھے۔ (القصص : ٦۔ ١) 

طسم کا معنی 

طسم (القصص : ا) جس طرح اس سے پہلے بعض سورتوں کو حروف مقطعات سے شروع کیا گیا ہے اسی طرح اس سورت کو بھی ان ہی وجوہ سے حروف مقطعات سے شروع کیا گیا ہے۔ نیز کہا گیا ہے کہ طا میں یہ اشارہ ہے کہ بنواسرئیل کو فرعون کی طویل غلامی سے نجات ملنے اور اس کی غلامی سے ان کے طیب اور طاہر ہونے کا اس سورت میں ذکر ہے ‘ اور سین میں یہ اشارہ ہے کہ اس سورت میں ان کو حاصل ہونے والی سمو (بلندی) اور سیادت کا ذکر ہے اور میم میں یہ اشارہ ہے کہ ان کو فرعون کے ملک مصر کے اقتدار عطا کیے جانے کا اس سورت میں ذکر ہے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 28 القصص آیت نمبر 1