أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

قُلْ لَّا يَعۡلَمُ مَنۡ فِى السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ الۡغَيۡبَ اِلَّا اللّٰهُ‌ؕ وَمَا يَشۡعُرُوۡنَ اَيَّانَ يُبۡعَثُوۡنَ ۞

ترجمہ:

آپ کہیے کہ آسمانوں میں اور زمینوں میں اللہ کے سوا کوئی (ازخود) غیب نہیں جانتا اور نہ لوگ یہ جانتے ہیں کہ ان کو کب اٹھایا جائے گا

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : آپ کہیے کہ آسمانوں میں اور زمینوں میں اللہ کے سوا کوئی (ازخود) غیب نہیں جانتا اور نہ لوگ یہ جانتے ہیں کہ ان کو کب اٹھایا جائے گا۔ کیا ان کو آخرت کا پورا علم حاصل ہوگیا ؟ (نہیں ! ) بلکہ وہ اس کے متعلق شک میں ہیں ‘ بلکہ وہ آخرت کے متعلق اندھے (الکل جاہل) ہیں۔ (النمل : ٦٦- ٦٥ )

بل ادرک علمھم فی الاخرۃ کے معانی 

اس آیت سے پہلے اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت پر دلائل قائم کیے تھے کہ اس نے اپنی قدرت کاملہ سے آسمانوں اور زمینوں کو پیدا کیا اور مخلوق کو اپنے وجود اور بقا میں جن چیزوں کی ضرورت پیش آتی ہے ان کو بھی اللہ تعالیٰ نے پیدا کیا ہے ‘ اور ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ اپنے کمال علم کو بیان فرما رہا ہے کہ آسمانوں اور زمینوں میں از خود غیب کو صرف وہی جانتا ہے۔

اگر کسی کو یہ غلط فہمی ہو کہ آسمانوں اور زمینوں میں کوئی از خود غیب کو جاننے والا ہے اور اس وجہ سے وہ عبادت کا مستحق ہے تو اس کی یہ غلط فہمی دور ہوجانی چاہیے۔ جب آسمان والوں میں سے بھی کوئی ازخود غیب کو نہیں جانتا تو زمین والے ازخود غیب کو کس طرح جان سکتے ہیں۔ 

دوسری آیت میں فرمایا ہے بل ادرک علمھم فی الاخرۃ ‘ ادارک اصل میں تدارک تھا جو صرف ایک قانون کی وجہ سے ادارک ہوگیا ‘ کیا ان کو آخرت کا پورا علم حاصل ہوگیا ؟ اس آیت کے معنی میں مفسرین کا اختلاف ہے بعض کے نزدیک اس کا معنی ہے آخرت کے متعلق ان کا علم غائب ہوگیا اور وہ اس کو نہ سمجھ سکے ‘ بعض نے کہا اس کا معنی ہے آخرت کے متعلق وہ شکوک اور شبہات میں مبتلا ہیں ‘ کبھی وہ مرنے کے بعد دوبارہ زندہ ہونے کو بہت بعید کہتے تھے ‘ اور اس پر حیرت کا اظہار کرتے تھے ‘ اور کبھی آخرت کا صاف انکار کردیتے تھے ‘ خلاصہ یہ ہے کہ آخرت کے متعلق ان کا علم الجھا ہوا تھا ‘ اور بعض نے کہا اس کا معنی یہ ہے کہ آخرت کے معاملہ میں ان کا علم آخرت میں کامل ہوجائے گا لیکن اس وقت یہ سود مند نہیں ہوگا۔ 

علم غیب کی تحقیق 

ان دو آیتوں کی اختصار کے ساتھ تفسیر کرنے کے بعد ہم علم غیب پر بحث کرنا چاہتے لیں ہرچند کہ ہم الاعراف اور النحل میں اس پر سیر حاصل بحث کرچکے ہیں لیکن چونکہ ہمارے دور کے بعض مفسرین نے النمل : ٦٥ میں بھی اس پر گفتگو کی ہے تو ہم بھی یہاں اختصار کے ساتھ علم غیب کی تحقیق کرنا چاہتے ہیں۔

سید ابوالاعلیٰ مودودی اور مفتی محمد شفیع دیوبندی نے اس آیت میں غیب کے متعلق جو کچھ لکھا ہے پہلے ہم اس کو پیش کریں گے ‘ پھر اس پر تبصرہ کریں گے ‘ پھر غیب کا لغوی اور اصطلاحی معنی بیان کریں گے پھر نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے علم غیب کے ثبوت میں قرآن مجید کی آیات اور احادیث پیش کریں گے پھر جمہور علماء اور مخالفین کی عبارات سے ان آیات کا محمل بیان کریں گے جن سے بظاہر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے علم غیب کی نفی ہوتی ہے اور آخر میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے علم کلی اور علم ماکان ومایکون پر قرآن اور حدیث سے ایک دلیل بیان کریں گے۔ 

رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے علم غیب کے متعلق سید ابوالاعلیٰ مودودی اور مفتی محمد شفیع کا نظریہ 

سید ابوالاعلیٰ مودودی متوفی ١٣٩٩ ھ لکھتے ہیں : 

اسی بنا پر یہ اسلام کا بنیادی عقیدہ ہے کہ عالم الغیب اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی دوسرا نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں میں سے جس پر چاہے اور جس قدر چاہے اپنی معلومات کا کوئی گوشہ کھول دے ‘ اور کسی غیب یا بعض غیوب کو اس پر روشن کر دے ‘ لیکن علم غیب بحیثیت مجموعی کسی کو نصیب نہیں اور عالم الغیب ہونے کی صفت صرف اللہ رب العلمین کے لیے مخصوص ہے۔ 

وعندہ مفاتح الغیب لا یعلمھا الا ہو ” اور اسی کے پاس غیب کی کنجیاں ہیں ‘ انہیں کوئی نہیں جانتا اس کے سوا “ (الانعام آیت : ٥٩) ان اللہ عندہ علم الساعتہ و ینزل الغیث و یعلم ما فی الارحام و ما تدری نفس ما داتکسب غدا وما تدری نفس بای ارض تموت ” اللہ ہی کے پاس ہے قیامت کا علم اور وہی بارش نازل کرنے والا ہے ‘ اور وہی جانتا ہے کہ مائوں کے رحم میں کیا (پرورش پا رہا) ہے اور کوئی متنفس نہیں جانتا کہ کل وہ کیا کمائی کرے گا ‘ اور کسی متنفس کو خبر نہیں ہے کہ کس سر زمین میں اس کو موت آئے گی “ (لقمان ‘ آیت : ٣٤) یعلم ما بین اید یہم وما خلفھم ولا یحیطون بشیء من علمہ الا بما شائ ” وہ جانتا ہے جو کچھ مخلوقات کے سامنے ہے اور جو کچھ ان سے اوجھل ہے ‘ اور اس کے علم میں سے کسی چیز پر بھی وہ احاطہ نہیں کرسکتے الا ییہ کہ وہ جس چیز کا کا ہے انہیں علم دے “ (البقرۃ ‘ آیت ٢٥٥ )

قرآن مجید مخلوقات کے لیے علم غیب کی اس عام اور مطلق نفی پر ہی اکتفا نہیں کرتا بلکہ خاص طور پا انبیاء (علیہم السلام) ‘ اور خود امحمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بارے میں اس امر کی صاف صاف تصریح کرتا ہے کہ وہ عالم الغیب نہیں ہیں اور ان کو غیب کا صرف اتنا علم اللہ تعالیٰ کی طرف سے دیا گیا ہے جو رسالت کی خدمت انجام دینے کے لیے درکار تھا۔ سورة انعام آیت ٥٠‘ الاعراف آیت ١٨٧‘ التوبہ ‘ آیت ١٠١‘ ھود ‘ آیت ٣١‘ احزاب ‘ آیت ٦٣‘ الاحقاف آیت ٩‘ التحریم ‘ آیت ٣‘ اور الجن آیات ٢٦ تا ٢٨ اس معاملہ میں کسی اشتباہ کی گنجائش نہیں چھوڑتیں۔ 

قرآن کی یہ تمام تصریحات زیر بحث آیت کی تائید و تشریح کرتی ہیں جن کے بعد اس امر میں کسی شک کی گنجائش نہیں رہتی کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کو عالم الغیب سمجھنا اور یہ سمجھنا کہ کوئی دوسرا بھی جمیع ماکان ومایکون کا علم رکھتا ہے ‘ قطعاً ایک غیر اسلامی عقیدہ ہے۔ شیخین ‘ ترمذی ‘ نسائی ‘ امام احمد ‘ ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے صحیح سندوں کے ساتھ حضرت عائشہ کا یہ قول نقل کیا ہے کہ من زعم انہ (ای النبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یعلم مایکون فی غدفقد اعظم علی اللہ الفریۃ واللہ یقول قل لا یعلم من فی السموات والارض لغیب الا اللہ یعنی ” جس نے دعویٰ کیا کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جانتے ہیں کل کیا ہونے والا ہے اس نے اللہ پر سخت جھوٹ کا الزام لگایا ‘ کیونکہ اللہ تو فرماتا ہے اسے نبی تم کہہ دو کہ غیب کا علم اللہ کے سوا آسمانوں اور زمین کے رہنے والوں میں سے کسی کو بھی نہیں ہے۔ “ ابن المذ رحضرت عبد اللہ بن عباس کے مشہور شاگرد عکرمہ سے روایت کرتے ہیں کہ ایک شخص نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے پوچھا ” اے محمد ! قیامت کب آئے گی ؟ اور ہمارے علاقے میں قحط برپا ہے ‘ بارش کب ہوگی ؟ اور میری بیوی حاملہ ہے ‘ وہ لڑکا جنے گی یا لڑکی ؟ اور یہ تو مجھے معلوم ہے کہ میں نے آج کیا کمایا ہے ‘ کل میں کیا کمائوں گا ؟ اور یہ تو مجھے معلوم ہے کہ میں کہاں پیدا ہوا ہوں ‘ مروں گا کہاں ؟ “ ان سوالات کے جواب میں سورة لقمان کی وہ آیت حضور نے سنائی جو اوپر ہم نے نقل کی ہے ان اللہ عندہ علم الساعۃ، پھر بخاری و مسلم اور دوسری کتب حدیث کی وہ مشہور روایت بھی اسی کی تائید کرتی ہے جس میں ذکر ہے صحابہ کے مجمع میں حضرت جبریل نے انسانی شکل میں آکر حضور سے جو سوالات کیے تھے ان میں ایک یہ بھی تھا کہ قیامت کب آئے گی ؟ حضور نے جواب دیا ما المسئول عنھا باعلم من السائل (جس سے پوچھا جارہا ہے وہ خود پوچھنے والے سے زیادہ اس بارے میں کوئی علم نہیں رکھتا) پھر فرمایا یہ ان پانچ چیزوں میں سے ہے جن کا علم اللہ کے سوا کسی کو نہیں ‘ اور یہی مذکورہ بالا آیت حضور نے تلاوت فرمائی۔ (تفہیم القرآن ج ٣ ص ٥٩٨۔ ٥٩٧‘ مطبوعہ ادارہ ترجمان القرآن لاہور ‘ ١٩٨٣ ھ)

سید ابو الا علیٰ مودودی کی تفسیر پر مصنف کا تبصرہ 

سید ابو الاعلی ٰ مودودی کا یہ لکھنا درست ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) عالم الغیب نہیں ہیں ‘ کیونکہ عالم الغیب اللہ تعالیٰ کی صفت مخصوصہ ہے اس کا اطلاق اللہ تعالیٰ کے غیر پر جائز نہیں ہے ‘ ہرچند کہ آپ کو بیشمار علوم غیبیہ دیئے گئے لیکن آپ پر عالم الغیب کا اطلاق جائز نہیں ہے جیسا کہ آپ عزیز اور جلیل ہیں اس کے باوجود محمد عزوجل کہنا جائز نہیں ہے کیونکہ عرف میں عزوجل کا لفظ اللہ تعالیٰ کے ساتھ خاص ہے۔

اور سید مودودی کا یہ لکھنا درست نہیں ہے کہ آپ کو غیب یا علم غیب نہیں دیا گیا ‘ البقرہ : ٣ میں متقین کی یہ صفت بیان فرمائی ہے۔ الذین یؤمنون بالغیب ‘ یعنی متقین وہ ہیں جن کا غیب پر ایمان ہے اور ایمان تصدیق بالقلب کو کہتے ہیں اور تصدیق علم کی اعلیٰ قسم ہے اس کا مطلب ہے ہر متقی کو غیب کا علم ہوتا ہے ‘ کیونکہ ہر متقی اللہ تعالیٰ کی ‘ فرشتوں کی ‘ اور جنت اور دوزخ کی تصدیق کرتا ہے اور اس کو ان کا علم ہوتا ہے اور یہ سب امور غیب سے ہیں ‘ سو اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے ہر متقی کے علم پر علم غیب کا اطلاق کیا ہے ‘ اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سب سے بڑھ کر متقی ہیں اس لیے آپ کو سب سے زیادہ علم غیب ہے ‘ اور یہ کہنا کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کو بھی علم غیب نہیں ہے ‘ اس آیت کا اور دیگر آیات کا انکار ہے ‘ ہاں اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کو بھی ازخود غیب کا علم نہیں ہے ‘ یا کسی کو بھی تمامغیوب کا علم نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ نبیوں اور رسولوں کو فرشتوں کے واسطے سے غیوب پر مطلع فرماتا ہے یا براہ راست ان کو وحی کے ذریعہ غیب پر مطلع فرماتا ہے اور اولیاء اللہ کو اللہ تعالیٰ الہام کے ذریعہ غیب پر مطلع فرماتا ہے اور عام مومنین کو نبیوں اور رسولوں کے خبر دینے سے غیب کا علم ہوتا ہے اور ہر شخص کو حسب حیثیت اور بلحاظ مرتبہ غیب کا علم دیا جاتا ہے اور کائنات میں سب سے زیادہ غیب کا علم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو عطا کیا گیا ہے۔

مفتی محمد شفیع دیوبندی متوفی ١٣٩٦ ھ لکھتے ہیں :

حق تعالیٰ خود بذریعہ وحی اپنے انبیاء کو جو امور غیبیہ بتاتے ہیں وہ حقیقتاً علم غیب نہیں بلکہ غیب کی خبریں ہیں جو انبیاء کو دی گئی ہیں جس کو خود قرآن کریم نے کئی جگہ انباء الغیب کے لفظ سے تعبیر فرمایا ہے۔ (معارف القرآن ج ٢‘ ص ٢٤٨‘ مطبوعہ ادارۃ المعارف کراچی ‘ ١٤١٤ ھ)

ہمارے نزدیک یہ کہنا صحیح نہیں ہے کہ انبیاء (علیہم السلام) کو جو غیب کی خبریں بتائی گئی ہیں اس سے ان کو علم غیب حاصل نہیں ہوا ‘ کیونکہ شرح عقائد اور دیگر علم کلام کی کتابوں میں مذکور ہے کہ علم کے تین اسباب ہیں ‘ خبر صادق ‘ حواس سلیمہ اور عقل ‘ اور وحی بھی خبر صادق ہے تو جب انبیاء (علیہم السلام) کو اللہ نے غیب کی خبریں دیں تو ان کو علم غیب حاصل ہوگیا۔ اس لیے صحیح یہ ہے کہ انبیاء علہم السلام کو وحی سے علم غیب حاصل ہوتا ہے لیکن یہ علم محیط یا علم ذاتی نہیں ہے۔

آل عمران : ١٧٩ کی تفسیر میں شیخ محمود حسن دیوبندی متوفی ١٣٣٩ ھ لکھتے ہیں :

خلاصہ یہ ہے کہ عام لوگوں کو بلا واسطہ کسی یقینی غیب کی اطلاع نہیں دی جاتی ‘ انبیاء (علیہم السلام) کو دی جاتی ہے مگر جس قدر خدا چاہے۔

اسی طرح بعض لوگوں نے کہا ہے جو چیز بتادی گئی وہ غیب نہ رہی اس لیے مخلوق کے علم پر علم غیب کا اطلاق نہیں ہونا چاہیے ‘ اس کا جواب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے متقین کو بتانے کے بعد ان کے علم پر یؤمنون بالغیب میں علم کا اطلاق کیا ہے کیونکہ ایمان بالغیب تصدیق بالغیب ہے ‘ اور تصدیق بالغیب علم بالغیب ہے اور یہ بات بالکل بدیہی ہے کہ کسی چیز کے علم کے بغیر اس چیز پر ایمان نہیں ہوسکتا اس لیے غیب کے علم کے بغیر اس پر ایمان نہیں ہوسکتا اور اللہ تعالیٰ نے متقین کی علم پر علم غیب کا اطلاق کیا ہے اور ان کو رسولوں کے واسطے سے غیب کی خبر دینے کے بعد ہی ان کے علم پر علم غیب کا اطلاق کیا ہے ‘ اس سے معلوم ہوا کہ متقین کو جو مثلاً جنت اور دوزخ اور فرشتوں کا علم ہے اس کو علم غیب اس لیے فرمایا ہے کہ جن کو ان چیزوں کا علم نہیں ہے ان کیا اعتبار سے وہ غیب کا علم ہے ‘ جس طرح اللہ تعالیٰ نے اپنے آپ کو علم الغیب والشھادۃ (الزمر : ٤٦‘ الحشر : ٢٢‘ الغابن ‘ ١٨‘ الجمعۃ : ٨) فرمایا ہے۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ سے تو کوئی چیز بھی غیب نہیں ہے اس کا یہی معنی ہے کہ دوسروں سے جو چیز غیب ہے ‘ اللہ تعالیٰ اس کا عالم ہے۔

بعض لوگوں نے کہا کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو غیب کی خبر حاصل ہے غیب کا علم نہیں ہے ‘ مفتی محمد شفیع دیوبندی متوفی ١٣٩٦ ھ لکھتے ہیں ‘ اسی طرح کسی رسول و نبی کو بذریعہ وحی یا کسی ولی کو بذریعہ کشف والہام جو غیب کی کچھ چیزوں کا علم دے دیا گیا تو وہ غیب کی حدود سے نکل گیا اس کو قرآن میں غیب کے بجائے انباء الغیب کہا گیا ہے جیسا کہ متعدد آیات میں مذکور ہے تلک من انباء الغیب نوحیھا الیک۔ (معارف القرآن ج ٣ ص ٣٤٧‘ مطبوعہ کراچی ‘ ١٩٩٣ ھ)

مفتی صاحب کا یہ لکھنا صحیح نہیں ہے کہ جب غیب کی کچھ چیزوں کا علم دے دیا گیا تو وہ غیب کی حدود سے نکل گیا ‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس کے باوجود متقین کے علم پر یؤ منون بالغیب میں علم غیب کا اطلاق فرمایا ہے ‘ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ غیب کی خبر کا حصول اور چیز ہے اور علم غیب اور چیز ہے۔ یہ بھی صحیح نہیں ہے کیونکہ خبر صادق علم کا ذریعہ اور سبب ہے جس چیز کی خبر حاصل ہوگئی اس چیز کا علم ہوگیا ‘ علامہ تفتازانی متوفی ٧٩١ ھ نے لکھا ہے کہ مخلوق کے لیے علم کے تین اسباب ہیں و اس سلیمہ ‘ عقل اور خبر صادق (شرح عقائد ص ١٠‘ کراچی) سو جب غیب کی خبر دی گئی تو غیب کا علم دے دیا گیا۔

سید ابو الا علیٰ مودودی نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے علم غیب کی نفی میں جو آیات اور احادیث پیش کی ہیں ان سب کا محمل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کو از خود غیب کا علم نہیں ہے یا علم محیط نہیں ہے ‘ تاکہ ان آیات اور احادیث کا ان آیات اور احادیث سے تعارض لازم نہ آئے جن میں نبیوں اور رسولوں کو علم غیب عطا فرمانے کی تصریح کی گئی جن کو انشاء اللہ العزیز ہم عنقریب پیش کریں گے۔ اعلیٰ حضرت فاضل بریلوی نے بھی لکھا ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر عالم الغیب کا اطلاق درست نہیں اور آپ کو علم غیب حاصل ہے۔

رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو عالم الغیب نہ کہنے کے متعلق اعلیٰ حضرت امام احمد رضا کی تصریح 

اعلیٰ حضرت امام احمد رضا فاضل بریلوی متوفی ١٣٤٠ ھ لکھتے ہیں :

علم غیب عطا ہونا اور لفظ عالم الغیب کا اطلاق اور بعض اجلہ اکابر کے کلام میں اگرچہ بندہ مومن کی نسبت صریح لفظ یعلم الغیب وارد ہے کما فی موقاۃ المفاتیح شرح مشکوۃ المصابیح للملا علی اقاری بلکہ خود حدیث سیدنا عبد اللہ بن عباس (رض) میں سیدنا خضر (علیہ السلام) کی نسبت ارشاد ہے کان یعلم علم الغیب مگر ہماری تحقیق میں لفظ عالم الغیب کا اطلاق حضرت عزت عز جلالہ کے ساتھ خاص ہے کہ اس سے عرفاً علم بالذات متبادر ہے کشاف میں ہے المرادبہ الخفی الذی لا ینفذ فیہ ابتداء الا علم اللطیف الخبیر ولھذا لا یجوز ان یطلق فیقال فلان یعلم الغیب اور اس سے انکار معنی لازم نہیں آتا۔ حضور اقدس (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) قطعاً بیشمار غیوب و ماکان ومایکون کے عالم ہیں مگر عالم الغیب صرف اللہ عزوجل کو کہا جائے جس طرح حضور اقدس (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) قطعاً عزت و جلالت والے ہیں تمام عالم میں ان کے برابر کوئی عزیز و جلیل نہ ہے نہ ہوسکتا ہے مگر محمد عزوجل کہنا جائز نہیں بلکہ اللہ عزوجل و محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ‘ غرض صدق و صورت معنی کو جواز اطلاق لفظ لازم نہیں نہ منع اطلاق لفظ کو نفی صحت معنی ‘ امام ابن المنیر اسکندری کتاب الا نتصاف میں فرماتے ہیں کم من معتقد لا یطلق القول بہ خشیۃ ایھام غیرہ ممالا یجوز اعتقادہ فلا ربط بین الا عتقاد و الا طلاق یہ سب اس صورت میں ہے کہ مقید بقید اطلاق اطلاق کیا جائے یا بلا قید علی الا طلاق مثلاً عالم الغیب یا عالم الغیب علی الاطلاق اور اگر ایسا نہ ہو بلکہ با واسطہ یا بالعطا کی تصریح کردی جائے تو وہ مخذور نہیں کہ ایہام زائل اور مراد حاصل۔ علامہ سید شریف قدس سرہ حواشی کشاف میں فرماتے ہیں وانما لم یجز الا طلاق فی غیرہ تعالیٰ لا نہ یتبادر منہ تعلق علم بہ ابتداء فیکون مقضا واما اذا قید و قیل اعلمہ اللہ تعالیٰ الغیب او الطلعہ علیہ فلا محذور فیہ یعنی یوں نہیں کہنا چاہیے کہ آپ کو علم غیب ہے بلکہ یوں کہنا چاہیے کہ آپ کو علم غیب دیا گیا ‘ یا آپ غیب پر مطلع ہیں پھر کوئی حرج نہیں ہے) (فتاویٰ رضویہ ج ٩ ص ٨١‘ مطبوعہ دارالعلوم امجدیہ کراچی)

نیز اعلیٰ حضرت قدس سرہ العزیز فرماتے ہیں :

علم جبکہ مطلق بولا جائے خصوصاً کہ غیب کی خبر کی طرف مضاف ہو تو اس سے مراد علم ذاتی ہوتا ہے ‘ اس کی تصریح حاشیہ کشاف پر میر سید شریف (رح) نے کردی ہے ‘ اور یہ یقیناً حق ہے کہ کوئی شخص کسی مخلوق کے لیے ایک ذرہ کا بھی علم ذاتی مانے یقیناً کافر ہے۔ (ملفوظات ج ٣ ص ٣٤‘ مدینہ پبلشنگ کمپنی کراچی)

رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لیے علم غیب کے ثبوت میں اعلیٰ حضرت کے دلائل 

اعلیٰ حضرت قدس سرہالعزیز فرماتے ہیں :

ہمارے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اللہ عزوجل نے تمام موجودات جملہ ماکان ومایکون کا علم دیا اور جب یہ علم قرآن عظیم کے تبیانا لکل شیء ہونے نے دیا اور بظاہر کہ یہ وصف تمام کلام مجید کا ہے نہ ہر آیت یا سورت کا تو نزول جمیع قرآن عظیم سے پہلے اگر بعض کی نسبت ارشاد ہو لم نقصص علیک ہرگز احاطہ مصطفوی کا نافی نہیں مخالفین جو کچھ پیش کرتے ہیں سب انہیں اقسام کے ہیں ہاں ہاں تمام نجدیہ دہلوی گنگوہی جنگلی کو ہی سب کو دعوت عام ہے سب اکٹھے ہو کر ایک آیت یا ایک حدیث متواتر یقینی الا فادۃ لائیں جس سے صریح ثابت ہو کہ تمام نزول قرآن کے بعد بھی ماکان ومایکون سے فلاں امر حضور پر مخفی رہا اگر ایسا نص نہ لاسکو اور ہم کہے دیتے ہیں کہ ہرگز نہ لاسکو گے تو جان لو کہ اللہ راہ نہیں دیتا دغا بازوں کے مکر کو ‘ اھ ملخص۔ اس کے بعد بھی ایسے وقائع پیش کرنا کیسی شدید بےحیائی ہے بلاشبہ عمرو کا قول صحیح ہے جمیع ماکان ومایکون جملہ مندرجات لوح محفوظ کا علم محیط حضور اقدس (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے علم کریم کے سمندروں سے ایک لہر ہے جیسا کہ علامہ علی قاری کی زبدہ شرح بردہ میں مصرح ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم ( فتاویٰ رضویہ ج ٩ ص ٨٢‘ مطبوعہ دارالعلوم امجدیہ کراچی)

اعلیٰ حضرت نے علی قاری متوفی ١٠١٤ ھ کی جس عبارت کا ذکر فرمایا ہے اس کا حوالہ یہ ہے : (الزبدۃ العمدۃ شرح البردۃ ص ١١٦‘ مطبوعہ خیر پور سندھ ‘ ١٤٠٦ ھ)

غیب کا لغوی معنی 

علامہ محمد بن مکرم بن منظور افریقی متوفی ٧١١ ھ لکھتے ہیں :

الغیب کا معنی ہے : ہر وہ چیز جو تم سے غائب ہو ‘ امام ابو اسحاق یؤمنون بالغیب کی تفسیر میں کہا وہ ہر اس چیز پر ایمان لاتے ہیں جو ان سے غائب ہے اور اس کی نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے خبردی ہے جیسے مرنے کے بعد جی اٹھنا ‘ جنت اور دوزخ ‘ اور جو چیز ان سے غائب ہے اور اس کی نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے خبر دی ہے وہ غیب ہے ‘ نیز غیب اس کو کہتے ہیں جو آنکھوں سے پوشید ہے ‘ خواہ وہ دل میں ہو ‘ کہا جاتا ہے کہ میں نے وراء غیب سے آواز سنی یعنی اس جگہ سے سنی جس کو میں نہیں دیکھ رہا۔ (لسان العرب ج ١ ص ٦٥٤‘ مطبوعہ ایران ‘ ١٤٠٥ ھ)

علامہ محمد طاہر پٹنی متوفی ٩٨٦ ھ لکھتے ہیں :

ہر وہ چیز جو آنکھوں سے غائب ہو وہ غیب ہے عام ازیں کہ وہ دل میں ہو یا نہ ہو۔ (مجمع بحارا لانوارج ٤‘ ص ٨٢‘ مطبوعہ مکتہ دارالایمان ‘ المدینہ المنورۃ ‘ ١٤١٥ ھ)

غیب کا اصطلاحی معنی 

قاضی ناصر الدین عبد اللہ بن عمر بیضاوی متوفی ٦٨٦ ھ لکھتے ہیں :

غیب سے مراد وہ مخفی امر ہے جس کا نہ حواس (خمسہ) اداراک کرسکیں اور نہ ہی اس کی بداہت عقل تقاضا کرے اور اس کی دو قسمیں ہیں ایک وہ قسم ہے جس کے علم کی کوئی دلیل (ذریعہ) نہ ہو ‘ اللہ تعالیٰ نے فرمایا :

وعندۃ مفاتح الغیب لا یعلمھآ الا ھو ط۔ (الانعام : ٥٩) اور اسی کے پاس غیب کی چابیاں ہیں ‘ ان کو اس کے سوا کوئی نہیں جانتا۔

اور دوسری قسم وہ ہے جس کے علم کے حصول کا کوئی ذریعہ ہو (خواہ عقلی دلیل سے اس کا علم ہو خواہ خبر سے) جیسے اللہ تعالیٰ اور اس کی صفات اور قیامت اور اس کے احوال کا علم۔ (انوار التنز یل مع الکاز رونی ج ١‘ ص ١١٤‘ مطبوعہ دارالفکر ‘ بیروت ‘ ١٤١٦ ھ)

علامہ محی الدین شیخ زادہ اس کی تفسیر میں لکھتے ہیں :

غیب کی دوسری قسم میں جو قاضی بیضاوی نے کہا ہے کہ جس کے علم پر کوئی دلیل ہو اس سے مراد ہے وہ دلیل عقلی ہو یا نقلی ہو ‘ کیونکہ اللہ عزوجل اور اس کی صفات پر عقلی دلائل قائم ہیں ( اور ان کو عقل سے جانا سکتا ہے) اور قیامت اور اس کے احوال پر دلائل نقلیہ قائم ہیں ( اور ان کو قرآن اور احادیث سے جانا جاسکتا ہے) اور یہ دونوں قسمیں غیب ہیں ‘ اور غیب کی اس دوسری قسم کو انسان ان دلائل سے جان سکتا ہے ‘ اور وہ غیب جس کا علم اللہ سبحانہ کے ساتھ مختص ہے ‘ وہ غیب کی قسم اول ہے اور سورة الانعام کی اس آیت کریمہ میں وہی مراد ہے۔ (حاشیہ شیخ زادہعلی تفسیر البضاوی ج ١‘ ص ٨٩‘ مطبوعہ داراحیاء التراث العربی ‘ بیروت)

رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو علم غیب دیئے جانے کے متعلق قرآن مجید کی آیات 

وما کان اللہ لیطلعکم علی الغیب ولکن اللہ یجتبی من رسولہ من یشآء ص۔ (آل عمران : ١٧٩) اور اللہ کی شان نہیں کہ وہ تم کو غیب پر مطلع کردے لیکن ( غیب پر مطلع کرنے کے لیے) اللہ چن لیتا ہے جسے چاہے اور وہ اللہ کے رسول ہیں۔

ذلک من انبآء الغیب نوحیہ الیک ط (آل عمران : ٤٤) یہ غیب کی بعض خبریں ہیں جن کی ہم آپ کی طرف وحی کرتے ہیں۔

علم الغیب فلا یظھر علی غیبہ احدا۔ الا من الرتضی من رسول۔ (الجن : ٢٧۔ ٢٦) ان کے جن سے وہ راضی ہے اور وہ اس کے (سب) رسول ہیں۔

رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے علم غیب کے متعلق احادیث 

قاضی عیاض بن موسیٰ مالکی متوفی ٥٤٤ ھ لکھتے ہیں :

نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو جس قدر غیوب پر مطلع فرمایا گیا تھا اس باب میں احادیث کا ایک سمندر ہے جس کی گہرائی کا اندازہ نہیں کیا جاسکتا اور آپ کا یہ معجزہ ان معجزات میں سے ہے جو ہم کو یقینی طور معلوم ہیں ‘ کیونکہ وہ احادیث معنی متواتر ہیں اور ان کے راوی بہت زیادہ ہیں اور ان احادیث کے معانی غیب کی اطلاع پر متفق ہیں اور درج ذیل ہیں : ( الشفاء ج ١١‘ ص ٢٤٩‘ مطبوعہ دارالفکر بیروت ‘ ١٤١٥ ھ)

(١) حضرت حذیفہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہم میں تشریف فرما ہوئے اور قیامت تک جو امور پیش ہونے والے تھے آ پن ان میں سے کسی کو نہیں چھوڑا اور وہ سب امور بیان کردیئے جس نے ان کو یاد رکھا اس نے یاد رکھا اور جس نے ان کو بھلا دیا اس نے بھلا دیا ‘ اور میرے ان اصحاب کو ان کا علم ہے ‘ ان میں سے کئی ایسی چیزیں واقع ہوئیں جن کو میں بھول چکا تھا جب میں نے ان کو دیکھا تو وہ یاد آگئیں ‘ جیسے کوئی شخص غائب ہوجائے تو اس کا چہرہ دیکھ کر اس کو یاد آجاتا ہے کہ اس نے اسکو دیکھا تھا۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ٦٦٠٤‘ صحیح مسلم الجنۃ ٢٣ (٢٨٩١) ٧١٣٠‘ سنن ابودائود رقم الحدیث : ٤٢٤٠‘ مسند احمد ج ٥‘ ص ٣٨٥‘ جامع الاصول ‘ ج ١١‘ رقم الحدیث : ٨٨٨٢)

(٢) حضرت ابو زید عمر و بن اخطب (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہم کو صبح کی نماز پڑھائی اور منبر پر رونق افروز ہوئے ‘ پھر آپ نے ہمیں خطبہ دیا حتیٰ کہ ظہر آگئی ‘ آپ منبر سے اترے اور نماز پڑھائی ‘ پھر منبر پر رونق افروز ہوئے اور ہمیں خطبہ دیا حتی کہ عصر آگئی ‘ پھر آپ منبر سے اترے اور نماز پڑھائی ‘ پھر منبر پر تشریف فرما ہوئے اور ہم کو خطبہ دیا حتیٰ کہ سورج غروب ہوگیا ‘ پھر آپ نے ہمیں ماکان ومایکون (جو ہوچکا ہے اور جو ہونے والا ہے) کی خبریں دیں ‘ پس ہم میں سے زیادہ عالم وہ تھا جو سب سے زیادہ حافظہ والا تھا۔ (صحیح مسلم الجنہ : ٢٦ (٢٨٩٢) ٧٨١٣٤‘ مسند احمد ج ٣‘ ص ٣١٥‘ مسند عبدبن حمید رقم الحدیث : ١٠٢٩‘ البدایہ والنہایہ ج ٦‘ ص ١٩٢‘ جامع الاصول ج ١١‘ رقم الحدیث : ٨٨٨٥‘ الا حادو المثانی ج ٤‘ رقم الحدیث : ٢١٨٣‘ دلائل النبوۃ للبیہقی ج ٦‘ ص ٣١٣)

(٣) حضرت عمر (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہم میں تشریف فرما ہوئے اور آپ نے ہمیں مخلوق کی ابتداء سے خبریں دینی شروع کیں ‘ حتیٰ کہ اہل جنت اپنے ٹھکانوں میں داخل ہوگئے اور اہل دوزخ اپنے ٹھکانوں میں داخل ہوگئے ‘ جس نے اس کو یاد رکھا اس نے یادرکھا اور جس نے اس کو بھلا دیا اس نے بھلا دیا۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ٣١٩٢‘ امام احمد نے اس حدیث کو حضرت مغیرہ بن شعبہ سے روایت کیا ہے ‘ مسند احمد ج ١٤‘ رقم الحدیث : ١٨١٤٠‘ طبع دار الحدیث ‘ قاہرہ)

امام ترمذی نے کہا اس باب میں حضرت حذیفہ ‘ حضرت ابو مریم ‘ حضرت زید بن اخطب اور حضرت مغیرہ بن شعبہ سے احادیث مروی ہیں انہوں نے ذکر کیا کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کو قیامت تک تمام ہونے والے امور بیان کردیئے۔ (سنن الترمذی رقم الحدیث : ٢١٩٨)

(٤) حضرت ابو ذر (رض) فرماتے ہیں کہ ہمیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس حال میں چھوڑا کہ فضا میں جو بھی اپنے پروں سے اڑنے والا پرندہ تھا آپ نے ہمیں اس سے متلعق علم کا ذکر کیا۔ (مسند احمد ج ٥‘ ص ١٥٣‘ مسند احمد رقم الحدیث : ٢١٢٥٨‘ مطبوعہ قاہرہ ‘ المعجم الکبیر رقم الحدیث : ١٦٤٧‘ مسند البز اررقم الحدیث : ١٤٧‘ صحیح ابن حبان رقم الحدیث : ٣٦٥‘ حافظ الہیشمی نے کہا اس حدیث کے راوی صحیح ہیں۔ مجمع الزوائد ج ٨‘ ص ٢٦٤‘ مسند ابو یعلیٰ ‘ رقم الحدیث : ٥١٠٩)

ائمہ حدیث نے ایسی احادیث روایت کی ہیں جن میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے اصحاب کو ان کے دشمنوں پر غلبہ کی خبر دی اور مکہ مکرمہ ‘ بیت المقدس ‘ یمن ‘ شام اور عراق کی فتوحات کی خبریں دیں اور امن کی خبر دی اور یہ کہ کل خیبر حضرت علی کے ہاتھوں سے فتح ہوگا ‘ اور آپ کی امت پر دنیا کی جو فتوحات کی جائیں گی اور وہ قیصر و کسریٰ کے خزانے تقسیم کریں گے ‘ اور انکے درمیان جو فتنے پیدا ہوں گے ‘ اور امت میں جو اختلاف پیدا ہوگا اور وہ پچھلی امتوں کے طریقے پر چلیں گے ‘ اور کسریٰ اور قیصر کی حکومتیں ختم ہوجائیں گی اور پھر ان کی حکومت قائم نہیں ہوگی اور یہ کہ روئے زمین کو آپ کے لیے لپیٹ دیا گیا ہے اور آپ نے اس کے مشارق اور مغارب کو دیکھ لیا ہے اور یہ کہ آپ کی امت کا ایک گروہ قیامت تک حق پر قائم رہے گا اور آپ نے بنوامیہ اور حضرت معاویہ کی حکومت کی خبردی اور اہل بیت کی آزمائش اور حضرت علی (رض) کی شہادت کی خبر دی اور حضرت عثمان (رض) کی شہادت کی خبردی ‘ حضرت معاویہ اور حضرت علی کی لڑائی کی خبردی ‘ اور یہ کہ آپ کے بعد صرف تیس سال تک خلافت رہے گی ‘ اور پھر بادشاہت ہوجائے گی۔ تیس دجالوں کے خروج کی خبردی ‘ قریش کے ہاتھوں امت کی ہلاکت کی خبردی ‘ قدریہ اور افضیہ کے ظہور کی خبردی ‘ ابناء فارس کے دین حاصل کرے کی خبردی ‘ اپنی گمشدہ اونٹنی کی خبردی ‘ جنگ بدر میں کافر کس جگہ گر کر مریں گے یہ خبردی ‘ حضرت حسن کے صلح کرانے کی خبردی ‘ حضرت سعد کی حیات کے متعلق خبردی اور یہ خبردی کہ آپ کی ازواج میں سے جس کے ہاتھ زیادہ لمبے ہوں گے وہ آپ سے سب سے پہلے واصل ہوگی۔ حضرت زید بن صو حان کے ہاتھ کے متعلق پیش گوئی کی ‘ سراقہ کے لیے سونے کے کنگنوں کی خبردی اور بہت باتوں کی خبر دی۔

(٥) حضرت ثوبان (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اللہ عزوجل نے تمام روئے زمین کو میرے لیے سکیڑ دیا ہے ‘ سو میں نے اس کے مشارق اور مغارب کو دیکھ لیا ‘ اور میری امت کی حکومت عنقریب وہاں تک پہنچے گی جہاں تک کہ زمین میرے لیے سکیڑ دی گئی تھی اور مجھے سرخ اور سفید دو خزانے دئیے گئے ہیں۔ (الحدیث)

(دلائل النبوۃ للبیہقی ج ٦‘ ص ٢٢٧‘ صحیح مسلم الفتن ١٩ (٢٨٨٩) ٧١٢٥‘ ٧١٢٦‘ سنن ابو دائود رقم الحدیث : ٤٢٥٢‘ سنن ترمذی رقم الحدیث : ٢١٨٣‘ سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ٣٩٥٢ )

النمل : ٦٥‘ میں اللہ کے غیر سے علم غیب کی نفی کا محمل 

علامہ سید محمود آلوسی حنفی متوفی ١٢٧٠ ھ اس آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں :

شایدکہ حق بات یہ ہے کہ اس آیت میں اللہ تعالیٰ کے غیر سے جس علم کی نفی کی گئی ہے یہ وہ علم ہے جو ذاتی ہو ‘ یعنی بلا واسطہ ‘ اور کیونکہ تمام آسمانوں اور زمنیوں والے ممکن بالذات ہیں اس لیے ان میں سے کسی کا علم بالذات اور بلاواسطہ ہو ہی نہیں سکتا ‘ اور خواص کو جو علم غیب حاصل ہوتا ہے وہ اللہ تعالیٰ کے افاضہ (فیضان) کرنے سے حاصل ہوتا ہے ‘ اس لیے یہ نہیں کا جائے گا کہ ان کو بالذات اور بالواسطہ غیب کا علم ہے اور یہ کہنا کفر ہے ‘ البتہ یہ کہا جائے گا کہ ان پر غیب ظاہر کیا گیا یا ان کو غیب پر مطلع کیا گیا تاکہ معلوم ہو کہ انکو غیب کی نفی کی گئی ہے کہ اللہ کے سوا کوئی غیب کو نہیں جانتا۔ اس لیے معروف صیغے کے ساتھ خواص کے لیے غیب کا علم ثابت نہ کیا جائے اور یوں نہ کہا جائے کہ خواص غیب جانتے ہیں تاکہ قرآن مجید کی ظاہری آیات سے تعارض لازم نہ آئے ‘ بلکہ یوں کہا جائے کہ خواص کو غیب کا علم دیا گیا ہے یا وہ غیب پر مطلع کیے گئے ہیں اور مجہول صیغوں کے ساتھ ان کے لیے علم غفی کو ثابت کیا جائے۔ (روح المعانی جز ٢٠ ص ١٨‘ مطبوعہ دارالفکر بیروت ‘ ١٤١٧ ھ)

شیخ اشرف علی تھانوی متوفی ١٣٦٤ ھ اس آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں :

یعنی اللہ تعالیٰ کو تو بےبتلائے سب معلوم ہے اور کسی کو بےبتلائے کچھ بھی معلوم نہیں 

شیخ شبیر احمد عثمانی متوفی ١٣٦٩ ھ اس آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں :

شروع پارہ سے یہاں تک کہ حق تعالیٰ کی قدرت تامہ ‘ رحمت عامہ اور ربوبیت کاملہ کا بیان تھا یعنی جب وہ ان صفات وشئون میں متفرد ہے تو الوہیت و معبود دیت میں بھی متفرد ہونا چاہیے۔ آیت حاضرہ میں اس کی الوہیت پر دوسری حیثیت سے استدلال کیا جارہا ہے یعنی معبود وہ ہوگا جو قدرت تامہ کے ساتھ علمکا مل و محیط بھی رکھتاہو اور یہ وہ صفت ہے جو زمین و آسمان میں کسی مخلوق کو حاصل نہیں ‘ اسی رب العزت کے ساتھ مخصوص ہے۔ پس اس اعتبار سے بھی معبود بننے کی مستحق اکیلی اس کی ذات ہوئی۔ (تنبیہ) کل مغیات کا لعم بجز خدا کے کسی کو حاصل نہیں ‘ نہ کسی ایک غیب کا علم کسی شخص کو بالذات بدون عطائے الہٰی کے ہوسکتا ہے اور نہ مفاتیح غیب (غیب کی کنجیاں جن ذکر سورة اعام میں گزرچکا) اللہ نے کسی مخلوق کو دی ہیں۔ ہاں بعض بندوں کو بعض غیوب پر با اختیار خود مطلع کردیتا ہے جس کی وجہ سے کہہ سکتے ہیں کہ فلاں شخص کو حق تعالیٰ نے غیب پر مطلع فرمایدا ‘ یا غیب کی خبر دے دی لیکن اتنی بات کی وجہ سے قرآن و سنت نے کسی جگہ ایسے شخص پر ” فلان یعلم الغیب “ کا اطلاق نہیں کیا۔ بلکہ احادیث میں اس پر انکار کیا گیا ہے۔ کیونکہ بظاہر یہ الفاظ اختصاص علم الغیب بذات الباری کے خلاف موہم ہوتے ہیں۔ اسی لیے علمائے محققین اجازت نہیں دیتے کہ اس طرح کے الفاظ کسی بندہ پر اطلاق کیے جائیں۔ گولغۃ صحیح ہوں جیسے کسی کا یہ کہنا کہ ان اللہ لا یعلم الغیب (اللہ کو غیب کا علم نہیں) گو اس کی مراد یہ ہو کہ اللہ تعالیٰ کے اعتبار سے کوئی چیز غیب ہے ہی نہیں ‘ سخت تاروا اور سوء ادب ہے۔ یا کسی کا حق سے موت اور فتنہ سے اولاد اور رحمت سے بارش مراد لے کر یہ الفاظ کہنا ” نبی اکرہ الحق واحب الفتنۃ وافر من الرحمۃ “ ( میں حق کو برا سمجھتا ہوں اور فتنہ کو محبوب رکھتا ہوں اور رحمت سے بھاگتا ہوں) سخت مکروہ اور قبیح ہے ‘ حالانکہ با عتبار نیت و مراد کے قبیح نہ تھا۔ اسی طرح فلان عالم الغیب وغیرہ الفاظ کو سمجھ لو اور واضح رہے کہ علم غیب سے ہماری مراد محض ظنون و تخمینات نہیں اور نہ وہ علم جو قرائن و دلائل سے حاصل کیا جائے بلکہ جس کے لیے کوئی دلیل و قرینہ موجودنہ ہو وہ مراد ہے۔ سورة انعام و اعراف میں اس کے متعلق کسی قدر لکھا جا چکا ہے۔ وہاں مراجعت کرلی جائے۔

رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے علم کلی کی ایک دلیل 

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :

وعلمک مالم تکن تعلم ط وکان فضل اللہ علیک عظیما۔ (النساء : ١١٣) اور آپ کو ان تمام چیزوں کا علم دے دیا جن کو آپ پہلے نہیں جانتے تھے ‘ اور اللہ کا آپ کے اوپر بہت بڑا افضل ہے۔

منکرین کہتے ہیں کہ ” ما “ سے مراد احکام شرعیہ ہیں یعنی جو احکام شرعیہ آپ کو معلوم نہ تھے ان کا علم آپ کو دے دیا نہ کہ تمام چیزوں کا علم دے دیا ” ہم کہتے ہیں کہ اس آیت میں ” ما “ کا لفظ ہے اور اصول فقہ کی کتابوں میں تصریح ہے کہ ” ما “ کی وضع عموم کے لیے ہے اور اس کا عموم قطعی ہے لہٰذا اس آیت کی اس مطلوب پر قطعی دلالت ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ان تمام چیزوں کا علم دے دیا گیا جن کو آپ پہلے نہیں جانتے تھے ‘ اور منکرینعلم نبوت جن احادیث سے یہ ثابت کرتے ہیں کہ آپ کو فلاں چیز کا علم نہیں تھا وہ سب اخبار آحاد ہیں اور اخبار آحاد ظنی ہوتی ہیں اور ظنی چیز قطعی دلیل کے معارض نہیں ہوسکتی ‘ اور اس آیت سے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا علم کلی ثابت کرنے میں ہم منفرد نہیں ہے بلکہ دیگر علماء متقدمین نے بھی اس آیت سے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا علم کلی ثابت کیا ہے۔ علامہ محمود بن احمد عینی متوفی ٨٥٥ ھ نے اس آیت سے استدلال کیا ہے کہ آپ کو روح کا علم حاصل تھا وہ لکھتے ہیں :

اکثر علماء نے یہ کہا ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو روح کا علم نہیں تھا ‘ میں کہتا ہوں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے محبوب ہیں اور سیدخلق ہیں اور آپ کا مرتبہ اس سے بلند ہے کہ آپ کو روح کا علم نہ ہو ‘ اور یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ آپ کو روح کا علم نہ ہو حالانکہ اللہ تعالیٰ نے آپ پر احسان قرار دیتے ہوئے فرمایا : وعلمک مالم تکن تعلم و کان فضل اللہ علیک عظیما۔ (عمدۃ القاری جز ٢ ص ٢٠١‘ مطبوعہ ادارۃ الطباعۃ المنیر یہ ‘ مصر ١٣٤٨ ھ)

منکرین اس دلیل پر یہ اعتراض کرتے ہیں کہ اگر اس آیت کے نازل ہونے کے بعد آپ کو تمام چیزوں کا علم ہوگیا تھا تو چاہیے تھا کہ اس آیت کے بعد باقی قرآن نازل نہ ہوتا ‘ اس کا جواب یہ ہے کہ قرآن مجید صرف احکام شرعیہ کی تعلیم کے لیے نازل نہیں ہوا ‘ دیکھیے نماز مکہ میں فرض ہوئی ہے اور آیت وضو (المائدہ : ٦) مدینہ میں نازل ہوئی ہے ‘ حالانکہ نماز مکہ میں فرض ہوئی تھی اور بغیر وضو کے نماز نہیں ہوتی ‘ اس سے معلوم ہوا کہ وضو کا علم آپکو پہلے تھا اور آیت وضو ‘ کسی اور حکمت کی وجہ سے بعد میں نازل ہوئی ہے۔ نیز علامہ محمود آلوسی متوفی ١٢٧٠ ھ نے لکھا ہے :

علامہ عبدالوہاب شعرانی نے الفتوحات المکیہ سے نقل کر کے الکبریت الاحمر میں لکھا ہے کہ جبریل (علیہ السلام) کے نازل کرنے سے پہلے ہی نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اجمالی طور پر قرآن کا علم دے دیا گیا تھا۔ (روح المعانی ج ٢٥ ص ٨٩‘ مطبوعہ دارالفکر بیروت ‘ ١٤١٧ ھ)

ہم نے جو یہ کہا ہے کہ اس آیت سے یہ ثابت ہوا کہ آپ کو تمام چیزوں کا علم دے دیا گیا اس کا معنی یہ ہے کہ آپ کو تمام مخلوق کا علم دے دیا گیا تھا اور یہ علم متناہی ہے ‘ اس کا یہ معنی نہیں ہے کہ آپ کو اللہ کا کل علم حاصل تھا ‘ اور آپ کا علم اللہ کے مساوی ہوگیا تھا ‘ تمام مخلوق کا علم تو بہت دور کی بات ہے ایک ذرہ کے علم میں بھی آپ کے علم اور اللہ کے علم میں کوئی مماثلت نہیں ہے۔

منکرین علم نبوت کا ایک اور اعتراض یہ ہے کہ قرآن مجید میں ہے :

ویعلمکم الکتب والحکمۃ مالم تکونوا تعلمون۔ (البقرہ : ١٥١) اور رسول تمہیں کتاب اور حکمت کی تعلیم دیتے ہیں اور تم کو ان چیزوں کا علم دیتے ہیں جن کو تم نہیں جانتے تھے۔

منکرین کہتے ہیں کہ اس آیت میں بھی لفظ ” ما “ ہے اور اگر اس کی وضع عموم کے لیے ہے تو پھر یہاں بھی عموم مراد ہونا چاہیے اس سے لازم آئے گا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے صحابہ کو بھی ان تمام چیزوں کا علم دے دیا ہو جن کا ان کو پہلے علم نہیں تھا ‘ حالانکہ یہ واقع کے خلاف ہے اور اگر یہاں ” ما “ عموم کے لیے نہیں ہے خصوص کے لیے ہے اور اس سے مراد ہے کہ صحابہ کو جن احکام شرعیہ کا علم نہیں تھا وہ احکام شرعیہ انکو سکھا دیئے تو پھر علمک مالم تکن تعلم (النسائ : ١١٣) میں بھی وہی لفظ ” ما “ ہے وہاں بھی خصوص مراد ہونا چاہیے ‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے آپ کو وہ احکام شرعیہ سکھا دیئے جن کو آپ پہلے نہیں جانتے تھے۔

اس اعتراض کا ایک جواب یہ ہے کہ ہم بتاچکے ہیں کہ اصول کی کتابوں میں تصریح ہے کہ ” ما “ کی اصل و ضع اور حقیقت عموم کے لیے ہے اور ج بتک حقیقت محال نہ ہو حقیقت ہی کا ارادہ کیا جاتا ہے ‘ اور جب حقیقت محال ہو تو پھر مجاز کا ارادہ کیا جاتا ہے ‘ علمک مالم تکن تعلم میں حقیقت کا ارادہ کرنا محال نہیں ہے کہ آپ کو ان تمام چیزوں کا علم دے دیا جن کو آپ پہلے نہیں جانتے تھے خواہ وہ احکام شرعیہ ہوں یا ماضی ‘ حال اور مستقبل کے حالات اور واقعات ہوں جس کو ماکان ومایکون کا علم کہا جاتا ہے ‘ اور صحابہ کو ایسا عام علم دینا ثابت نہیں ہے۔ اس لیے یعلمکم مالم تکونوا تعلمون میں حقیقت کا ارادہ کرنا محال ہے وہاں اس کو خصوص پر محمول کیا جائے گا یعنی صحابہ کو جن احکام شرعیہ کا علم نہیں تھا وہ ان کو سکھا دیئے۔

اور اگر منکرین اس پر اصرار کریں کہ جب یعلمکم مالم تکونوا تعلمون میں ” ما “ کو مجاز پر محمول کیا ہے اور اس سے خصوص کا ارادہ کیا ہے تو پھر علمک مالم تکن تعلم میں بھی اس کو مجاز پر محمول کیا جائے اور اس سے خصوص کا ارادہ کیا جائے ‘ گویا جب ایک جگہ ” ما “ خصوص کے لیے آگیا تو پھر ہر جگہ اس سے خصوص کا ارادہ کیا جائے تو پھر کوئی شخص کہہ سکتا ہے کہ وللہ ما فی السموت وما فی الارض (النسائ : ١٢٦) میں بھی ” ما “ خصوص کے لیے ہوگا اور اس سے لازم آئے گا کہ آسمانوں اور زمینوں کی تمام چیزیں اللہ تعالیٰ کی ملکیت میں نہ ہوں ‘ بلکہ بعض یا اکثر چیزیں اس کی ملک میں ہوں۔

منکرین کا یہ اعتراض ایسا ہی ہے جیسے مرزائیہ کہتے ہیں کہ لا صلوٰۃ الا بفاتحۃ الکتاب میں ” لا “ نفی کمال کے لیے ہے یعنی سورة فاتحہ کے بغیر نماز کامل نہیں ہوتی ‘ نفی جنس کے لیے نہیں ہے تاکہ یہ معنی ہو سورة فاتحہ کے بغیر بالکل نماز نہیں ہوتی اسی طرح لاصلوۃ لجار المسجد الا فی المسجد میں بھی ” لا “ نفی کمال کے لیے ہے یعنی مسجد کے پڑوسی کی نماز مسجد کے بغیر کامل نہیں ہوتی ” لا “ نفی جنس کے لیی نہیں ہے تاکہ یہ معنی ہو مسجد کے بغیر بالکل نماز نہیں ہوتی ‘ تو پھر لا نبی بعدی میں بھی ” لا “ نفی کمال کے لیے ہونا چاہیے ‘ یعنی میرے بعد کوئی کامل نبی نہیں ہوگا ‘ یہ مطلب نہیں ہے کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں ہوگا ‘ اس وقت منکرین بھی مرزائیہ کو یہی جواب دیتے ہیں کہ ” لا “ کی وضع نفی جنس کے لیے ہے جہاں پر کسی قرینہ کی وجہ سے حقیقت یعنی نفی جنس محال ہو وہاں پر مجاز اً نفی کمال کا ارادہ کیا جائے گا اور اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ ” لا “ سے ہر جگہ نفی کمال اور مجاز کا ارادہ کیا جائے اور حقیقت متروک ہوجائے ورنہ لا الہ الا اللہ کا معنی ہوگا کہ اللہ کے سوا کوئی کامل معبود نہیں ہے اور لاریب فیہ کا معنی ہوگا قرآن میں کوئی کامل شک نہیں ہے ‘ پس لا صلوۃ الا بفاتحۃ الکتاب اور لا صلوۃ لجار المسجد الا فی المسجد میں ایک مانع کی وجہ سے حقیقت کا ارادہ نہیں کیا گیا اور ” لا “ کو نفی کمال پر محمول کیا گیا اور لا نبی بعدی میں ” لا “ اپنی اصل کے مطابق نفی جنس کے لیے ہے۔

اس اعتراض کا دوسرا جواب یہ ہے کہ ہم منکرین سے کہتے ہیں کہ یعلمکم مالم تکونوا تعلمون میں بھی ماعموم کے لیے ہے اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے تمام صحابہ کو بھی تمام احکام شرعیہ اور تمام ماکان وما یکون کی خبریں دے دی تھیں لیکن ان کو وہ تمام باتیں یاد نہیں رہیں اور اس جواب پر دلیل حسب ذیل احادیث ہیں :

عن عمرو قال قام فینا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مقاما فا خبر نا عن بدء الخلق حتی دخل اھل الجنۃ منازلھم واھل النار منازلھم حفظ ذلک من حفظہ و نسیہ من نسیہ۔

حضرت عمرو (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہمارے درمیان ایک مجلس میں کھڑے ہوئے پھر آپ نے ابتداء خلق سے خبریں بیان کرنا شروع کیں ‘ حتیٰ کہ جنتیوں کے اپنے ٹھکانوں تک جانے اور جہنمیوں کے اپنے ٹھکانوں تک جانے کی خبریں بیان کیں ‘ جس شخص نے اس کو یاد رکھا اس نے یادرکھا اور جس نے اس کو بھلا دیا اس نے اس کو بھلا دیا۔ (صحیح البخاری ج ١ ص ٤٥٣‘ کراچی ‘ صحیح البخاری رقم الحدیث : ٣١٩٢‘ بیروت)

عن حذیفۃ قال لقد خطبنا النبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) خطبۃ ماترک فیھا شیئا الی قیام الساعۃ الا ذکرہ علمہ من علمہ وجھلہ من جھلہ۔ الحدیث :

حضرت حذیفہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نیہم میں ایک تقریر فرمائی اور اس میں قیامت تک ہونے والے تمام امور بیان فرما دیئے جس شخص نے اسے جان لیا اس نے جان لیا اور جس نے نہ جانا اس نے نہ جانا۔ (صحیح البخاری ج ٢ ص ٩٧٧‘ مطبوعہ کراچی ‘ صحیح البخاری رقم الحدیث : ٦٦٠٤‘ بیروت ‘ صحیح مسلم رقم الحدیث : ٢٨٩١‘ سنن ابودائود رقم الحدیث : ٤٢٤٠ )

عن ابی زید قال صلی بنا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) الفجر و صعدالمنبر فخطبنا حتی حضرت الظھر فنزل فصلی ثم صعد المنبر فخطبنا حتی حضرت العصر ثم نزل فصلی ثم صنعد المنبر فخطبنا حتی غربت الشمس فاخبر نا بما کان وما ھو کائن فاعلمنا احفظنا۔

حضرت ابو زید (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہمیں صبح کی نماز پڑھائی اور منبر پر رونق افروز ہوئے اور ہمیں خطبہ دیا حتیٰ کہ ظہر کا وقت آگیا پھر منبر سے اترے اور ظہر کی نماز پڑھائی اور پھر منبر پر رونق افروز ہوئے اور ہمیں خطبہ دیا حتی کہ عصر کا وقت آگیا پھر آپ منبر سے اترے اور عصر کی نماز پڑھائی پھر آپ نے منبر پر چڑھ کر ہمیں خطبہ دیا حتیٰ کہ سورج غروب ہوگیا پھر آپ نے ہمیں تمام ما کان وما یکون کی خبریں دیں سو جو ہم میں زیادہ حافظہ والا تھا اس کو ان کا زیادہ علم تھا۔ (صحیح مسلم ج ٢ ص ٣٩٠‘ کراچی ‘ صحیح مسلم رقم الحدیث : ٢٨٩٢‘ مسند احمد ج ٥ ص ٣٤١‘ مسند احمد رقم الحدیث : ٢٣٢٧٦‘ عالم الکتب ‘ بیروت ‘ ١٤١٩ ھ ‘ مسند احمد رقم الحدیث : ٢٢٧٨٦‘ دارالحدیث قاہرہ ‘ ١٤١٦ ھ)

عن ابی سعید الخدری قال صلی بنا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یوما صلوۃ العصر بنھار ثم قام خطیبا فلم یدع شیئا یکون الی قیام الساعۃ الا اخبر نا بہ حفظہ من حفظہ و نسیہ من نسیہ۔ الحدیث :

حضرت ابو سعید خدری (رض) بیان کرتے ہیں کہ ایک دن رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہمیں عصر کی نماز پڑھاء یپھر آپ خطبہ دینے کے لیے کھڑے ہوئے اور آپ نے قیامت تک ہونے والے ہر واقعہ اور ہر چیز کی ہمیں خبر دے دی ‘ جس نے اس کو یاد رکھا اس نے یاد رکھا اور جس نے اس کو بھلا دیا اس نے بھلا دیا۔ (سنن الترمذی رقم الحدیث : ٢١٩١‘ مسن الحمیدی رقم الحدیث : ٧٥٢‘ مسند احمد ج ٣ ص ٧٠‘ ٦١‘ ١٩‘ ٧‘ سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ٢٨٧٣‘ مسند ابو یعلیٰ رقم الحدیث : ١١٠١‘ سنن کبری للبیہقی ج ٧ ص ٩١‘ دلائل النبوۃ ج ٦ ص ٣١٧)

علامہ احمد بن محمد صاوی مالکی متوفی ١٢٢٣ ھ فرماتے ہیں :

جس چیز پر ایمان رکھنا واجب ہے وہ یہ ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس وقت تک دنیا سے منتقل نہیں ہوئے ‘ جب تک کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو تمام مغیات کا علم نہیں دے دیا جو آپ کو دنیا اور آخرت میں حاصل ہوئے۔ آپ ان تمام غیوب کو اس طرح یقین کی آنکھ سیجانتے ہیں جس طرح وہ ہیں ‘ جیسا کہ حدیث میں ہے کہ میرے لیے تمام دنیا کو اٹھا لیا گیا اور میں اس کو اسی طرحدیکھتا ہوں جس طرح اپنی اس ہتھیلی کو دیکھ رہا ہوں۔ (یہ حدیث اس طرح ہیض حضرت ابن عمر (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : بیشک اللہ عزوجل نے میرے لیے دنیا کو اٹھا لیا ‘ میں دنیا کو اور جو کچھ قیامت تک دنیا میں ہونے والا ہے اس طرح دیکھ رہا ہوں جس طرح اپنی ان ہتھیلیوں کو دیکھ رہا ہوں ‘ اللہ تعالیٰ نے ان کو میرے لیے اس طرح روشن کردیا جس طرح مجھ سے پہلے نبیوں کے لیے روشن کیا تھا ‘ اس حدیث کی سند ضعیف ہے۔ (جمع الجوامع رقم الحدیث : ٦٧٥١‘ کنزالعمال رقم الحدیث : ٣١٨١٠‘ ہرچند کہ اس حدیث کی سند ضعیف ہے ‘ لیکن فضائل اور مناقب میں احادیث ضعیفہ معتبر ہوتی ہیں) اسی طرح احادیث متواترہ میں ہے کہ آپ نے جنت اور دوزخ اور جو کچھ ان میں ہے اس کو دیکھا لیکن آپ کو حکم دیا گیا کہ آپ بعض چیزوں کو مخفی رکھیں۔ (حاشیۃ الصادی علی الجلا لین ج ٢ ص ٧٣٣‘ دارالفکر بیروت ‘ ١٤١٢ ھ)

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 27 النمل آیت نمبر 65