حدیث نمبر 505

روایت ہے حضرت خارجہ ابن حذافہ سے فرماتے ہیں ہمارے پاس رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور فرمایا کہ اﷲ نے ایک نماز سے تمہاری مدد فرمائی ۱؎ جو تمہارے لیئے سرخ اونٹوں سے بہتر ہے ۲؎(وتر)اسے اﷲ نے تمہارے لیئے نماز عشاء و طلوع فجر کے درمیان ر کھا ہے ۳؎(ترمذی،ابوداؤد)

شرح

۱؎ آپ صحابی،قرشی،بڑے بہادر جنگجو مجاہد ہیں،قریش کے سواروں میں آپ کو ایک ہزار سواروں کے برابر مانا جاتا تھا،ایک بار حضرت عمرو ابن عاص نے حضرت عمر سے تین ہزار سواروں کی کمک مانگی تو آپ نے تین شخص بھیجے حضرت خارجہ،زبیر ابن عوام مقداد ابن اسود رضی اللہ عنہم،آپ ۴۰ھ؁ میں خوارج کے ہاتھوں عمرو ابن عاص کے دھوکہ میں قتل ہوئے کہ خوارج نے امیر معاویہ،علی مرتضی،عمرو ابن عاص کے قتل کی سازش کی تھی تو علی مرتضیٰ شہید کردیئے گئے،عمرو ابن عاص کے دھوکہ میں آپ شہید کردیئے گئے او ر امیر معاویہ بچ گئے۔

۲؎ یعنی نماز پنجگانہ کے علاوہ تمہیں نماز وتر اور دی جوان نمازوں کا تمتہ اور تکملہ ہے اور تمہارے لیئے دنیا کی تمام چیزوں حتی کہ سرخ اونٹوں سے بھی زیادہ بہتر ہے۔اہل عرب سرخ اونٹ کو جان سے زیادہ عزیز رکھتے تھے۔اس سے معلوم ہوا کہ وتر واجب ہیں اَمَدَّکُم کے ایک معنی یہ بھی کیے گئے ہیں کہ رب نے تمہیں ایک نماز یعنی وتر ا ور بھی زیادہ دی۔

۳؎ یعنی وتر کا وقت عشاء کا وقت ہے مگر اس کے لیئے شرط ہے کہ عشاء کے فرض کے بعد پڑھی جائے۔خیال رہے کہ بعض محدثین نے اس حدیث کو ضعیف کہا لیکن حاکم اور ابن سکن نے اس کی تصحیح کی ہے،ترمذی نے اسے غریب فرمایا مگر یہ ضعفے یا غرابت امام ابوحنیفہ کو مضر نہیں کیونکہ یہ چیزیں امام صاحب کے بعد پیدا ہوئیں،بہرحال حدیث صحیح اور اس سے وتر کا وجوب ثابت ہے۔