أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

نَـتۡلُوۡا عَلَيۡكَ مِنۡ نَّبَاِ مُوۡسٰى وَفِرۡعَوۡنَ بِالۡحَـقِّ لِقَوۡمٍ يُّؤۡمِنُوۡنَ ۞

ترجمہ:

ہم آپ کے سامنے موسیٰ اور فرعون کی برحق خبریں ان لوگوں کے لیے تلاوت کرتے ہیں جو ایمان لانے والے ہیں

تلاوت کا معنی ہے آیتوں کو ایک دوسرے کے متصل بعد لگاتار پڑھنا ‘ متتابع ‘ متعاقب اور متوالی آیتوں کو پڑھنا ‘ اس سے مراد تمام خبروں کو بیان کرنا نہیں ہے بلکہ اس سے مراد وہ عظیم خبریں ہیں جن سے ظاہر اور پوشیدہ باتوں کا علم ہوجائے اور یہ معلوم ہوجائے کہ قوم فرعون سے کس طرح حساب لیا گیا اور ان کو کس طرح سزادی گئی۔

مومنوں پر تلاوت کرنے کی تخصیص کی توجیہ 

اسی آیت میں فرمایا ہے ہم ان لوگوں کے لیے تلاوت کرتے ہیں جو ایمان لانے والے ہیں۔ اس سے مراد وہ مسلمان ہیں کہ جب بھی کسی واقعہ کے متعلق کوئی آیت نازل ہوتی ہے تو وہ اس پر ایمان لے آتے ہیں ‘ اس سے معلوم ہوا کہ ان آیتوں کو نازل کرنے سے مقصود یہ ہے کہ سید نا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نبوت کو ثابت کیا جائے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو غیب کی خبروں پر مطلع فرمایا ہے کیونکہ ان خبروں کو جاننے کے لیے آپ کے پاس اللہ تعالیٰ کی وحی کے علاوہ اور کوئی ذریعہ نہیں تھا اور نبی وہی شخص ہوتا ہے جس کو اللہ تعالیٰ وحی کے ذریعہ غیب پر مطلع فرماتا ہے۔

اس آیت میں فرمایا ہے ہم آپ کے سامنے موسیٰ اور فرعون کی برحق خبریں ان لوگوں کے لیے تلاوت کرتے ہیں جو ایمان لانے والے ہیں ‘ تو کیا ان آیتوں کی تلاوت کافروں کے لیے نہیں ہے ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ کافروں کے لیے بھی ان آیتوں کی تلاوت ہے لیکن مومنین کا خصوصیت کے ساتھ ذکر اس لیے فرمایا ہے کہ انہوں نے ہی ان خبروں کو قبول کیا اور ان سے نفع اٹھایا جیسے قرآن مجید کی ہدایت تو تمام دنیا کے لوگوں کے لیے ہے لیکن چونکہ اس ہدایت سے نفع یاب ہونے والے صرف متقین تھے اس لیے فرمایا ھدی للمتقین (البقرہ : ٢) اس کا دوسرا جواب یہ ہے کہ ان آیات کی تلاوت بالزات مومنین کے لیے ہے اور بالتبع ان کی تلاوت غیر مومنین کے لیے بھی ہے اس لیے اس آیت میں خصوصیت کے ساتھ مومنین کا ذکر فرمایا جن کے لیے ان آیات کی بالذات تلاوت ہے۔

القرآن – سورۃ نمبر 28 القصص آیت نمبر 3