حدیث نمبر 512

روایت ہے حضرت علی سے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے آخری وتر میں فرماتے ۱؎ الٰہی میں تیری ناراضی سے تیری رضا کی اور تیری سزا سے تیری عافیت کی پناہ مانگتا ہوں،تیری تجھ سے پناہ مانگتا ہوں۲؎ تیری حمد میں نہیں کرسکتا تو ایسا ہی ہے جیسی تو نے خود اپنی احمد کی۳؎(ابوداؤد،ترمذی،نسائی،ابن ماجہ)

شرح

۱؎ یعنی وتر سے فارغ ہونے کے بعد یہ دعا پڑھتے،بعض نے فرمایا کہ آخری التحیات میں سلام سے پہلے بعض کے نزدیک آخری سجدہ میں،امام احمد ابن حنبل کے نزدیک تیسری رکعت کے قومہ میں یعنی رکوع سے اٹھ کر۔چنانچہ ان کے ہاں اس وقت یہ دعا پڑھی جاتی ہے۔

۲؎ یعنی تیری ذات سے تیری صفات کی پناہ یا تیرے غضب سے تیرے رحم کی پناہ،صوفیاء فرماتے ہیں کہ ان تین پناہوں میں سے پہلی پناہ میں توحید صفات اور دوسری میں توحید افعال تیسری میں توحید ذات کی طرف اشارہ ہے۔

۳؎ کیونکہ بندہ محدود،بندے کے الفاظ محدود،بندے کی طاقتیں محدود،خدا کے محامد غیر محدود شعر۔

دفتر تمام گشت بپایاں رسید عمر ماہمچناں در اول وصف توماند ہ ایم

نوٹ:جسے یاد نہ ہو وہ “رَبَّنَا اٰتِنَا فِی الدُّنْیَا”الخ پڑھ لیا کرے بلکہ تین بار “اَللّٰھُمَّ اغْفِرْلِیْ” کہہ دے تو بھی جائز ہے۔ (مرقاۃ)