حدیث نمبر 503

روایت ہے حضرت ابو ایوب سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ ہر مسلمان پر وتر لازم ہیں ۱؎ جو پانچ وتر پڑھنا چاہے وہ پانچ پڑھے ۲؎ جو تین پڑھنا چاہے وہ ایسا ہی کرے ۳؎ جو ایک پڑھنا چاہے وہ ایسا ہی کرے ۴؎ (ابوداؤد،نسائی،ابن ماجہ)

شرح

۱؎ یہ جملہ امام اعظم کی دلیل ہے کہ وتر واجب ہے جس کے چھوڑنے کا اختیار نہیں،اس کی تائید اور احادیث سے بھی ہوتی ہے جو آیندہ آرہی ہے۔

۲؎ اس طرح کہ دو رکعت تہجد اور تین رکعت وتر۔

۳؎ اس طرح کہ تہجد نہ پڑھے صرف وتر ہی تین رکعت پڑھے۔

۴؎ یہ جملہ ہمارے مخالفین کے بھی خلاف ہے کیونکہ ایک رکعت وتر پڑھنے والے یہ نہیں کہتے کہ ایک پڑھے یا تین یا پانچ وہ ایک ہی کو واجب کہتے ہیں اور حدیث سے اختیار ثابت ہورہا ہے لہذا یہ جملہ تین والی احادیث کے مخالف ہے اور ناقابل عمل۔خیال رہے کہ یہاں اس جملہ کے یہ معنی نہیں ہوسکتے کہ ایک رکعت دو سے ملا کر وتر بناؤ کیونکہ یہ صورت تو پہلے بیان ہوچکی۔