أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَتَرَى الۡجِبَالَ تَحۡسَبُهَا جَامِدَةً وَّهِىَ تَمُرُّ مَرَّ السَّحَابِ‌ؕ صُنۡعَ اللّٰهِ الَّذِىۡۤ اَتۡقَنَ كُلَّ شَىۡءٍ‌ؕ اِنَّهٗ خَبِيۡرٌۢ بِمَا تَفۡعَلُوۡنَ‏ ۞

ترجمہ:

اور (اے مخاطب ! ) تو اس پہاڑوں کو اپنی جگہ جما ہوا گمان کرے گا حالانکہ وہ بادلوں کی طرح اڑ رہے ہوں گے ‘ یہ اللہ کی صنعت ہے جس نے ہر چیز کو مضبوط بنایا ہے ‘ بیشک وہ تمہارے کاموں کی خبر رکھنے والا ہے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور (اے مخاطب ! ) تو اس پہاڑوں کو اپنی جگہ جما ہوا گمان کرے گا حالانکہ وہ بادلوں کی طرح اڑ رہے ہوں گے ‘ یہ اللہ کی صنعت ہے جس نے ہر چیز کو مضبوط بنایا ہے ‘ بیشک وہ تمہارے کاموں کی خبر رکھنے والا ہے۔ جو شخص نیکی لے کر آئے گا تو اس کے لیے اس (نیکی) سے اچھی جزا ہے ‘ اور وہ لوگ اس دن کی گھبراہٹ سے مامون ہوں گے۔ اور جو لوگ برائی لے کر آئیں گے تو ان کو منہ کے بل دوزخ میں گرا دیا جائے گا “ اور تم کو ان ہی کاموں کا بدلہ دیا جائے گا جو تم کیا کرتے تھے۔ (النمل : ٠٩۔ ٨٨)

قیامت کے دن پہاڑوں کی ٹوٹ پھوٹ اور ریزہ ریزہ ہونے کی مختلف حالتیں۔

اس دن سے مراد قیامت کا دن ہے ‘ اس دن پہاڑ اپنی جگہوں پر نہیں رہیں گے بلکہ بادلوں کی طرح چلیں گے اور اڑیں گے اور یہ اللہ کی عظیم قدرت ہے جس نے ہر چیز کو مضبوط بنایا ہے ‘ لیکن وہ ان مضبوط چیزوں کو بھی روئی کے گالوں کی طرح بنا کر اڑا دیتا ہے۔

اللہ تعالیٰ نے قیامت کے دن پہاڑوں کی کئی حالتیں بیان فرمائی ہیں ایک حالت یہ ہے کہ وہ بہت تیزی کے ساتھ چل رہے ہوں گے لیکن دیکھنے والوں کو وہ اپنے جگہ جمے ہوئے نظر آئیں گے اور جب کوئی بہت بڑی چیز تیزی سے حرکت کر رہی ہو تو دیکھنے والوں کو وہ ساکن معلوم ہوتی ہے ‘ جیسے کوئی شخص بحری جہاز کے کی بن میں بیٹھا ہو تو اس کو وہ جہاز ساکن دکھائی دیتا ہے حالانکہ وہ تیزی سے سفر طے کر رہا ہوتا ہے ‘ یا جس طرح زمین حرکت کر رہے ہے لیکن ہم کو زمین حرکت کرتی ہوئی دکھائی نہیں دیتی ‘ ہم اس کو اپنی جگہ ساکن دیکھتے ہیں۔

قیامت کے دن پہاڑوں کی دوسری حالت اس آیت میں بیان فرمائی ہے : و سیرت الجبال فکانت سرابا۔ (النبائ : ٠٢) اور پہاڑ جلائے جائیں گے پس وہ سراب (فریب نظر) ہوجائیں گے۔

سراب دھوپ میں چمکتی ہوئی ریت کو کہتے ہیں جو دور سے پانی کی طرح معلوم ہوتی ہے ‘ اور حقیقت میں وہاں کچھ نہیں ہوتا ‘ قیامت کے دن پہاڑ بھی دور سے نظر آنے والی چیز کی طرح فریب نظر ہوں گے ‘ حقیقت میں پہاڑوں کا وجود بالکل ختم ہوچکا ہوگا۔

قیامت کے دن پہاڑوں کی تیسری حالت اس طرح بیان فرمائی ہے : یوم تکون السماء کا لمھل۔ وتکون الجبال کالعھن۔ (المعارج : ٩ أ٧) جس دن آسمان تیل کے تلچھت کی طرح ہوجائے گا و اور پہاڑ روئی کے گالوں کی طرح ہوجائیں گے۔

پہاڑوں کی مختلف حالتوں میں اس طرح تطبیق دی گئی ہے کہ پہلے پہاڑوں کو ریزہ ریزہ کردیا جائے گا جس طرح اس آیت میں فرمایا : اور چوتھی حالت ہے : وحملت الارض والجبال فدکتا دکۃ واحدۃ۔ (الحاقۃ : ٤١) اور زمین اور پہاڑوں کو اٹھا لیا جائے گا اور ایک ہی ضرب سے ان کو ریزہ ریزہ کردیا جائے گا۔

اور یزہ ریزہ ہو کر وہ پہاڑ دھنکی ہوئی روئی کی طرح ہوجائیں گے۔

وتکون الجبال کالعھان المنفوش۔ (القرعۃ : ٥) اور پہاڑ دھنکی ہوئی روئی کی طرح ہوجائیں گے۔

پانچویں حالت یہ ہے کہ ان کو گردوغبار کی طرح اڑادیا جائے گا۔

وبست الجبال بسا۔ فکانت ھباء منبثا۔ (الواقعہ : ٦۔ ٥) اور پہاڑ ریزہ ریزہ ہو کردئے جائیں گے اور وہ بکھرئے ہوئے غبار کی طرح ہوجائیں گے۔

پھر اللہ تعالیٰ اس بکھرے ہوئے غبار کو اڑا دے گا۔

ویسلونک عن الجبال فقل ینسفھا ربی نسفا۔ (طٰہٰ : ٥٠١) اور وہ آپ سے پہاڑوں کے متعلق سوال کرتے ہیں ‘ آپ کہیے کہ ان کو میرا رب ریزہ ریزہ کرکے اڑا دے گا۔

اور آخر میں وہ معدوم ہر کر فریب نظر ہوجائیں گے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 27 النمل آیت نمبر 88