أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَقَالَ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡۤا ءَاِذَا كُنَّا تُرٰبًا وَّاٰبَآؤُنَاۤ اَئِنَّا لَمُخۡرَجُوۡنَ ۞

ترجمہ:

اور کافروں نے کہا جب ہم اور ہمارے باپ دادا (مر کر) مٹی ہوجائیں گے (تو) کیا ہم کو (قبروں سے) ضرور نکالا جائے گا

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : کافروں نے کہا جب ہم اور ہمارے باپ دادا (مر کر) مٹی ہوجائیں گے (تو) کیا ہم کو (قبروں سے) ضرور نکالا جائے گا۔ بیشک اس سے پہلے بھی ہم سے اور ہمارے باپ دادا سے یہ وعدہ کیا گیا تھا ‘ یہ صرف پہلے لوگوں کی کہانیاں ہیں۔ آپ کہیے کہ تم زمین میں سفر کرو پھر دیکھو کہ مجرموں کا کیسا انجام ہوا۔ آپ ان کے متعلق غم نہ کریں اور انکی سازشوں سے تنگ دل نہ ہوں۔ (النمل : ٧٠۔ ٦٧ )

کفار کی باتوں سے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو تسلی دینا 

اس سے پہلی آیات میں اللہ تعالیٰ نے اپنی ذات اور صفات اور اپنی الوہیت اور اپنی توحید پر دلائل بیان فرمائے تھے ‘ تاکہ دنیا میں اس پر ایمان لایا جائے اور نیک عمل کر کے اپنی آخرت کو سنوارا جائے ‘ اس سے پہلی آیت میں یہ بھی بیان فرمایا تھا کہ کفار مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کیے جانے کے قائل نہ تھے ‘ ان کا شبہ یہ تھا کہ جب ہم مرنے کے بعد قبر میں گل سڑ جائیں گے اور ہمارا جسم مٹی ہو کر مٹی میں مل جائے گا اور ہوائوں سے ہماری مٹی کے ذرات دوسروں کی مٹی کے ذرات سے مختلط ہوجائیں گے تو ہمارے ذرات کو دوسروں کے ذرات سے کیسے ممیز اور ممتاز کیا جائے گا۔ اللہ تعالیٰ آسمانوں اور زمینوں کی تمام چھپی ہوئی چیزوں کو جانتا ہے سو تم کو مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کرنا اس کے لیے کوئی مشکل نہیں ہے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 27 النمل آیت نمبر 67