أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَلَا تَحۡزَنۡ عَلَيۡهِمۡ وَلَا تَكُنۡ فِىۡ ضَيۡقٍ مِّمَّا يَمۡكُرُوۡنَ ۞

ترجمہ:

آپ ان کے متعلق غم نہ کریں اور ان کی سازشوں سے تنگ دل نہ ہوں

فرمایا آپ ان کے متعلق غم نہ کریں ‘ اس پر یہ اعتراض ہے کہ رنج اور غم وہ نفسانی کیفیات ہیں جن پر انسان کا اختیار نہیں ہے ‘ تو اللہ تعالیٰ نے آپ کو غم کرنے سے کیسے منع فرمایا ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ اس آیت میں غم کے اسباب کو اختیار کرنے سے منع فرمایا ہے یعنی آپ ان کے کفر اور انکار پر اصرار کو خاطر میں نہ لائیں تاکہ آپ کو ان کے ایمان نہ لانے سے غم ہو ‘ اور ان کی سازشوں کی طرف توجہ نہ کریں یہ آپکو ہلاک کرے کی سازشیں کرتے ہیں تو اللہ تعالیٰ آپ کو انکے ہلاک کرنے سے بچانے ولا ہے ‘ اور اگر یہ لوگوں کو ایمان لانے سے روکنے کے لیے سازشیں کرتے ہیں تو آپ اس کی بھی فکر نہ کریں ‘ آپ سے یہ سوال نہیں ہوگا کہ آپ کی تبلیغ سے کتنے لوگ اسالم لائے ‘ آپ کے ذمہ صرف اللہ تعالیٰ کے پیغام اور اس کے دین اور اس کی شریعت کو پہنچانا ہے اور لوگوں کے دلوں میں ایمان پیدا کرنا یہ اللہ تعالیٰ کا کام ہے۔

القرآن – سورۃ نمبر 27 النمل آیت نمبر 70