أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَمَاۤ اَنۡتَ بِهٰدِى الۡعُمۡىِ عَنۡ ضَلٰلَتِهِمۡ‌ؕ اِنۡ تُسۡمِعُ اِلَّا مَنۡ يُّؤۡمِنُ بِاٰيٰتِنَا فَهُمۡ مُّسۡلِمُوۡنَ ۞

ترجمہ:

اور نہ آپ اندھوں کو ان کی گمراہی سے (ازخود) ہدایت دینے والے ہیں ‘ آپ صرف ان لوگوں کو سناتے ہیں جو ہماری آیتوں پر ایمان لاتے ہیں سو وہی مسلمان ہیں

جس کے ایمان لانے کا اللہ تعالیٰ کو ازل میں علم تھا وہی دولت ایمان سے مشرف ہوگا 

اس کے بعد فرمایا : اور نہ آپ اندھوں کو ان کی گمراہی سے ( از خود) ہدایت دینے والے ہیں۔

ہدایت کو اللہ تعالیٰ پیدا کرتا ہے ‘ اور جس کے لیے اللہ تعالیٰ نے ہدایت پیدا کردی ہے ‘ وہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تبلیغ سے ہدایت حاصل کرلیتا ہے ‘ اور جس کے لیے اللہ تعالیٰ نے ہدایت پیدا نہیں کی وہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بسیار کوشش کے باوجود اسلام نہیں لاتا۔

حضرت عبداللہ بن عمر و بن العاص (رض) بیان کرتے ہیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہمارے پاس تشریف لائے اور آپ کے ہاتھ میں دو کتابیں تھیں ‘ آپ نے پوچھا کیا تم جانتے ہو کہ یہ کیسی عو کتابیں ہیں ؟ ہم نے کہا نہیں یا رسول اللہ ! البتہ اگر آپ ہمیں بتادیں ! آپ کے دائیں ہاتھ میں جو کتاب تھی آپ نے اس کے متعلق فرمایا یہ رب العالمین کے طرف سے کتاب ہے ‘ اس میں اہل جنت کے اسماء ہیں اور ان کے آباؤ اجداد اور ان کے قبائل کے اسماء ہیں ‘ پھر آخر میں (جمع کرکے) سب کا میزان (ٹوٹل) کردیا گیا ہے۔ اس میں اب کبھی اضافہ ہوگ اور نہ کبھی کمی ہوگی ‘ پھر آپ کے بائیں ہاتھ میں جو کتاب تھی آپ نے اس کے متعلق فرمایا یہ رب العالمین کی طرف سے کتاب ہے اس میں دوزخ والوں کے اسماء ہیں اور ان کے آباء و اجداد اور ان کے قبائل کے اسماء ہیں ‘ پھر ان کے آخر میں ( جمع کرکے) سب کا میزان کردیا گیا ‘ اس میں نہ کبھی کوئی اضافہ ہوگا اور نہ کبھی کوئی کمی ہوگی ‘ آپ کے اصحاب نے کہا یا رسول اللہ ! جب سب کچھ پہلے لکھا جا چکا ہے تو اب عمل کس چیز میں کریں ! آپ نے فرمایا : تم ٹھیک ٹھیک کام کرتے رہو ‘ کیونکہ جنت والے کا خاتمہ اہل جنت کے عمل پر کیا جائے گا ‘ خواہ وہ (زندگی بھر) کوئی عمل کرتا رہے ‘ اور دوزخ والے کا خاتمہ اہل دوزخ کے عمل پر کیا جائے گا ‘ خواہ وہ (زندگی بھر) کوئی عمل کرتا رہے پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے ہاتھوں کو جھاڑا اور ان کتابوں کو ایک طرف رکھ دیا ‘ پھر فرمایا : تمہارا رب بندوں سے فارغ ہوچکا ہے۔ ایک فریق جنت میں ہے اور ایک فریق دوزخ میں ہے۔ ( سنن الترمذی رقم الحدیث : ١٤١٢‘ مسند احمد ض ٢ ص ٧٦١) 

ہوسکتا ہے کہ کوئی شخص یہ اعتراض کرے کہ جب اللہ تعالیٰ کرے کہ جب اللہ تعالیٰ نے پہلے ہی لکھ دیا ہے کہ فلاں شخص دوزخی ہے ‘ تو وہ خواہ کتنے ہی نیک عمل کیوں نہ کرے وہ دوزخ میں جانے سے نہیں بچ سکتا ‘ اس کا جواب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کو ازل میں علم تھا کہ کون شخص خاتمہ کے وقت اہل جنت کے عمل کرے گا اور کون شخص خاتمہ کے وقت اہل دوزح کے عمل کرے گا تو اس نے وہی کچھ لکھا ہے جو بندوں نے کرنا تھا ‘ اس کو ازل میں علم تھا کہ کون شخص نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ہدایت سے ایمان لائے گا اور کون آپ کی ہدایت کے باوجود ایمان نہیں لائے گا اور اسی اعتبار سے اللہ ت عالیٰ نے مومنوں اور کافروں کے نام الگ الگ کتابوں میں لکھ دئے اور اس آیت میں بھی یہی فرمایا ہے : اور نہ آپ اندھوں کو ان کی گمراہی سے (از خود) ہدایت دینے والے ہیں ‘ آپ صرف ان لوگوں کو سناتے ہیں جو ہماری آیتوں پر ایمان لاتے ہیں۔ (النمل : ١٨) ہرچند کے آپ تمام لوگوں کو قرآن مجید کی آیات اور ہدایت کا وعظ سناتے ہیں لیکن آپ کے وعظ کو جو ن کہ صرف مسلان ہی قبول کرتے ہیں اور وہی اس سے فائدہ اٹھاتے ہیں اس لیے فرماے آپ صرف ان لوگوں کو سناتے ہیں جو ہماری آیتوں پر ایمان لاتے ہیں اور وہی مسلمان ہیں ‘ اور یہ وہ لوگ ہیں جن کے مت عتعلق اللہ تعالیٰ کو ازل میں علم تھا کہ یہ ایمان لائیں گے اور الالہ تعالیٰ نے ان کے نام اہل جنت کی کتاب میں لکھ دیا تھا۔

القرآن – سورۃ نمبر 27 النمل آیت نمبر 81