أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَنُمَكِّنَ لَهُمۡ فِى الۡاَرۡضِ وَنُرِىَ فِرۡعَوۡنَ وَهَامٰنَ وَجُنُوۡدَهُمَا مِنۡهُمۡ مَّا كَانُوۡا يَحۡذَرُوۡنَ ۞

ترجمہ:

اور ہم ان کو ان کے ملک کا اقتدار عطا کرنا چاہتے تھے اور ہم فرعون اور ہامان اور ان کے لشکروں کو ( بنی اسرائیل کے ہاتھوں) وہ انجام دکھانا چاہتے تھے جس سے وہ خوف زدہ تھے

فرعون کا اپنے خدشات کا شکار ہونا 

فرمایا : اور ہم ان کو ( ان کے) ملک کا اقتدار عطا کرنا چاہتے تھے۔ الآیہ : (القصص : ٦) یعنی ہم ملک شام اور ملک مصر کا اقتدار بنی اسرائیل کے سپرد کرنا چاہتے تھے ‘ اور فرعون ‘ ھامان اور ان کے لشکروں کو ان کے خواب کی وہ تعبیر دکھانا چاہتے تھے جس سے وہ خوف زدہ تھے ‘ کیونکہ ان کو بہ خبر دی گئی تھی کہ ان کی ہلاکت بنی اسرائیل کے ایک شخص کے ہاتھوں سے واقع ہوگی۔ قتادہ نے کہا ان کو ڈرانے والا ایک نجومی تھا جس نے یہ کہا تھا کہ اس سال ایک لڑکا پیدا ہوگا جس کے ہاتھوں اس کا ملک چلا جائے گا۔

امام ابن جریر متوفی ٠١٣ ھ اور امام ابن ابی حاتم متوفی ٧٢٣ ھ علامہ ماوردی متوفی ٠٥٤ ھ ‘ حافظ ابن کثیر متوفی ٤٧٧ ھ وغیر ہم اپنی سندون کے ساتھ روایت کرتے ہیں :

سدی نے بیان کیا کہ فرعون نے خواب دیکھا کہ بیت المقدس سے ایک آگ نکلی اور مصر کے گھروں تک پہنچ گئی اس نے قبطیوں کے گھر جلادئیے اور بنی اسرائیل کے گھر چھوڑ دئیے۔ اس نے جادوگروں ‘ کاہنوں ‘ قیافہ شناسوں اور نجومیوں کو بلایا اور ان سے اس خواب کی تعبیر پوچھی انہوں نے کہا جس شہر سے بنو اسرائیل آئے ہیں یعنی بیت المقدس سے ‘ اس شہر کے ایک شخص کے ہاتھوں سے مصر تباہ ہوجائے گا ‘ تب فرعون نے حکم دیا کہ بنو اسرائیل کے ہاں جو لڑکا پیدا ہو ‘ اس کو قتل کردیا جائے اور جو لڑکی پیدا ہو ‘ اس کو چھوڑ دیا جائے اور قبطیوں سے کہا کہ تم اپنے نیچ کام بنی اسرئیل سے کرایا کرو۔ ادھر بنو اسرائیل کے بوڑھے جلد مرگئے ‘ تب قبطیوں کے سردار فرعوں کے پاس گئے اور کہا کہ بنی اسرائیل کے بڑے تو مر رہے ہیں اگر ان کے بیٹوں کو یونہی قتل کیا جاتا رہا تو پھر ہمارے بیٹوں کو نیچ کام کرنے پڑیں گے ‘ آپ ایس کریں کہ ایک سال بنواسرائیل کے لڑکوں کو قتل کرائیں اور ایک سال چھوڑ دیں ‘ اور جس سال بنو اسرائیل کے لڑکوں کو قتل کیا جانا تھا اس سال حضرت موسیٰ کی والدہ حاملہ ہوئیں اور پھر حضرت موسیٰ پیدا ہوئے ‘ اور مجاہد نے کہا جس سال بنو اسرائیل کے بیٹوں کو چھوڑنا تھا اس سال حضرت ہارون (علیہ السلام) پیدا ہوئے اور جس سال ان کے بیٹوں کو قتل کرنا تھا اس سال حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پیدا ہوئے ‘ اور حضرت ہارون (علیہ السلام) حضرت موسیٰ سے ایک سال بڑے تھے۔

(جامع البیان رقم الحدیث : ٣٧٦٠٢‘ تفسیر امام ابن ابی حاتم رقم الحدیث : ٤٧٦٦١۔ ٢٧٦٦١‘ النکت والعیون ج ٤ ص ٤٣٢‘ تفسیر ابن کثیر ج ٣ ص ٨١٤‘ الدرالمثورج ٦ ص ٨٤٣‘ تاریخ دمشق الکثبیرج ٤٦ ص ٢٦۔ ٣١‘ مطبوعہ بیروت ‘ ١٢٤١ ھ)

القرآن – سورۃ نمبر 28 القصص آیت نمبر 6