أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَيَقُوۡلُوۡنَ مَتٰى هٰذَا الۡوَعۡدُ اِنۡ كُنۡتُمۡ صٰدِقِيۡنَ ۞

ترجمہ:

اور یہ (کافر) کہتے ہیں کہ یہ وعدہ کب پورا ہوگا اگر تم سچے ہو

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور یہ (کافر) کہتے ہیں کہ یہ وعدہ کب پورا ہوگا اگر تم سچے ہو۔ آپ کہیے کہ جس چیز کو تم جلد طلب کر رہے ہو ‘ ہوسکتا ہے کہ وہ تمہارے ساتھ لگ چکی ہے۔ اور بیشک آپ کا رب لوگوں پر فضل فرمانے والا ہے ‘ لیکن اکثر لوگ شکرادا نہیں کرتے۔ اور بیشک آپ کا رب ان چیزوں کو ضرور جانتا ہے جس کو یہ اپنے دلوں میں چھپاتے ہیں اور جن کو یہ ظاہر کرتے ہیں۔ اور آسمان اور زمین میں جو چیز چھپی ہوئی ہے وہ روشن کتاب (لوح محفوظ) میں (لکھی ہوئی) ہے۔ (النمل : ٧٥۔ ٧١)

موت کا قیامت صغریٰ ہونا 

کفار یہ کہتے تھے کہ تم نے جس عذاب کی وعید سنائی ہے کہ عذاب کب آئے گا ؟ آپ کی ہے کہ وہ عذاب تمہارے قریب آپہنچا ہے ‘ اور عذاب تمہارے لیے بہ منزلہ ردیف ہے ‘ ردیف اس شخص کو کہتے ہیں جو سواری پر سوار کے پیچھے بیٹھتا ہے ‘ یعنی جس طرح ردیف سوار کے قریب ہوتا ہے وہ عذاب تمہارے قریب آپہنچا ہے ‘ پھر اس عذاب کی ایک قسط تو جنگ بدر میں شکست کی صروت میں ان کو ملے گی ‘ اور اس کی دوسری قسط ان کو موت کے بعد ملے گی۔ حدیث یہ ہے 

حضرت انس (رض) بیان کرتے ہیں کہ جب تم میں سے کوئی شخص مرتا ہے تو اسی وقت اس کی قیامت قائم ہوجاتی ہے ‘ سو تم اللہ کی اس طرح عبادت کرو گویا کہ اس کو دیکھ رہے ہو اور ہر وقت اس سے استغفار کرتے رہو۔ (الفردوس بما شور الخطاب رقم الحدیث : ١١١٧‘ جمع الجوامع رقم الحدیث : ٢٥٨٠‘ کنزالعمال رقم الحدیث : ٤٢٧٤٨ )

امام ابن ابی الدنیا نے روایت کیا ہے کہ جو شخص مرگیا اس کی قیامت قائم ہوگئی۔ (حلیۃ الاولیاء ج ٦ ص ٢٦٨‘ اتحاف ج ٩ ص ١١)

کیونکہ انسان جس وقت مرتا ہے وہ دنیا میں اس کا آخری اور آخرت میں اس کا پہلا زمانہ ہوتا ہے ‘ اس لیے کفار مرتے ہی اس عذاب کا ایک حصہ پالیں گے جس کی ان کو وعید سنائی گئی تھی۔ اور فرمایا آپ کا رب لوگوں پر فضل فرمانے والا ہے اور کفار پر اللہ تعالیٰ کا یہ فضل ہے کہ اس نے دنیا میں ان سے عذاب کو مؤخر کردیا ہے ‘ اور قیامت کے منکرین جو عذاب کو جلد طلب کررہے ہیں یہ ان کی پر لے درجہ کی جہالت ہے۔ نیز فرمایا لیکن اکثر لوگ شکر ادا نہیں کرتے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے بندوں کو جو ان گنت نعمتیں دی ہیں وہ ان پر غور نہیں کرتے اگر پانچ منٹ کے لیے اللہ تعالیٰ ہوائوں کو روک لے تو سب کا دم گھٹ جائے ‘ پانی نہ ملے تو پیاس سے حلق میں کانٹے پڑجائیں ‘ بول و براز بند ہوجائے تو ماہی بےآب کی طرح تڑپنے لگیں ذ سو ہم پر لازم ہے کہ ہر آن استغفار کریں اور ہر لحظہ اس کا شکر ادا کریں۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 27 النمل آیت نمبر 71