وَ قَالَ الَّذِیْنَ اَشْرَكُوْا لَوْ شَآءَ اللّٰهُ مَا عَبَدْنَا مِنْ دُوْنِهٖ مِنْ شَیْءٍ نَّحْنُ وَ لَاۤ اٰبَآؤُنَا وَ لَا حَرَّمْنَا مِنْ دُوْنِهٖ مِنْ شَیْءٍؕ-كَذٰلِكَ فَعَلَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْۚ-فَهَلْ عَلَى الرُّسُلِ اِلَّا الْبَلٰغُ الْمُبِیْنُ(۳۵)

اور مشرک بولے اللہ چاہتا تو اس کے سوا کچھ نہ پوجتے نہ ہم اور نہ ہمارے باپ دادا اور نہ اس سے جدا ہو کر ہم کوئی چیز حرام ٹھہراتے (ف۶۹) ایسا ہی ان سے اگلوں نے کیا (ف۷۰) تو رسولوں پر کیا ہے مگر صاف پہونچا دینا (ف۷۱)

(ف69)

مثل بحیرہ و سائبہ وغیرہ کے ۔ اس سے ان کی مراد یہ تھی کہ ان کا شرک کرنا اور ان چیزوں کو حرام قرار دے لینا اللہ کی مشیت و مرضی سے ہے اس پر اللہ تعالٰی نے فرمایا ۔

(ف70)

کہ رسولوں کی تکذیب کی اور حلال کو حرام کیا اور ایسے ہی تمسخُر کی باتیں کہیں ۔

(ف71)

حق کا ظاہر کر دینا اور شرک کے باطل و قبیح ہونے پر مطّلع کر دینا ۔

وَ لَقَدْ بَعَثْنَا فِیْ كُلِّ اُمَّةٍ رَّسُوْلًا اَنِ اعْبُدُوا اللّٰهَ وَ اجْتَنِبُوا الطَّاغُوْتَۚ-فَمِنْهُمْ مَّنْ هَدَى اللّٰهُ وَ مِنْهُمْ مَّنْ حَقَّتْ عَلَیْهِ الضَّلٰلَةُؕ-فَسِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ فَانْظُرُوْا كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُكَذِّبِیْنَ(۳۶)

اور بےشک ہر امّت میں سے ہم نے ایک رسول بھیجا (ف۷۲) کہ اللہ کو پوجو اور شیطان سے بچو تو ان (ف۷۳) میں کسی کو اللہ نے راہ دکھائی(ف۷۴) اور کسی پر گمراہی ٹھیک اتری (ف۷۵) تو زمین میں چل پھر کر دیکھو کیسا انجام ہوا جھٹلانے والوں کا (ف۷۶)

(ف72)

اور ہر رسول کو حکم دیا کہ وہ اپنی قوم سے فرمائیں ۔

(ف73)

اُمّتوں ۔

(ف74)

وہ ایمان سے مشرف ہوئے ۔

(ف75)

وہ اپنی ازلی شقاوت سے کُفر پر مرے اور ایمان سے محروم رہے ۔

(ف76)

جنہیں اللہ تعالٰی نے ہلاک کیا اور ان کے شہر ویران کئے ، اجڑی ہوئی بستیاں ان کے ہلاک کی خبر دیتی ہیں ۔ اس کو دیکھ کر سمجھو کہ اگر تم بھی ان کی طرح کُفر و تکذیب پر مُصِر رہے تو تمہارا بھی ایسا ہی انجام ہونا ہے ۔

اِنْ تَحْرِصْ عَلٰى هُدٰىهُمْ فَاِنَّ اللّٰهَ لَا یَهْدِیْ مَنْ یُّضِلُّ وَ مَا لَهُمْ مِّنْ نّٰصِرِیْنَ(۳۷)

اگر تم ان کی ہدایت کی حرص کرو (ف ۷۷) تو بےشک اللہ ہدایت نہیں دیتا جسے گمراہ کرے اور ان کا کوئی مددگار نہیں

(ف77)

اے محمّدِ مصطفٰے صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بحالیکہ یہ لوگ ان میں سے ہیں جن کی گمراہی ثابت ہو چکی اور ان کی شقاوت ازلی ہے ۔

وَ اَقْسَمُوْا بِاللّٰهِ جَهْدَ اَیْمَانِهِمْۙ-لَا یَبْعَثُ اللّٰهُ مَنْ یَّمُوْتُؕ-بَلٰى وَعْدًا عَلَیْهِ حَقًّا وَّ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَۙ(۳۸)

اور انہوں نے اللہ کی قسم کھائی اپنے حلف میں حد کی کوشش سے کہ اللہ مُردے نہ اٹھائے گا (ف۷۸) ہاں کیوں نہیں (۷۹) سچا وعدہ اس کے ذمہ پر لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے (ف۸۰)

(ف78)

شانِ نُزول : ایک مشرک ایک مسلمان کا مقروض تھا ، مسلمان نے مشرک پر تقاضا کیا دورانِ گفتگو میں اس نے اس طرح اللہ کی قسم کھائی کہ اس کی قسم جس سے میں مرنے کے بعد ملنے کی تمنّا رکھتا ہوں ، اس پر مشرک نے کہا کہ کیا تیرا یہ خیال ہے کہ تو مرنے کے بعد اٹھے گا اور مشرک نے قسم کھا کر کہا کہ اللہ مردے نہ اٹھائے گا ۔ اس پر یہ آیت نازِل ہوئی اور فرمایا گیا ۔

(ف79)

یعنی ضرور اٹھائے گا ۔

(ف80)

اس اٹھانے کی حکمت اور اس کی قدرت بے شک وہ مُردوں کو اٹھائے گا ۔

لِیُبَیِّنَ لَهُمُ الَّذِیْ یَخْتَلِفُوْنَ فِیْهِ وَ لِیَعْلَمَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اَنَّهُمْ كَانُوْا كٰذِبِیْنَ(۳۹)

اس لیے کہ انہیں صاف بتادے جس بات میں جھگڑتے تھے (ف۸۱) اور اس لیے کہ کافر جان لیں کہ وہ جھوٹے تھے (ف۸۲)

(ف81)

یعنی مُردوں کو اٹھانے میں کہ وہ حق ہے ۔

(ف82)

اورمُردوں کے زندہ کئے جانے کا انکار غلط ۔

اِنَّمَا قَوْلُنَا لِشَیْءٍ اِذَاۤ اَرَدْنٰهُ اَنْ نَّقُوْلَ لَهٗ كُنْ فَیَكُوْنُ۠(۴۰)

جو چیز ہم چاہیں اس سے ہمارا فرمانا یہی ہوتا ہے کہ ہم کہیں ہوجا وہ فوراً ہوجاتی ہے(ف۸۳)

(ف83)

تو ہمیں مُردوں کا زندہ کر دینا کیا دشوار ۔