حدیث نمبر 504

روایت ہے حضرت علی سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ اﷲ وتر ہے ۱؎ وتر کو پسند فرماتا ہے ۲؎ تو اے قرآن والو وتر پڑھا کرو۳؎(ترمذی،ابوداؤد،نسائی)

شرح

۱؎ عربی میں وتر فرد عدد کو کہتے ہیں جو تقسیم نہ ہوسکے اکیلا ہو،رب تعالٰی عدد سے پاک ہے۔اس کے وتر ہونے کے یہ معنی ہیں کہ وہ ذات و صفات اور افعال میں اکیلا ہے،نہ اس کا کوئی شریک ہے،نہ اس کے صفات افعال قابل تقسیم،اسی معنی سے اسے واحد اور احد کہتے ہیں لہذا حدیث پر اعتراض نہیں کہ وتر و شفع ہونا عدد کے حالات ہیں اﷲ تعالٰی عدد سے پاک ہے۔

۲؎ وتر نماز کو پسند کرتا ہے کہ وتر ہونے میں اسے رب تعالٰی سے نسبت ہے،لہذا اس پر ثواب دے گا یا اس شخص کو پسند کرتا ہے جو دنیا سے اکیلا ہو کر رب کا ہو رہے جب رب تمہارا ہے تو تم بھی رب کے ہوجاؤ۔(ازمرقات)

۳؎ یعنی اے قرآن ماننے والو مسلمانو! نماز وتر پڑھا کرو اس پر بہت ثواب ہے یا اے قرآن ماننے والو دنیا سے منقطع ہو کر رب کے ہو رہو۔بعض لوگوں نے اس حدیث کی بنا پر کہا کہ وتر ایک رکعت ہے کیونکہ یہاں وتر کو اﷲ تعالٰی سے نسبت دی گئی اﷲ تو ایک ہے وتر بھی ایک ہونی چاہیے مگر یہ بات بہت کمزور ہے کیونکہ یہاں مناسبت صرف وتر یعنی طاق ہونے میں ہے اور طاق تو تین بھی ہیں ایک ہونے میں نسبت نہیں،ورنہ رب تعالٰی اجزا سے پاک ہے اور وتر نماز اگرچہ ایک رکعت ہی ہواجزا والی ہے۔