۱۱۳۔ عن اُم المؤمنین عائشۃ الصدیقۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہا قالت: لما اشتکی النبی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم ذکر بعض نسائہ کنیسۃ رأتہا بأرض الحبشۃ یقال لہاماریۃ، و کانت اُم سلمۃ و اُم حبیبۃ أتتاأرض الحبشۃ فذ کرتا من حسنہا و تصاویر فیہا فرفع رأسہ فقال: اُوْلٓئِکَ اِذَا مَاتَ مِنْہُمُ الرَّجُلُ الصَّالِحُ بَنَوْا عَلیٰ قَبْرِہٖ مَسْجِدًا ثُمَّ صَوَّرُ وْا فِیْہِ تِلْکَ الصُّوَرَ وَ اُوْلٓئِکَ شِرَارُ الْخَلْقِ عِنْدَ اللّٰہِ ۔فتاوی رضویہ حصہ دوم ،۹/۴۷

ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی ٰ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم بیمار ہوئے تو آپکی بعض ازواج مطہرات نے حبشہ میں واقع ماریہ نامی ایک گرجے کا تذکرہ کیا۔ حضرت ام سلمہ اور حضرت ام حبیبہ حبشہ تشریف لے گئی تھیں انہوں نے اسکی خوبصورتی اور اس میں آویزاں تصویروں کا ذکر بھی کیا، آپ نے یہ سنکر سر اٹھایا اور فرمایا : یہ وہ لوگ ہیں کہ جب ان میں کوئی نیک مرد انتقال کرجاتا تو اسکی قبر پر مسجد بنا ڈالتے اور اسکی تصویر بنا کر آویزاں کرتے یہ لوگ اللہ تعالی کے نزدیک بدترین مخلوق ہیں ۔

]۹[ امام احمد رضا محدث بریلوی قدس سرہ فرماتے ہیں

معظم دین کی تصویر زیادہ موجب وبال و نکال ہے کہ اسکی تعظیم کی جائیگی ۔ اور تصویر ذی روح کی تعظیم خاصی بت پرستی کی صورت اور گویا ملت اسلامی سے صریح مخالفت ہے ، ابھی حدیث سن چکے کہ وہ اولیاء ہی کی تصویریںرکھتے تھے جن پر انکو بد ترین خلق فرمایا۔انبیاء کرام  علیہم الصلوۃ والسلام سے بڑھ کر کون معظم دین ہوگا ۔ اور نبی بھی کون شیخ الانبیاء خلیل کبریا سیدنا ابراہیم علی ابنہ الکریم و علیہ افضل الصلوۃ والتسلیم کہ ہمارے حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے بعد تمام جہاں سے افضل و اعلی ہیں ۔ انکی اور حضرت سیدنا اسمعیل ذبیح اللہ و حضرت بتول مریم علیہم الصلوۃ والسلام کی تصویریں دیوار کعبہ پر کفار نے نقش کی تھیں جب مکہ معظمہ فتح ہوا حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے امیر المؤمنین فاروق اعظم رضی اللہ تعالی عنہ کو پہلے بھیج کر وہ سب محو کرادیں۔ جب کعبہ معظمہ میں تشریف فرما ہوئے بعض کے نشان کچھ باقی پائے ۔

پانی منگا کر بنفس نفیس انہیں دھودیا۔اور بنانے والوں کو قاتل اللہ فرمایا ۔ اللہ انہیں قتل کرے ۔ اقول وباللہ التوفیق :یہاں ایک نکتہ بدیعہ ہے جس پر تنبیہ لازم ،یہاں چار صورتیں ہیں ۔

اول: تصویر کی توہین ۔مثلا فرش پا انداز میں ہونا کہ اس پر چلیں ۔ پائوںرکھیں ،یہ جائز ہے اور مانع ملائکہ نہیں ۔اگر چہ بنانا اور بنوانا ایسی تصویروں کا حرام ہے ۔ کما فی الحلیہ والبحر وغیرہا ۔

دوم: جس چیز میں تصویر ہو اسے بلا اہانت رکھنا مگر وہ ترک اہانت بوجہ تصویر نہ ہوبلکہ اورسبب سے ، جیسے روپے کو سنبھال کر رکھنا ،زمین پر پھینک نہ دینا۔ کہ یہ بوجہ تصویر نہیں بلکہ بہ سبب مال ہے ۔ اگر سکہ میں تصویر نہ ہوتی جب بھی وہ ایسی ہی احتیاط سے رکھا جاتا ، یہ بحال ضرورت جائز ہے ۔ جس طرح روپے میں کہ تکریم تصویر مقصود نہیں اور بے تصویر کے یہاں چلتا نہیں اور اس سے تصویر مٹائیں تو چلے گا نہیں ۔ الضرورات تبیح المحظورات یونہی اسٹامپ کی تصویریں اور ڈاک کے ٹکٹ کہ اگر انکی تصویر ایسی چھوٹی نہ ہوں کہ زمین پررکھ کر کھڑے ہو کر دیکھنے سے تفصیل اعضا ء ظاہر نہ ہو، جیسے اشرفی مہر۔اسکے رکھنے کا ویسے ہی جواز ہے کہ اسکی تصویریں ایسی ہی چھوٹی ہیں ۔ اور بلا ضرورت داخل کر اہت کہ اگر چہ ترک اہانت دوسری وجہ سے ہے مگر لازم تو تصویرکی نسبت بھی آیا۔ حالانکہ ہمیں اسکی اہانت کا حکم ہے ۔ تو ترک اہانت میں ترک حکم ہے اور ضرورت نہیں کہ حکم جواز لائے، چاقو وغیرہا پر جو تصویریں ہوتی ہیں و ہ اسی حکم میں داخل ہیں ۔ اگر بڑی ہیں تو انہیں مٹادے یا کاغذ وغیرہ لگادے ورنہ مکروہ ہے۔ یہ بھی اس وقت کہ رکھنے والے کو اس شیٔ سے کام ہوتصویر مقصود نہ ہو ورنہ صورت سوم میں داخل ہوگا ۔

سوم: ترک اہانت بوجہ تصویر ہی ہو مگر تصویر کی خاص تعظیم مقصود نہ ہو جیسے جہال زینت و آرائش کے خیال سے دیواروں پر تصویریں لگاتے ہیں یہ حرام ہے اور مانع ملائکہ علیہم الصلوۃ والسلام ہے کہ خود صورت ہی کا اکرام مقصود ہوا اگرچہ اسے معظم و قابل احترام نہ جا نا۔

چہارم: صرف ترک اہانت نہ ہو بلکہ بالقصد تصویر کی عظمت و حرمت کرنااسے معظم دینی سمجھنا ،اسے تعظیما بوسہ دینا ،سر پر رکھنا،آنکھوں سے لگانا ،اسکے سامنے دست بستہ کھڑا ہونا ، اسکے لائے جانے پر قیام کرنا اسے دیکھ کر سر جھکانا ۔وغیرہ ذلک افعال تعظیم بجالانا ۔ یہ سب سے اخبث اور قطعا یقینا اجماعا اشد حرام و سخت کبیرئہ ملعونہ ہے اور صریح کھلی بت پرستی سے ایک ہی قدم پیچھے ہے ۔ اسے کسی حال میں کوئی مسلمان حلال نہیں کہہ سکتا ۔ اگر چہ لاکھ مقطوع یا صغیر یا مستور ہو ۔ یہ قید یں سب صورت سوم تک تھیں ۔ قصداً تعظیم تصویرذی روح کی حرمت شدیدہ عظیمہ میں نہ کوئی قید ہے ۔ نہ کسی مسلمان کا خلاف متصور ۔ بلکہ قریب ہے کہ اسکی حرمت شدیدہ اس ملت حنفیہ کے ضروریات سے ہو تو اسکا استحسان بلکہ صرف استحلال یعنی جائز جاننا ہی سخت امر عظیم کا خطرہ رکھتا ہے۔ والعیاذ باللہ تعالیٰ فتاوی رضویہ حصہ دوم ۹/۶۲

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۱۱۳۔الجامع الصحیح للبخاری، الجنائز ، ۱/۱۷۹ ٭ المسند لاحمد بن حنبل ۶/۵۱

المسند لابی عوانۃ ، ۱/۴۰۰ ٭ البدایۃ و النہایۃ لابن کثیر ، ۱/۱۰۶