حکایت نمبر:345 امام احمد بن حَنْبَل علیہ رحمۃ اللہ الاکرم کی چادر

حضرتِ سیِّدُنا صالح بن احمد بن حَنْبَل علیہ رحمۃاللہ الاکرم سے منقول ہے کہ ایک دن ہماری کنیز آئی اور کہنے لگی:” میرے آقا ! ایک شخص کھجور کے پتوں سے بنی ہوئی یہ ٹوکری لایا ہے اس میں خشک میوے اور ایک خط ہے۔ ” آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں کہ میں کھڑا ہوا اور خط پڑھنے لگا ، اس میں کچھ اس طر ح کا مضمون لکھا تھا :

” اے ابو عبداللہ (رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ)! میں نے آپ کے لئے کچھ رقم جمع کر رکھی تھی، میں نے اسے سمر قند بھیج دیا تاکہ ا س کے ذریعے سرمایہ کاری کروں اور کچھ کا روبار کروں، کا رو بار میں کچھ خسارہ ہوگیا،جورقم آپ کے لئے جمع کر رکھی تھی دوبارہ بھیج کر سر مایہ کاری کی ، اس میں پھر کچھ نقصان ہوگیا،اب میں آپ کی طر ف چار ہزار درہم اور کچھ پھل بھیج رہا ہوں یہ پھل میں نے اپنے باغ سے چنے ہیں اور یہ مال اورباغ مجھے اپنے والد کی طرف سے ورثہ میں ملا اور میرے والد کو دادا کی طر ف سے بطورِ ورثہ ملا، حضور یہ حقیرسا نذرانہ قبول فرمالیں ۔” وَالسَّلَام

میں خط پڑھ کر اپنے والدِ محترم حضرتِ سیِّدُنا امام احمد بن حَنْبَل رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کا انتظار کرنے لگا ۔ پھلوں کی ٹوکری دیکھ کر بہت سے بچے جمع ہوگئے تھے ۔ جب میرے والد صاحب گھر تشریف لائے تو ہم سب آپ کی بارگاہ میں حاضر ہوئے، میری آنکھوں سے بے اختیار آنسو بہہ پڑے ، روتے ہوئے عرض کی:”ابا جان! کیا آپ میری وجہ سے زکوۃ کامال لینے پر مجبور ہو گئے؟” آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے فرمایا:” بیٹا !تم سے کس نے کہا کہ یہ پھل اوردرہم جو ہمیں بطورِ نذرانہ بھیجے گئے ہیں، زکوۃ کے ہیں؟ اچھا! ابھی اس ٹوکری کو نہ کھولنا، آج رات میں اللہ عَزَّوَجَلَّ کی بارگاہ میں اِستِخارہ کروں گا۔” دوسرے دن میرے والد صاحب نے مجھے بلایاا ور کہا:” میں نے رات استخارہ کیا تو یہی حکم ہو اکہ مَیں اس میں سے کوئی چیز بھی نہ لوں۔” پھر آ پ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے ٹوکری کھولی اور سارے پھل بچو ں میں تقسیم کردیئے اور اپنے لئے ایک دانہ بھی نہ رکھا، ٹوکری میں موجود چار ہزار درہم سارے کے سارے واپس لوٹا دیئے اور اپنی ایک چادر بھی اس شخص کو بھجوائی جس نے یہ نذرانہ بھجوایا تھا۔ بعد میں مجھے پتا چلا کہ اس شخص نے میرے والد کی بھجوائی ہوئی وہ چادر اپنے پاس محفوظ رکھی اور وصیت کی کہ مجھے اسی چادر کا کفن دینا ۔
(اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو..اور.. اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وسلَّم)