أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اُسۡلُكۡ يَدَكَ فِىۡ جَيۡبِكَ تَخۡرُجۡ بَيۡضَآءَ مِنۡ غَيۡرِ سُوۡٓءٍ وَّاضۡمُمۡ اِلَيۡكَ جَنَاحَكَ مِنَ الرَّهۡبِ‌ فَذٰنِكَ بُرۡهَانٰنِ مِنۡ رَّبِّكَ اِلٰى فِرۡعَوۡنَ وَمَلَا۟ئِهٖؕ اِنَّهُمۡ كَانُوۡا قَوۡمًا فٰسِقِيۡنَ ۞

ترجمہ:

آپ اپنا ہاتھ اپنے گریبان میں ڈالیے وہ بغیر کسی عیب کے سفید چمکتا ہوا باہر نکلے گا ‘ اور خوف (دُور کرنے) کے لیے اپنے بازو اپنے ساتھ ملا لیں ‘ پس آپ کے رب کی طرف سے یہ دو معجزے فرعون اور اس کے درباریوں کی جانب ہیں ‘ بیشک وہ فاسق لوگ ہیں

اس کے بعد فرمایا : آپ اپنا ہاتھ اپنے گریبان میں ڈالیے وہ بغیر کسی عیب کے چمکتا ہوا باہر نکلے گا اور خوف ( دُور کرنے) کے لیے اپنا بازو اپنے ساتھ ملالیں۔ پس آپ کے رب کی طرف سے یہ دو معجزے فرعون اور اس کے درباریوں کی جانب ہیں۔ بیشک وہ فاسق لوگ ہیں۔ (القصص : ٢٣) 

اس آیت کا معنی یہ ہے کہ اگر آپ کو اپنے ہاتھ کی چمک اور شعاعوں سے خوف ہو تو اپنے ہاتھ کو پھر گریبان میں ڈال لیں وہ پھر اپنی پہلی حالت میں واپس آجائے گا۔ عطا نے حضرت ابن عباس (رض) سے روایت کیا ہے کہ جس شخص کو بھی کسی چیز سے خوف لاحق ہو اور وہ اپنے بازو کو اپنے ساتھ ملا لے تو اس کا خوف جاتا رہے گا۔ (معالم التنزیل ج ٣ ص ٤٣٥‘ داراحیاء التراث العربی بیروت ‘ ٠٢٤١ ھ)

القرآن – سورۃ نمبر 28 القصص آیت نمبر 32