بلال آشفتہ حال

حضرت بلال حبشی رضی اللہ تعالیٰ عنہ مؤذن ِرسولﷺ کا واقعہ ہے کہ آپ ملک شام فتح ہونے کے بعد دربارِ فاروقی میں عرض گزار ہوئے کہ اگر آپ اجازت مرحمت فرمائیں تو مدینہ طیبہ سے بیت المقدس جاکر سکونت پزیر ہو جائوں۔ کیونکہ جس محبوب ِدل نواز کے رخ ِزیبا کی زیارت قلب ِمحزون کا علاج تھی اب تو وہ خاکی چادر اوڑھے ہوئے محو خواب ہیں۔ انہوں نے اپنا چہرہ چھپا لیا ہے تو عشاق کے لئے اضطراب کاعالم طاری ہوگیا۔ مسجد نبوی کے بام و در، دیکھیں محراب و منبر پر نظر اٹھے گی تو ان کیلئے تڑپ جائوں گا۔ قلب محزون کو کیسے سمجھائوں گا، تسلی کا سامان کہاں سے پائوں گا کبھی کبھی عشق وآگہی کی راہ میں دوری بھی اختیار کرنی پڑتی ہے مگر کب ؟ جب عشق کا کمال رفعت بلال حاصل کرلے۔

بلال آشفتہ حال کو امیر المومنین حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے ملک شام جانے کی اجازت دے دی۔ بلال کو امیر پرُ جلال سے زیادہ کون پہچانے۔ ایک دکھیارے کے دکھ کو دوسرا دکھیارا ہی سمجھے، یہی امیر المومنین عمر فاروق ہیں۔ حبِّ رسول کا نشہ ان کی روح ودل میں اتنی گہرائیوں تک اترا ہوا ہے کہ سرکار کے وصال کی خبر سن کر تلوار کھینچ لیتے ہیں اور لہراتے ہوئے کہتے جاتے ہیں اگر کسی نے کہاکہ رسول وصال فرماگئے تومیں اس کی گردن اڑادوں گا۔ کوئی تاویل کرے کہ یہ کونسا جذبہ ہے ؟یہ کونسی سرشاری ہے ؟ جن صحابۂ کرام کی نگاہوں کے سامنے قرآن فرقان لیکر حضرت جبرئیل امین علیہ السلام آیا کرتے تھے، ملائکہ مقربین جن کی تعلیم و تادیب کے احکام لیکر اترا کرتے تھے ان قرآنی نمونوں میں سے کسی نے حضرت عمر کا ہاتھ نہیں پکڑا، راستہ نہیں روکا۔ نبی رحمت اکی رحلت کا صدمہ ذہن و دماغ کو چرکے دے گیا، مگراسی رسول کریم و حکیم نے انہیں تربیت کے سانچے میں بھی اتارا تھا۔ عشق وہ بھی تھا جو عقل و شعور کو کچھ دیر کیلئے جھنجھوڑ گیا۔ اور وہ بھی عشق ہی تھا جس نے طمانیت کی چادر اوڑھ لی۔ جو عمر(رضی اللہ عنہ) غم مصطفیٰ امیں اپنے آپ کو سنبھال نہ پارہے تھے، آج پوری امت کو سنبھالے ہوئے ہیں۔ نیابت رسول کی عظیم ذمہ داری کو اٹھا ئے ہوئے ہیں اور منہاج نبوت پر عالم اسلام کی رہبری کررہے ہیں ؎

مرحبا اے عشق خوش سودائے ما اے دوائے جملہ علت ہائے ما

حضرت سیدنا بلال کے دل کا حال امیر المومنین کو خوب معلوم ہے۔ انہوں نے اجازت دے دی اور بلال شام میں سکونت پذیر ہوگئے۔ مگر تصور کی نگاہیں مدینہ کو کہاں چھوڑ تی ہیں۔ انہیں کی یاد، انہیں کا خیال، اور انہیں کی یاد میں انہماک ؎

ہوگئی دل کو تری یاد سے اک نسبت خاص اب تو شاید ہی میسر کبھی تنہائی ہو

شب و روز عاشق رسول کو اس طرح کھویا کھویا دیکھا ہوگا تو اہل اخلاص نے مشورہ کیا ہوگاکہ حضرت بلال( رضی اللہ تعالیٰ عنہ) کیلئے دلجوئی کا کوئی سامان کیا جائے چنانچہ آپ کا نکاح بھی ہوگیامگر در نبوی کی نورانیت اور رحمتوں کی بارش کا کیف حضرت بلال کیسے فراموش کر سکتے ہیں ؟

ایک شب محو خواب تھے کہ ان کو روحی فدا ہ حضور ا کی زیارت نصیب ہوئی سرکار ﷺ نے پوچھا۔ ’’اے بلال! کیا اب میری زیارت کو نہیں آئوگے ؟ اللہ! اللہ! معلوم نہیں کہ ان کے اس فرمان میں کیا تاثیر پنہا ں تھی کہ بلال کی آنکھ کھل گئی روح ودل سے ایک ہی صدا آرہی تھی۔

شکر ایزد کہ بلایا شہ دیں نے حافظ للہ الحمدکہ محبوب کا پیغام آیا

حضرت بلال کو اب چین کہاں۔ ؟ فورا ًاٹھے اور دیار نبیﷺ کی جانب چل پڑے مدینہ طیبہ میں وارد ہوئے تو رحمت ونور کی وہی گلیا ں، کیف وسرور کی وہی بھینی بھینی خشبو مگر جس مرکز خیرات و حسنات کا یہ سب صدقہ و طفیل ہے وہ تو نظر آتے نہیں تیز تیز قدموں سے بڑھے اور حضور اقدسﷺ کے مواجہہ مقدسہ میں حاضر ہوگئے دھڑکتے دل دھکتے سینے اور بہتی ہوئی آنکھوں سے صلوٰۃ وسلام پیش کیا۔ اور روضۃ الرسولﷺ سے لپٹ گئے اور جی بھر کر روئے۔ جگر گو شہائے رسول اسیدنا امام حسن وحسین رضی اللہ عنہما نے خادم رسول بلال کو دیکھا تو نانا جان کا زمانہ یاد آگیا۔ سیدنا بلال ان دونوں نونہالوں کو گود میں کھلا تے تھے۔ کاندھے پر بٹھا تے تھے انگلیاں پکڑ کر چلاتے تھے دونوں بڑھکر حضرت بلال سے لپٹ گئے اے نانا جان کے پیارے مؤذن! کیا دَور نبوی کی اذان اب ہم کبھی نہ سنیں گے ؟نماز کا وقت ہو چلا ہے آئیے آج آپ اذان کہیے! بلال کُشتہ جگر آزمائش میں مبتلا ہوگئے۔

جنتی جوانوں کے سردار کا حکم ٹالا بھی تو نہیں جاسکتا۔ وقت اذان بلال کو رسول کائناتﷺ کا جمال جہاں آراسامنے چاہیئے اذان خانہ پر حضرت بلال کھڑے کردیئے گئے اور مدینہ طیبہ کی فضاء میں مؤذنِ رسول اکی اذان کا پہلا کلمہ گونجا قلوب کانپ اٹھے دلوں میں برچھیاں چبھ گئیں، اذان بلال کے ساتھ ہی عہد رسول ﷺ کا تصور زندہ ہوگیا اللہ اکبر کی آواز محراب ِنبی میں بلند کرکے ایمان و عرفان کی فصل بہار لانے والے رسول کا زمانہ یاد آگیا۔ جس نے جہاں سے اذانِ بلالی سنی وہیں سے دوڑ پڑا زمانۂ رسول لوٹ آیا دَور نبوی عود کر آیا، بلال کی اذان نے دلوں میں دبی ہوئی عشق رسول کی چنگاریوں کو کرید ڈالا، محبت کی آتش پاکیزہ بھڑک اٹھی، بازار مدینہ میں غوغا مچ گیا کھیتوں کے کام رک گئے اور پردہ نشینانِ مدینہ بے خود ہوکر محبوب رب العالمین کے عشق میں گھروں سے نکل پڑیں،حضرت بلال نے اذان میں’’ اَشْہَدُ اَنْ لاَّ اِلٰہَ اِلَّااللّٰہُ‘‘کہا اور آواز بھرّا گئی کیونکہ حضورﷺکے زمانہ میں جب وہ ’’اَشْہَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللّٰہِ‘‘ پر پہنچتے تو اپنی شہادت کی انگلی سے حضورﷺ کی جانب اشارہ کیا کرتے تھے۔ آج جب عاشق رسول نے’’ اَشْہَدُ اَنَّ مُحَمَّدًارَّسُوْلُ اللّٰہِ‘‘کہا اور آنکھیں کھولیں تو حضور اکو نہ پایا تو دل بیٹھ گیا آواز رک گئی اور بلال اذان پوری نہ کرسکے، غش کھاکر گرگئے، حضرت بلال کا یہ سفر کس مقصد کیلئے تھا محض زیارت رسول کیلئے۔ سبحان اللّٰہ !