حدیث نمبر 518

روایت ہے حضرت نافع سے فرماتے ہیں کہ میں مکہ معظمہ میں حضرت ابن عمر کے ساتھ تھا آسمان ابرآلود تھا آپ نے صبح کا خوف کیا تو ایک رکعت سے وتر پڑھی ۱؎ پھر بادل کھل گیا تو دیکھا کہ ابھی آپ پر رات ہے تو ایک رکعت سے شفعہ بنادیا۲؎ پھر دو رکعتیں پڑھتے رہے جب صبح کا خوف ہوا تو ایک رکعت سے وتر پڑھی ۳؎(مالک)

شرح

۱؎ اس طرح کہ دو رکعت سے ایک رکعت ملا دی جس سے وہ نماز وتر بن گئی اور اگر یہ معنی ہیں کہ ایک رکعت وتر پڑھی تو یہ ان کا اپنا اجتہاد ہے حضرت عمر رضی اللہ عنہ جو ان سے زیادہ فقیہ ہیں تین وتر پڑھتے تھے۔

۲؎ یعنی تیسری رکعت میں انہیں پتہ لگا کہ ابھی رات زیادہ ہے تو اس ہی میں ایک رکعت اور ملا کر چار ر کعت پڑھ لیں جو تہجد کے نفل ہوگئے یہ بھی حضرت ابن عمر کا اجتہاد ہے ورنہ وتر واجب ہیں انہیں شروع کرکے دیددہ و دانستہ نفل نہیں بنایا جاسکتا آپ نے یہ عمل کیا اس لیئے تاکہ وتر آخری نماز رہے اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان پر عمل ہوجاوے۔

۳؎ یہاں ایک شب میں دو وتر نہ ہوئے جو ممنوع ہے بلکہ پہلی بار کے وتر تو نفل بنادیئے تھے ا ب یہ نماز وتر ہوئی اور اس کے معنی یہ ہی ہیں کہ آپ نے ایک رکعت دو سے ملا کر تین وتر پڑھے،ب استعانت کی ہے۔