أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

فَاَصۡبَحَ فِى الۡمَدِيۡنَةِ خَآئِفًا يَّتَرَقَّبُ فَاِذَا الَّذِى اسۡتَـنۡصَرَهٗ بِالۡاَمۡسِ يَسۡتَصۡرِخُهٗ‌ ؕ قَالَ لَهٗ مُوۡسٰٓى اِنَّكَ لَـغَوِىٌّ مُّبِيۡنٌ ۞

ترجمہ:

پس موسیٰ نے اس شہر میں ڈرتے ہوئے اس انتظار میں صبح کی (کہ اب کیا ہوگا) پس اچانک ہی شخص جس نے کل ان سے مدد طلب کی تھی ‘ پھر ان کو مدد کے لیے پکار رہا تھا ‘ موسیٰ نے اس سے کہا بشک تو کھلا ہوا گمراہ ہے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : پس موسیٰ نے اس شہر میں ڈرتے ہوئے اس انتظار میں صبح کی ( کہ اب کیا ہوگا) پس اچانک وہی شخص جس نے کل ان کی مدد طلب کی تھی ‘ پھر ان کو مدد کے لیے پکار رہا تھا ‘ موسیٰ نے اس سے کہا بیشک تو کھلا ہوا گمراہ ہے۔ پھر جب موسیٰ نے اس شخص کو پکڑنا چاہا جو ان دونوں کا دشمن تھا تو اس نے (غلط فہمی سے) کہا : اے موسیٰ کیا تم آج مجھ کو قتل کرنا چاہے ہو ‘ جس طرح کل تم نے اس شخص کو قتل کردیا تھا ! تم تو صرف یہی چاہتے ہو کہ تم اس شہر میں زبردست ( داداگیر) بن جاؤ اور تم مصلحین میں سے نہیں بننا جاہتے۔ (القصص : ۱۹۔ ۱۸)

اپنی جماعت کے اسرائیلی کو کھلا ہوا گمراہ کہنے کی توجیہ 

جب حضرت موسیٰ کے گھونسے سے وہ فرعونی ہلاک ہوگیا تو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے خوف کی حالت میں اس دن کے بعد صبح کی ‘ آپ کو یہ خدشہ تھا کہ اگر فرعون اور اس کے درباریوں کو یہ معلوم ہوگیا کہ آپ کے ہاتھ سے وہ فرعونی مارا گیا ہے تو آپ کو گرفتار کرلیا جائے گا ‘ پس دوسرے دن آپ چھپتے ہوئے نکلے ‘ اچانک آپ کیا دیکھتے ہیں کہ وہی کل والا اسرائیلی جس نے گزشتہ کل آپ سے مدد طلب کی تھی ‘ وہ پھر مدد کے لیے چلا رہا ہے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اس سے فرمایا تو کھلا ہوا گمراہ ہے۔

اگر یہ اعتراض کیا جائے کہ وہ شخص حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی جماعت کا فرد تھا تہ آپ نے اس کو کھلا ہوا گمراہ کیوں فرمایا ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی قوم سخت بےو قوف اور احمق تھی ‘ انہوں نے اس پر دلائل کا مشاہدہ کرلیا تھا کہ اللہ تعالیٰ کا کوئی شریک نہیں ہے اس کے باوجود انہوں نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے کہا تھا : اجعل لنا الھا کما لھم الھہ ط (الاعراف : ٨٣١) ہمارے لیے بھی ایسا خدا بنادیں جیسا ان لوگوں کا خدا ہے۔

تو غوی مبین سے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی مراد یہ تھی کہ تم جاہل اور احمق ہو۔ دوسرا جواب یہ ہے کہ جو شخص ہر روز کسی سے جھگڑا کرے وہ کھلا ہوا گمراہ ہی ہوگا۔

اسرائیلی نے حضرت موسیٰ کو جبار ( داداگیر) کیوں کہا تھا 

پھر جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے ان کے مشترک دشمن کو پکڑنا چاہا تو اس اسرائیلی نے غلط فہمی سے یہ سمجھا کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اس کو پکڑ رہے ہیں اس لیے اس نے کہا آپ تو اس شہر میں جبار یعنی رور اور زبردستی کرنے والے ‘ بننا چاہتے ہیں جس کو ہمارے عرف میں دادا گیر کہتے ہیں اور اس اسرائیلی کا حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو جبار یعنی داداگیر کہنا اس پر دلالت کرتا ہے کہ وہ داراصل کافر تھا۔ جبار سے مراد وہ شخص ہے جو جس کو چاہے مارے پیٹے یا قتل کر دے اور جس پر جو چاہے ظلم کرے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 28 القصص آیت نمبر 18