أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

فَرَدَدۡنٰهُ اِلٰٓى اُمِّهٖ كَىۡ تَقَرَّ عَيۡنُهَا وَلَا تَحۡزَنَ وَلِتَعۡلَمَ اَنَّ وَعۡدَ اللّٰهِ حَقٌّ وَّلٰـكِنَّ اَكۡثَرَهُمۡ لَا يَعۡلَمُوۡنَ۞

 ترجمہ:

سو ہم نے موسیٰ کو اس کی ماں کی طرف لوٹا دیا تاکہ اس کی آنکھیں ٹھنڈی ہوں اور وہ غم نہ کرے اور وہ یقین کرلے کہ اللہ کا وعدہ برحق ہے لیکن ان کے اکثر لوگ نہیں جانتے

اکثر لوگوں کے نہ جاننے کو محامل 

اکثرلوگوں کے نہ جاننے کے حسب ذیل محامل ہیں :

(١) اس زمانہ میں اور اس کے بعد بھی اکثر لوگ اس لیے نہیں جانتے تھے کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ کی آیتوں میں غور و فکر کرنے سے اعراض کرتے تھے۔

(٢) ضحاک اور مقاتل نے کہا کہ اہل مصر کو یہ علم نہیں تھا کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ کی ماں سے یہ وعدہ کیا ہے کہ وہ حضرت موسیٰ کو ان کی طرف لوٹا دیں گے۔

(٣) اس آیت میں اگرچہ یہ فرمایا ہے کہ اکثر لوگ یہ نہیں جانتے تھے کہ اللہ تعالیٰ اپنا وعدہ پورا فرمانے والا ہے اور نہ جاننے کی نسبت لوگوں کی طرف کی ہے لیکن در حقیقت یہ حضرت موسیٰ کی ماں کی طرف تعریض ہے صارحتاً نہ جاننے کی نسبت لوگوں کی طرف ہے اور مراد وہ ہیں کیونکہ حضرت موسیٰ کے فرعون کے پاس پہنچنے کے بعد ان کو بہت غم ہوا تھا اور وہ حضرت موسیٰ کے متعلق بہت فکرمند تھیں جب کہ اللہ تعالیٰ کے وعدہ کرنے کی وجہ سے ان کو مطمئن ہوجانا چاہیے تھا کہ اللہ تعالیٰ حضرت موسیٰ کو جلد ان سے ملا دے گا ‘ لیکن بہرحال ماں کی مامتا بھی ایک طبعی تقاضوں کو ختم کرنے پر قادر نہیں تھیں۔

(٤) اس کا معنی یہ ہے کہ ہم نے موسیٰ کو ان کی طرف لوٹا دیا تاکہ ان کو یقین ہوجائے کہ اللہ تعالیٰ کا وعدہ برحق ہے ‘ حضرت موسیٰ کو ان کی طرف واپس کرنے سے اصل مقصود ایک دینی غرض تھی اور وہ یہ تھی کہ فرعوں کا منصوبہ ناکام ہوجائے ‘ لیکن اکثر لوگ یہ نہیں جانتے تھے کہ اصل مقصود کیا تھا ‘ اور اللہ تعالیٰ نے جو یہ فرمایا تھا کہ حضرت موسیٰ کی ماں کا غم دور ہوجائے اور ان کی آنکھیں ٹھنڈی ہوجائیں ‘ ان کا ذکر بالتبع تھا۔

ضحاک نے بیان کیا ہے کہ حضرت موسیٰ نے اپنے ماں کے دودھ کو قبول کرلیا تو ہامان نے ان سے کہا تم ضرور اس بچہ کی ماں ہو ‘ انہوں نے کہا نہیں ! اس نے کہا پھر کیا وجہ ہے کہ اس بچہ نے تمہارے سوا اور کسی کا دودھ قبول نہیں کیا۔ انہوں نے کہا اے بادشاہ ! میں صاف ستھری اور خوشبو لگانے والی عورت ہوں ‘ اور میرا دودھ میٹھا ہے ‘ یہی وجہ ہے کہ اس بچہ نے مجھے سونگھتے ہی میرے دودھ کو قبول کرلیا۔ فرعونیوں نے کہا تم نے سچ کہا ہے ‘ پھر آل فرعون کے تمام لوگوں نے حضرت موسیٰ کی مان کو سونے اور جواہر کے ہدیے اور تحائف دئے۔ (تفسیر کبیر ج ٨ ص ٣٨٥۔ ٢٨٥‘ مطبوعہ داراحیاء التراث العربی بیروت ‘ ٥١٤١ ھ)

فرعون کی بیوی اور حضرت موسیٰ کی بہن کے فضائل اور جنت میں ان کا ہمارے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے نکاح میں ہونا 

حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے زمین میں چار خطوط کھینچے ‘ پھر آپ نے فرمایا تم جانتے ہو یہ کیسے خطوط ہیں ؟ مسلمانوں نے کہا اللہ اور اس کا رسول ہی زیادہ جاننے والے ہیں ‘ پس رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اہل جنت کی عورتوں میں سب سے افضل خدیجہ بنت خویلد ہیں ‘ اور فاطمہ بنت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہیں ‘ اور مریم ابنۃ عمران ہیں اور آسیہ بنت مزاحم ہیں جو فرعون کی بیوی ہیں۔ (مسند احمد ج ا ص ٣٩٢‘ المعجم الکبیر رقم الحدیث : ٨٢٩١١‘ مسند ابو یعلیٰ رقم الحدیث : ٢٢٧٢‘ المستد رک ج ٣ ص ٥٨١‘ حافظ ذہبی نے کہا یہ حدیث صحیح ہے ‘ حافظ الہیشمی نے بھی کہا اس کی سند صحیح ہے ‘ مجمع الزوائد ج ٩ ص ٣٢٢ )

حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جنت کی عورتوں کی سردار مریم بنت عمران ہیں ‘ پھر فاطمہ بنت محمد ہیں ‘ پھر خدیجہ ہیں ‘ پھر آسیہ ہیں فرعون کی بیوی۔ ( المعجم الکبیر رقم الحدیث : ٨٧١٢١“ المعجم الاوسط رقم الحدیث : ١١١١‘ المستدرک ج ٤ ص ٣٣۔ ٢٣‘ مجمع الزوائد رقم الحدیث : ١٧٢٥١ )

حضرت سعد بن جنادہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا بیشک اللہ عزوجل نے مریم بنت عمران ‘ فرعون کی بیوی اور حضرت موسیٰ کی بہن سے میرا نکاح کردیا۔ ( المعجم الکبیر رقم الحدیث : ٥٨٤٥‘ مجمع الزوائد رقم الحدیث : ٧٤٢٥ )

حافظ الہیثمی نے اس مضمون کی امام طبرانی سے دو اور حدیثیں نقل کی ہیں مگر دونوں کے متعلق لکھا ہے ‘ ان میں ضعیف راوی ہیں۔

القرآن – سورۃ نمبر 28 القصص آیت نمبر 13