أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

فَلَمَّا جَآءَهُمۡ مُّوۡسٰى بِاٰيٰتِنَا بَيِّنٰتٍ قَالُوۡا مَا هٰذَاۤ اِلَّا سِحۡرٌ مُّفۡتَـرًى وَّمَا سَمِعۡنَا بِهٰذَا فِىۡۤ اٰبَآئِنَا الۡاَوَّلِيۡنَ ۞

ترجمہ:

سو جب موسیٰ ہماری کھلی کھلی نشانیاں لے کر ان کے پاس پہنچے تو انہوں نے کہا یہ تو صرف ایک گھڑا ہوا ( مصنوعی) جادو ہے ‘ اور ہم نے اپنے باپ دادا کے زمانہ میں ان باتوں کو نہیں سنا

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : سو جب موسیٰ ہماری کھلی کھلی نشانیاں لے کر ان کے پاس پہنچے تو انہوں نے کہا یہ تو صرف ایک گھڑا ہوا (مصنوعی) جادو ہے ‘ اور ہم نے اپنے پہلے باپ دادا کے زمانہ میں ان باتوں کو نہیں سنا۔ اور موسیٰ نے کہا میرا رب خوب جانتا ہے کہ کون اس کے پاس سے ہدایت لے کر آیا ہے اور کس کے لیے اچھا اخروی انجام ہے ‘ بیشک ظالم لوگ فلاح نہیں پاتے۔ ( القصص :36-37

حضرت موسیٰ کا فرعون کے دربار میں اللہ کا پیغام پہنچانا اور فرعون کا تکبر سے اس کو رد کردینا 

اللہ تعالیٰ بیان فرما رہا ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت ہارون (علیہ السلام) فرعون اور اس کے درباریون کی طرف گئے اور ان کے سامنے اللہ تعالیٰ کے عطا کیے ہوئے قوی معجزات اور مستحکم دلائل پیش کیے اور ان کو اللہ تعالیٰ کی توحید اور اس کے احکام کی اطاعت کرنے کی دعوت دی ‘ جب فرعون اور اس کے دربایوں نے یہ پیغام سن لیا اور معجزات کا مشاہدہ کرلیا اور ان کو اپنے دلوں میں یقین ہوگیا کہ حضرت موسیٰ سچے نبی ہیں اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے پیغام پہنچانے والے ہیں ‘ پھر بھی ان کے دلوں میں کفر راسخ ہوچکا تھا اور اپنے باب دادا کی اندھی تقلید پر وہ سالہا سال سے چلے آ رہے تھے اور فرعون لوگوں کے سامنے اپنی جھوٹی عزت اور رعب قائم رکھنا چاہتا تھا اس لیے اس نے حق کو ماننے اور قبول کرنے سے انکار کیا اور حضرت موسیٰ کو سچا مان لینے میں اپنی ہتک محسوس کی اس لیے اس نے تکبر اور سرکشی سے کہا یہ تو صرف مصنوعی اور بناوٹی جادو ہے اور ہم نے اپنے پہلے باپ دادا کے زمانہ میں یہ نہیں سنا کہ اللہ وحدہ لاشریک ہے ‘ ہم تو یہی سنتے چلے آئے ہیں کے اور خدا بھی اللہ تعالیٰ کے ساتھ اس کی خدائی میں شریک ہیں۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اس کے جواب میں فرمایا میری اور تمہاری یہ نسبت اللہ تعالیٰ بہت زیادہ جاننے والا ہے کہ کون اس کے پاس سے ہدایت لے کر آیا ہے اور وہ عنقریب میرے اور تمہارے درمیان فیصلہ کر دے گا کہ انجام کار کس کو کامیابی نصیب ہوتی ہے اور بیشک ظالم لوگ یعنی اللہ کے شریک ٹھہرانے والے فلاح نہیں پاتے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 28 القصص آیت نمبر 36