أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

فَلَمَّا قَضٰى مُوۡسَى الۡاَجَلَ وَسَارَ بِاَهۡلِهٖۤ اٰنَسَ مِنۡ جَانِبِ الطُّوۡرِ نَارًا‌ۚ قَالَ لِاَهۡلِهِ امۡكُثُوۡۤا اِنِّىۡۤ اٰنَسۡتُ نَارًا‌ لَّعَلِّىۡۤ اٰتِيۡكُمۡ مِّنۡهَا بِخَبَرٍ اَوۡ جَذۡوَةٍ مِّنَ النَّارِ لَعَلَّكُمۡ تَصۡطَلُوۡنَ‏ ۞

ترجمہ:

پھر جب موسیٰ نے (اجارہ کی) میعاد پوری کردی اور اپنی اہلیہ کے ساتھ روانہ ہوئے تو انہوں نے (پہاڑ) طور کی جانب ایک آگ دیکھی ‘ انہوں نے اپنی اہلیہ سے کہا تم لوگ یہاں ٹھہرو ‘ میں آگ دیکھی ہے شاید میں اس کی کوئی خبر لاؤں یا آگ کا کوئی انگارہ لاؤں جس سے تم ہاتھ تاپو

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : پھر جب موسیٰ نے (اجارہ کی) میعاد پوری کردی اور اپنی اہلیہ کے ساتھ روانہ ہوئے تو انہوں نے (پہاڑ) طور کی جانب ایک آگ دیکھی ‘ انہوں نے اپنی اہلیہ سے کہا تم لوگ یہاں ٹھہرو ! میں آگ دیکھی ہے شاید میں اس کی کوئی خبر لاؤں یا آگ کا کوئی انگارہ لاؤں جس سے تم ہاتھ تاپو۔ پھر جب موسیٰ آگ کے پاس پہنچے تو انہیں اس وادی کے دائیں کنارے پر برکت والی زمین کے ٹکڑے سے ‘ ایک درخت سے نداء کی گئی کہ اے موسیٰ ! بیشک میں ہی اللہ رب الٰعل میں ہوں۔ اور یہ (بھی آواز آئی) کہ آپ اپنا عصا ڈال دیں ‘ پھر جب موسیٰ نے اس کو سانپ کی طرح لہراتے ہوئے دیکھا تو وہ پیٹھ پھیر کر چل دئیے اور واپس مڑ کر نہ دیکھا ‘( ہم نے کہا) اے موسیٰ آگے بڑھیے اور خوف زدہ نہ ہوں ‘ بیشک آپ مامون رہنے والوں میں سے ہیں۔ آپ اپناہاتھ اپنے گریبان میں ڈالیے وہ بغیر کسی عیب کے سفید چمکتا ہوا باہر نکلے گا ‘ اور خوف (دُور کرنے) کے لیے اپنے بازو اپنے (سینہ) ساتھ ملا لیں ‘ پس آپ کے رب کی طرف سے یہ دو معجزے فرعون اور اس کے درباریوں کی جانب ہیں ‘ بیشک وہ فاسق لوگ ہیں۔ (القصص : ۳۲۔ ۲۹)

حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے کلام اللہ سننے کی کیفیت 

فرمایا اور جب موسیٰ نے ( اجارہ کی) معیاد پوری کردی اور اپنے اہلیہ کے ساتھ روانہ ہوئے۔ ( القصص ؛ ٢٩) ہم اس سے پہلے مسند البز ارد غیرہ کے حوالے سے بیان کرچکے ہیں کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے زیادہ مدت پوری کی تھی یعنی دس سال ‘ اور حضرت شعیب (علیہ السلام) نے اپنی چھوٹی بیٹی صفورا کا حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھ نکاح کیا تھا۔ حافظ ابن عسا کر متوفی ١٧٥ ھ نے بھی اس حدیث کو روایت کیا ہے۔ (تاریخ دمشق الکبیر رقم الحدیث : ٤٥٧٣١‘ ٣٥٧٣١، ٢٥٧٣١‘ ١٥٧٣١‘ ٠٥٧٣١‘ ٩٤٧٣١‘ داراحیاء التراث العربی بیروت ‘ ١٢٤١ ھ)

حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اپنی اہلیہ کو لے کر مدین سے روانہ ہوئے ‘ اس سے معلوم ہوا کی شوہر کو اختیار ہے وہ اپنی بیوی کو اس کے گھر سے جہاں چاہے لے جائے۔

حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے پہاڑ طور کی جانب ایک آگ دیکھی ‘ ہم اس سے پہلے سورة طٰہٰ میں بیان کرچکے ہیں کہ وہ صحراء میں ایک اندھیری اور سرد رات تھی ‘ سخت تیز ہوا چل رہی تھی ‘ ان کی بکریاں ادھر ادھر منتشر ہوگئیں ‘ پھر بارش بھی شروع ہوگئی ایسے میں ان کو دور سے آگ نظر آئی ‘ وہ اپنی منزل کا راستہ بھول چکے تھے ‘ آگ دیکھ کر انہوں نے کہا میں اس کی روشنی میں راستہ کا پتا کرکے آتا ہوں ‘ یا کچھ انگارے لے کر آتا ہوں جس سے ہاتھ تاپ کر تم سردی دور کرسکو۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 28 القصص آیت نمبر 29