أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

قَالَتۡ اِحۡدٰٮہُمَا يٰۤاَبَتِ اسْتَاْجِرۡهُ‌ ۖ اِنَّ خَيۡرَ مَنِ اسۡتَـاْجَرۡتَ الۡقَوِىُّ الۡاَمِيۡنُ‏ ۞

ترجمہ:

ان دونوں خواتیں میں سے ایک نے کہا اے ابا جان ! آپ ان کو اجرت پر رکھ لیجئے ‘ بیشک آپ جس کو اجرت پر رکھیں گے ان میں بہترین وہی ہے جو طاقت ور اور امانت دار ہو۔

ان دونوں لڑکیوں میں اس ایک نے کہا اے ابا جانا آپ ان کو اجرت پر رکھ لیجیے بیشک آپ جس کو اجرت پر رکھیں گے ان میں بہترین وہی ہے جو طاقت ور اور ایماندار ہو۔ حضرت شعیب نے پوچھا تمہیں کیسے معلوم ہوا کہ یہ طاقت ور اور ایماندار ہیں ؟ اس پر انہوں نے کہا جس کنوئیں سے انہوں نے پانی پلایا تھا اس پر اتنا بھاری پتھر رکھا ہوتا ہے کہ دس آدمی مل کر اس پتھر کو اٹھا تے ہیں لیکن انہوں نے اکیلے ہی اس پتھرکو اٹھا لیا تھا۔ یہ ان کے طاقت ور ہونے کی دلیل ہے ‘ اور ان کے ایمان دار اور متقی ہونے کی دلیل یہ ہے کہ راستہ بتانے کے لیے میں ان کے آگے آگے چل رہی تھی ‘ ہوا سے بار بار میر چادر اڑ جاتی تھی تو انہوں نے کہا : تم پیچھے پیچھے چلو میں آگے آگے چلتا ہوں تاکہ میری نظر تمہارے جسم کے کسی حصہ پر نہ پڑے اور راستہ کی نشان دہی کے لیے پیچھے سے کوئی پتھر یا کنکری مار دیا کرو۔ ( تفسیر امام ابن ابی حاتم رقم الحدیث : ٣٤٨٦١‘ ٣٥٨٦١‘ مطبوعہ مکتبہ نزارمصطفی مکہ مکرمہ ٨١٤١ ھ ‘ تاریخ دمشق الکبیرج ٤٦ ص ٨٢‘ داراحیاء التراث العربی بیروت ١٢٤١ ھ)

القرآن – سورۃ نمبر 28 القصص آیت نمبر 26