أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

قَالَ رَبِّ اِنِّىۡ قَتَلۡتُ مِنۡهُمۡ نَفۡسًا فَاَخَافُ اَنۡ يَّقۡتُلُوۡنِ ۞

ترجمہ:

موسیٰ نے کہا اے میرے رب ! بیشک میرے ہاتھ سے ان کا ایک آدمی قتل ہوگیا تھا سو مجھے خطرہ ہے کہ وہ مجھے قتل کردیں گے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : موسیٰ نے کہا اے میرے رب ! بیشک میرے ہاتھ سے ان کا ایک آدمی قتل ہوگیا تھا سو مجھے خطرہ ہے کہ وہ مجھے قتل کردیں گے۔ اور میرے بھائی ہارون مجھ سے زیادہ روانی سے بولنے والے ہیں تو ان کو میری مدد کے لیے رسول بنا دے وہ میری تصدیق کریں گے ‘ کیونکہ مجھے اندیشہ ہے کہ وہ میری تکذیب کریں گے۔ فرمایا ہم عنقریب آپ کے بازو کو آپ کے بھائی کے ساتھ مضبوط کریں گے اور ہم آپ دونوں کو غلبہ عطا کریں گے سو وہ آپ دونوں تک نہیں پہنچ سکیں گے ‘ ہماری نشانیوں کے سبب سے آپ دونوں اور آپ کے متبعین غالب رہیں گے۔ (القصص : ۳۷۔ ٣٣)

حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو معجزات سے تسلی دے کر فرعون کی طرف روانہ کرنا 

حافظ اسماعیل بن عمر بن کثیر دمشقی متوفی ٤٧٧ ھ لکھتے ہیں :

حضرت موسیٰ کے ہاتھوں اے فرعونی مارا جا چکا تھا ‘ اور جب ان کو معلوم ہوا کہ اس وجہ سے فرعونی سردار ان کو قتل کرنے کی فکر میں ہیں تو حضرت موسیٰ مصر سے ہجرت کرکے مدین کی طرف چلے گئے تھے ‘ اب جب کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں فرعون کے پاس جا کر تبلیغ کرنے کا حکم دیا تو حضرت موسیٰ نے عرض کیا وہ لوگ تو میرے خون کے پیاسے ہیں ‘ ایسا نہ ہو کہ مجھے قصاص میں قتل کر ڈالیں ‘ پھر حضرت موسیٰ کو یاد آیا کہ جب بچپن میں انہوں نے فرعون کی ڈاڑھی نوچ کی تھی تو انہوں نے آزمائش کے لیے آپ کے سامنے ایک انگارہ اور ایک کھجور یا موتی رکھا تھا تو آپ نے انگارے کو منہ میں ڈال لیا تھا ‘ جس کی وجہ سے آپ کی زبان میں گرہ پڑگئی تھی اور آپ کو روانی سے بولنے کی دشواری ہوتی تھی ‘ اس لیے آپ نے اللہ سے دعا کی تھی کہ میری زبان کی گرہ کھول دے تاکہ لوگ میری بات سمجھ سکیں ‘ اور میرے بھائی ہارون کو میرا وزیر بنا دے ‘ ان سے میرا بازو مضبوط کر دے اور ان کو میر کار تبلیغ میں میرا شریک بنا دے تاکہ میں آسانی سے فریضہ رسالت ادا کرسکوں ‘ اور تیرے بندوں کو تیری عبادت کی طرف بلاسکوں ‘ اس جگہ میرے معاون اور میرے وزیر ہوجائیں۔ اس سے میرا بازو مضبوط ہوگا اور میرے دل کو تقویت ہوگی ‘ کیونکہ دو آدمیوں کی بات ایک آدمی کی بہ نسبت زیادہ موثر ہوتی ہے ‘ اور اگر میں نے تنہا فرعون اور اس کے حواریوں کو تبلیغ کی تو مجھے خطرہ ہے کہ وہ مجھے جھٹلا دیں گے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 28 القصص آیت نمبر 33